’کشمیر میں سب کچھ پہلے کی طرح ہی ہوگا‘

مودی نے کہا ہے کہ کشمیر میں سب کچھ ویسے ہی ہو گا جیسے پہلے ہوتا تھا۔ فوٹو: اے ایف پی
انڈیا کے وزیراعظم نریندر مودی نے جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کو ’ایک تاریخی فیصلہ‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ جموں و کشمیر کے لوگوں کے لیے ایک نئی ابتدا ہے۔
انڈیا کے زیرانتظام کشمیر میں آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد پہلی بار قوم سے اپنے خطاب میں مودی نے کہا کہ جموں و کشمیر کچھ وقت تک یونین حکومت کا حصہ رہے گا لیکن اس کے بعد وہاں شفاف الیکشن کروائے جائیں گے۔ ’ہم چاہتے ہیں کہ جموں و کشمیر میں الیکشن ہوں، نئی اسمبلی بنے۔ میں کشمیر کے لوگوں کو یقین دلاتا ہوں کہ آپ کو اپنے نمائندے چننے کا حق ملے گا۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ کشمیر میں سب کچھ ویسے ہی ہوگا جیسے پہلے ہوتا تھا، وہاں کا اپنا وزیراعلیٰ ہوگا۔
ان کے مطابق گذشتہ برسوں کے دوران کشمیر میں 42 ہزار معصوم لوگ مارے گئے مگر اب کشمیر اور لداخ کا مستقبل محفوظ ہوگا۔
انڈین وزیراعظم نے یہ بھی کہا کہ جموں و کشمیر کے لوگوں کو ماضی میں وہ حقوق نہیں ملے جو ملک کے دوسرے حصوں میں رہنے والوں کو مل رہے تھے کیونکہ جو قوانین پورے ملک کے لیے بنتے تھے وہ کشمیر میں لاگو نہیں ہوتے تھے۔


کشمیر کی آئینی حیثیت تبدیل ہونے کے بعد سے وہاں کرفیو لگا ہوا ہے۔ فوٹو: اے ایف پی

انڈین وزیراعظم کے بقول ’جو سارے ملک کی بیٹیوں کو حق ملتے ہیں وہ جموں و کشمیر کی بیٹیوں کو نہیں ملتے۔ دلتوں کے خلاف ظلم روکنے کے لیے ملک میں سخت قوانین لاگو ہیں مگر کشمیر میں ایسا نہیں تھا۔ اسی طرح مزدوروں کے لیے کم از کم تنخواہوں کا قانون ملک کے دوسرے حصوں میں لاگو ہے لیکن کشمیر میں یہ قانون صرف کاغذوں پر ہی لٹکا ہوا ملتا تھا۔ اب یہاں یہ تمام سہولتیں دی جائیں گی۔‘
مودی نے اپنے خطاب میں کہا کہ اب سرکاری اور نجی کمپنیاں کشمیر میں کام کریں گی جس سے مقامی نوجوانوں کو روزگار ملے گا۔  ’ایک وقت تھا جب بالی ووڈ کی فلمیں کشمیر میں بنتی تھیں، اب دنیا بھر کی فلم انڈسٹریاں یہاں آئیں گے۔ میں ہندی، تامل اور دیگر فلم انڈسٹریوں سے درخواست کروں گا کہ وہ جموں و کشمیر میں آئیں اور کام کریں۔ آئی ٹی کمپنیاں بھی یہاں آئیں، جس سے کشمیر کے لوگوں کی زندگی آسان ہوگی اور روزگار  کے مواقع پیدا ہوں گے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’کچھ مٹھی بھر لوگ جو وہاں حالات بگاڑنا چاہتے ہیں، ان کو محب وطن لوگ بھرپور جواب دے رہے ہیں۔ میں لوگوں کو یقین دلاتا ہوں کہ حالات آہستہ آہستہ ٹھیک ہو جائیں گے اور ان کی پریشانیاں ختم ہوں گی۔‘
انہوں نے مسلمانوں کو آنے والی عید کی مبارک باد بھی دی۔
خیال رہے کہ پیر 5 اگست کو انڈیا نے صدارتی حکم نامے کے ذریعے جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر دی تھی۔
انڈیا کے ایوان بالا میں کشمیر کے خصوصی اختیارات والے آرٹیکل 370 کو ختم کرنے کی تجویز پیش کی گئی تھے جس پر صدر نے پہلے ہی دستخط کر دیے تھے۔


پاکستان نے انڈیا کے اس فیصلے کو مسترد کر دیا تھا۔ فوٹو اے ایف پی

اس کے ساتھ ہی لداخ کو مرکز کے زیر انتظام علاقہ قرار دے دیا گیا تھا جہاں کوئی اسمبلی نہیں ہو گی جبکہ جموں و کشمیر بھی مرکز کے زیر انتظام ہوگا لیکن وہاں اسمبلی ہو گی۔
انڈیا کے وزیر داخلہ امیت شاہ نے پارلیمنٹ کو بتایا تھا کہ صدر جمہوریہ نے صدارتی فرمان پر دستخط کر دیے ہیں جس کے ذریعے آئین کے آرٹیکل 370 کے تحت ریاست کو حاصل خصوصی حیثیت ختم کرنے کا فیصلہ ہو گیا ہے۔
خصوصی حثیت ختم ہونے کے بعد کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔
پاکستان نے انڈین حکومت کی جانب سے جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے فیصلے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے مسترد کر دیا تھا۔
اس معاملے پر بات کرتے ہوئے پاکستانی وزیر اعظم عمران خان نے منگل 6 اگست کو کہا تھا کہ انڈیا نے کشمیر کی آئینی حیثیت تبدیل کر کے قائداعظم کے دو قومی نظریے کو درست ثابت کر دیا ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ اس کے اثرات دو ملکوں پر ہی نہیں پوری دنیا پر مرتب ہوں گے۔ ’ہم اس کے خلاف اقوام متحدہ دوسرے عالمی فورمز پر اس معاملے کو لے کر جائیں گے۔‘

شیئر: