’انڈین فوج کے پنجابی کشمیر میں ڈیوٹی سے انکار کردیں‘

وفاقی وزیرسائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری سوشل میڈیا پر متنازع بیان دے کر پھر سرخیوں میں آگئے۔
 پاکستان کے وفاقی وزیر نے ٹوئٹ کی ’ میر ی انڈین فوج کے تمام پنجابیوں سے اپیل ہے کہ وہ ناانصافی اور ظلم کا حصہ نہ بنیں اور کشمیر میں ڈیوٹی سے انکار کردیں‘۔
 ایک اور ٹوئٹ میں فواد چوہدری نے سوال کیا کہ کیا کسی کو ظلم سے روکنا مداخلت ہے ؟ ۔انہوں نے کہا کہ مزاحمت کے بغیر امن  ممکن نہیں۔میرا انصاف پسند انڈین شہریوں سے بھی مطالبہ ہے کہ وہ مودی کے فاشزم کو مسترد کردیں اور حکومت کے قوانین کو ماننے سے انکا رکردیں۔
 انڈین پنجاب کے وزیر اعلی کیپٹن امریندر سنگھ نے جو ابی ٹوئٹ کی اور کہاکہ انڈیا کے داخلی معاملے میں مداخلت کی کوشش کرنا چھوڑ دیں۔مجھے یہ کہنے دیں کہ انڈین آرمی ڈسپلن اور نیشنلسٹ فورس ہے۔ امریندر سنگھ کا کہنا تھا کہ فوادچوہدری کا اشتعال انگیز بیان کام نہیں کرے گا ، اور نہ ہی انڈین فوج کے سپاہی آپ کے تفرقہ بازی کی پیروی کریں گے۔
ایک اور ٹوئٹ میں فواد چوہدری نے جواب دیا ’کیپٹن امریندر سنگھ جی آپ ایک اچھے آدمی ہیں اور میں جانتا ہوں کہ آپ کا دل مودی سرکار کی کارروائیوں کے ساتھ نہیں ہے ۔نا انصافی کہیں بھی ہو یہ انصاف کے لئے ہر جگہ خطرہ ہے۔ امید ہے آپ کشمیر کاز کو سپورٹ اور کشمیر یا کہیں بھی بی جے پی اور آر ایس ایس کے فاشزم کو مسترد کریں گے‘۔
 فواد چوہدری کے ٹوئٹ پر پاکستان اور انڈیا کے سوشل میڈیا صارفین بھی میدان میں آگئے۔ ایک انڈین صارف ورگ نے 71 کی جنگ کے بعد سرنڈر کی تصویر شیئر کی اور لکھا اسے یا د رکھیں۔ جواب میں پاکستان کے نعیم شہزاد تارڑ نے بالا کوٹ حملے کے بعد گرائے جانے والے انڈین مگ 21کے پائلٹ ابھی نندن کی گرفتاری کی تصویر پوسٹ کی اور لکھا اسے بھی یاد رکھیں۔
ایک انڈین صارف نے ٹوئٹ کی ’یہ براہ راست انڈیاکی مسلح افواج کے اندر کسی خاص گروہ کو اکسا رہا ہے۔ اسے ملکی سلامتی میں مداخلت کے طور پر لیا جائے گا‘۔
 ٹوئٹ میں وزیر خارجہ ایس شنکر ، وزیر داخلہ امیت شاہ اور راج ناتھ سنگھ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا گیا کہ اس پر سخت رد عمل دینا چاہئے ، حقیقت میں اس پاگل آدمی کو سبق سکھائیں۔

شیئر: