’معاملہ بالآخر پاکستان پر حملے تک جا پہنچے گا‘

وزیراعظم عمران خان نے کشمیر کی صورتحال پر خدشے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہندو انتہا پسند جماعت آر ایس ایس کے نظریے کے اثرات انڈیا کے زیرانتظام کشمیر تک ہی محدود نہیں رہیں گے بلکہ یہ معاملہ پاکستان پر حملے تک جا پہنچے گا۔ 
وزیراعظم نے اتوار کو یکے بعد دیگرے چار ٹویٹس کیں جن میں کشمیر کی صورتحال پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔
انہوں نے عالمی برادری سے سوال کیا کہ کیا وہ کشمیر میں جاری مظالم پر خاموش رہیں گے۔
 
ایک اور ٹویٹ میں وزیراعظم نے آر ایس ایس کو جرمنی کی انتہا پسند جماعت ’نازی‘ سے موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ آر ایس ایس کے نظریے کے اثرات صرف کشمیر وادی تک ہی محدود نہیں رہیں گے، بلکہ ہندوستان کے مسلمان بھی اس سے اثرانداز ہوں گے اور بالآخر معاملہ پاکستان پر حملے تک پہنچ جائے گا۔
وزیر اعظم نے مزید کہا کہ آر ایس ایس، نازی نظریے سے متاثر ہے اور کشمیر میں جاری جارحیت کے ذریعے وادی میں آبادیات کا تناسب بدلنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

 

اس سے قبل انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں انڈین فوج کے کمانڈر چنار کور لیفٹیننٹ جنرل کے جے ایس ڈھلوں نے ایک ٹویٹ میں پاکستان کو ’ختم‘ کرنے کی دھمکی دی تھی۔ انہوں نے کہا تھا کہ ’پاکستان کشمیر میں ہونے والے واقعات پر کھلی دھمکیاں دے رہا ہے۔ ہم سب کو دیکھ لیں گے۔ اگر کسی نے امن و امان کی صورت حال خراب کرنے کی کوشش کی تو ہم اس کو ختم کردیں گے۔‘
 
انڈین کمانڈر کی ٹویٹ کے جواب میں پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ’آئی ایس پی آر‘ کے سربراہ نے انڈین کمانڈر کے بیانات کو مسترد کرتے ہوئے متنبہ کیا تھا کہ ’اگر انڈین فوج نے کسی قسم کی مہم جوئی کی کوشش کی تو پاکستان 27 فروری سے بڑھ کر جواب دے گا۔ انہوں نے کہا کہ ’انڈیا کی مقبوضہ کشمیر کی مخدوش صورت حال اور کشمیریوں پر وحشیانہ مظالم سے عالمی توجہ ہٹانے کی کوشش ناکام ہو گئی۔‘

 

فروری میں انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں 14 فروری کو پلوامہ کے مقام پر انڈین سینٹرل ریزرو پولیس فورس کی بس پر خود کش حملے کے نتیجے میں 40 اہلکار ہلاک ہو گئے تھے۔ انڈیا نے اس واقعے کا الزام پاکستان پر لگایا تھا اور اس کے بعد انڈین فضائیہ نے 26 فروری کو پاکستانی حدود میں آ کر بمباری کی تھی۔
پاکستان نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے 27 فروری کو فضائیہ کے دو جنگی جہازوں کو مار گرانے کا دعویٰ کیا تھا جبکہ ایک پائلٹ کو گرفتار بھی کر لیا گیا تھا۔

سفارتی سطح پر پاکستان کی کوششیں

وزیراعظم عمران خان نے اتوار کو ایرانی صدر حسن روحانی سے ٹیلوفونک رابطے کے ذریعے کشمیر کی صورتحال پر آگاہ کیا۔ صدر روحانی نے کشمیر میں ہلاکتوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کشمیری مسلمانوں کو امن میں رہنے کا قانونی حق استعمال کرنے دینا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ خطے میں کشیدگی کو کم کرنے کے لیے تمام کوششیں بروئے کار لانا ضروری ہے۔
وزیراعظم نے مزید کہا کہ انڈیا کا وادی کشمیر کی آئینی حیثیت تبدیل کرنے کا اقدام اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کاؤنسل کی قرادادوں کے خلاف ہے۔
اس سے قبل وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے 9 اگست کو چین کے ایک روزہ دورے کے دوران اپنے ہم منصب سے ملاقات کی تھی۔ شاہ محمود قریشی نے دورے سے واپسی پر بتایا کہ چینی وزیر خارجہ نے کشمیر سے متعلق پاکستان کے مؤقف کو توجہ سے سنا اور اقوام متحدہ میں حمایت کا یقین بھی دلایا۔ 
ان کا مزید کہنا تھا کہ یو این سیکریٹری جنرل کا بیان پاکستان کے مؤقف کی تائید کرتا ہے اور پاکستان مقبوضہ جموں وکشمیر کےمسلمانوں کی سیاسی، سفارتی ، اخلاقی معاونت جاری رکھےگا۔

وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کی چینِی ہم منصب وانگ ژی سے ڈھائی گھنٹے جاری ملاقات کے دوران چین نے پاکستان کو ہمایت کی یقین دہانی کروائی۔

گزشتہ کئی روز سے وادی کشمیر میں کرفیو کے نفاذ کے باوجود انڈیا مخالف مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔ مظاہرین پر پولیس کی فائرنگ سے کئی افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات بھی آئی ہیں۔
وزیراعظم نریندرمودی کے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے پر نہ صرف کشمیر بلکہ دنیا بھر سے سخت ردعمل آیا ہے۔ انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں 5 اگست سے کرفیو نافذ ہے اور کشمیری رہنماؤں کو نظربند کیا ہوا ہے۔ انٹرنیٹ اور ٹیلی فون کی سہولیات بھی معطل ہیں۔ 
یاد رہے کہ پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر نے دعویٰ کیا تھا کہ انڈین فوج نے 30 اور 31 جولائی کی رات وادی نیلم میں معصوم شہریوں بشمول عورتوں اور بچوں کو نشانہ بنایا، جس کے بعد سے کشمیر ایک مرتبہ پھر کشیدگی کی لپیٹ میں ہے۔ 
ادھر انڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ جمعے کو پاکستانی فوج کی پشت پناہی میں شدت پسندوں نے ہندو زائرین پر حملے کا منصوبہ بنایا تھا جن کو انڈین سیکورٹی فورسز نے جوابی کاروائی میں ہلاک کر دیا۔ پاکستان نے انڈیا کے اس دعوے کو ’پروپاگینڈا‘ قرار دیتے ہوئے مسترد کیا تھا۔

 

شیئر: