دریائے سندھ سے جڑی ماہی گیروں کی زندگی

گوکہ پانی کا کوئی رنگ نہیں ہوتا مگر پھر بھی یہ ہماری زندگی میں کئی رنگ بھر دیتا ہے، اور یہی رنگ اس وقت پھیکے پڑنے لگتے ہیں جب پانی کی قلت پیدا ہوتی ہے۔ تبھی ہمیں اس بے رنگ پانی کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے کہ بے رنگ ہونے کے باوجود بھی اس کے بنا زندگی کتنی روکھی اور دشوار ہوجاتی ہے۔
 ان آنکھوں کے لیے اس سے بڑا درد کیا ہوگا جنہوں نے شام و سحر کسی دریا کو بہتے دیکھا ہو۔ اس بہتے ہوئے پانی کی گھن گرج سنی ہو۔ اس کی ٹھنڈک ہر پل محسوس کی ہو، پانی ہی ان کا اوڑھانا اور بچھونا ہو، اور دریا ان کا ’ان داتا‘ ہو۔
مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اگر دریا کی لہروں کا زور تھم جائے، وہ کشتیاں جو دریا کے پانی میں تیرتی کئی نسلوں کو سنبھالتی رہی ہوں، وہ پانی کم ہونے کی صورت میں اگر ریت سے بھرے کنارے پر کھڑی سورج کی تپش میں جلنے لگیں، تو ایک ماہی گیر کی آنکھیں تو بہنے لگتی ہی ہیں مگر ان آنکھوں سے بہتا ہوا پانی دریا کے بہنے کے ضمانت نہیں ہوتا۔

دریائے سندھ ماضی میں ایک تجارتی روٹ رہا ہے، جس کے ذریعے تجارت ہوتی تھی۔

لیکن اگر برسوں بعد دریا بہنے لگے، پانی کناروں کو چومنے لگے اور کشتیاں دریا میں اتر جائیں تو ایک ماہی گیر کے لیے اس سے بڑی خوشی اور کیا ہو گی۔ دریائے سندھ کا بھی کچھ ایسا ہی حال ہے۔ یہ دریا برسوں سے پانی کی شدید قلت کا سامنا کر رہا ہے۔ جبکہ دریا تب ہی دریا لگتے ہیں جب وہ بہتے رہیں۔
دریائے سندھ ماضی میں ایک تجارتی روٹ رہا ہے، جس کے ذریعے تجارت ہوتی تھی۔ مگر زمانہ بدل گیا، دریا ڈیموں اور بیراجوں میں قید ہو گیا، اور اس طرح وہ قطرہ قطرہ پانی کا محتاج ہو گیا۔  لیکن آج بھی جب اس دریا میں پانی کا بہاؤ تیز ہوجائے تو پھر سے ماہی گیروں کی زندگی میں رونقیں لوٹ آتی ہیں، ان کی آنکھوں میں پانی کی چمک ظاہر ہونے لگتی ہے اور ان کے ہونٹوں پر مسکراہٹ رقصاں ہوتی ہے۔
حیدرآباد کے قریب جامشورو شہر میں کوٹڑی بیراج ایک ایسی جگہ ہے جہاں پانی آنے کی صورت میں وہاں کا ماحول ہی بدل سا جاتا ہے۔ ان دنوں جب پورے ملک میں بارشوں کا زور ہے تو دریائے سندھ میں بھی پانی کی لہریں برسوں سے بنے ہوئے ریت کے ٹیلوں کو بہا لے گئی ہیں۔

بارشوں کے موسم میں دریائے سندھ میں زیادہ پانی آنے کی وجہ سے ماہی گیروں کا روزگار شروع ہوجاتا ہے۔ 

آج کل وہاں کوئی ماہی گیر اپنی کشتی سجا رہا ہے تو کوئی جال بن رہا ہے تو کوئی لوگوں کو اپنی کشتی میں سیر کروا رہا ہے۔ میں نے وہاں اس بار بڑی تعداد میں کشتیاں کھڑی دیکھی کیونکہ یہی وہ وقت ہے جب ان ماہی گیروں کا روزگار شروع ہو جاتا ہے۔  بارشوں کے موسم میں یا پھر دریا میں پانی زیادہ چھوڑنے کی وجہ سے دریائے سندھ سمندر میں جا گرتا ہے، جوکہ اس کی آخری منزل ہے۔
علی محمد برسوں سے اس کنارے کشتے چلا رہا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ اس کا جنم ہی جیسے کشتی میں ہوا ہے، وہ بچپن سے ہی چپو چلانا سیکھ گیا تھا۔ اس کا پورا خاندان بھی اسی پیشے سے وابستہ ہے۔
’کیسا لگ رہا ہے، آج جب دریا میں اچھا خاصہ پانی ہے اور دریا اپنی مستی میں ہے۔‘ میں نے علی محمد سے دریافت کیا۔
اس نے جواب دیا کہ ’بہت اچھا لگ رہا ہے، دریا میں پانی زیادہ ہو تو ہمارا روزگار اچھا ہو جاتا ہے، ہماری تو ساری کمائی ہی دریا کے پانی پر ہے۔‘

ماہی گیروں کا کہنا ہے کہ دریا ئے سندھ کا پانی انکے لیے پانی نہیں بلکہ سونا ہے۔

علی محمد یہاں لوگوں کو دریا کنارے کشتی میں سیر کرواتا ہے، ہر چکر پہ اسے دو سو روپے مل جاتے ہیں۔ وہ صبح سے شام تک سیر کرانے میں مشغول رہتا ہے۔ جبکہ اس کے گھر کے دیگر افراد مچھلی کا شکار کرنے کا بھی کام کرتے ہیں۔ مگر مچھلی کا شکار بھی تبھی اچھا ہوتا ہے، جب دریا میں پانی نہ صرف اچھی مقدار میں ہو بلکہ اس کے بہاؤ کا سلسلہ بھی جاری رہے۔
’کتنی خوشی محسوس ہوتی ہے جب دریا اس طرح بہنے لگتا ہے؟‘ میں نے علی محمد سے پوچھا۔
’بہت خوشی ہوتی ہے یہ ہمارے لیے پانی نہیں بلکہ سونا ہے۔‘ اس نے جواب دیا۔
پانی واقعی میں وہاں سونے سے بھی قیمتی بن جاتا ہیں، جہاں زندگی کا تمام تر دارومدار صرف پانی پر ہی ہو۔ آج دریائے سندھ کا وہ عروج تو نہیں رہا ہے اور نہ ہی ماہی گیروں کی زندگی اتنی خوشحال ہے مگر وقفے وقفے سے آنے والا پانی ان کی زندگیوں میں خوشیاں ضرور لاتا ہے۔

ہمارے دریا اگر بہتے رہیں اور ان کی منزل سمندر ہی بنا رہے تو ماہی گیروں کی معاشی حالت کافی بہتر ہو سکتی ہے۔

دریائے سندھ کا یہ کنارہ اپنے آپ میں ایک چھوٹی سی دنیا ہے، جہاں بچے، بڑے اور خواتین سب دریا سے محبت کا اظہار کرتے ہیں، کیونکہ انہیں پتہ ہے کہ دریائے سندھ کا پانی ان کی رگوں میں شامل ہے۔ میں نے محسوس کیا کہ یہ پانی سب کے لیے خوشیاں لیکر آتا ہے۔
میں یہ تو نہیں جانتا کہ دریا کے پانی کی بدولت آئی ہوئی خوشیاں کتنے دنوں کی مہمان ہیں، مگر ہمارے دریا اگر بہتے رہیں اور ان کی منزل سمندر ہی بنا رہے تو ان ماہی گیروں کی معاشی حالت کافی بہتر ہو سکتی ہے۔ میں نے وہاں ہر چہرے کو ہنستے مسکراتے دیکھا۔ بادلوں کی آنکھ مچولی اور دریا کنارے سے ٹکراتی موجوں کی آواز کا نظارہ دیکھنے لائق تھا۔ مجھے ان ماہی گیروں سے بات چیت کرنے کا موقعہ ملا جو یہاں اپنا رزق تلاش کرنے آئے تھے۔ ہنستے، مسکراتے چہروں کو میں الوداع کہہ کر وہاں سے چلتا بنا، جہاں ماہی گروں کے لیے خوشیاں پانی کی صورت آئی تھیں۔

شیئر: