سلامتی کونسل کا اجلاس کتنا فائدہ مند؟

ماہرین نے پاکستان کی جانب سے کشمیر کی صورتحال کے تناظر میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس بلانے کو دو دھاری تلوار قرار دیا ہے۔
 ماہرین کہتے ہیں کہ  پاکستان کے مطالبے پر اجلاس بلایا ہی نہیں جائے گا اور اگر بلا بھی لیا گیا تو پاکستان کی قرارداد ویٹو ہو جائے گی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اجلاس بلا لیا گیا تو کم از کم انڈیا کا کشمیر کو ’اندرونی مسئلہ‘ قرار دینے کا دعویٰ دھرے کا دھرا رہ جائے گا۔ اور اگر اجلاس نہ بلایا گیا تو پاکستان کے ’اہم ملک‘ ہونے کے تشخص کو دھچکا پہنچے گا اور مقامی سطح پر رد عمل بھی آئے گا۔
اردو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے سابق سفارتکار ظفر ہلالی نے کہا کہ پاکستان کے مطالبے پر سلامتی کونسل کے اجلاس کا انعقاد مشکل ہے اور اگر اجلاس بلا بھی لیا تو ویٹو ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ’مودی کی پوری تیاری ہے اور اس نے نہ صرف عالمی سطح پر لابنگ کے بعد یہ کام کیا ہے بلکہ مقامی سطح پر بھی ایسے اقدامات لیے ہیں کہ کوئی بھی ان کے فیصلوں کے خلاف نہیں جائے گا۔‘
ظفر ہلالی نے کہا کہ چین کے علاوہ سلامتی کونسل کے تمام ممالک پاکستانی قرارداد کو ویٹو کر دیں گے اور انڈیا پر زیادہ عالمی دباؤ نہیں پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے پاس محدود راستے ہیں۔ ’پراکسی‘ جنگ شروع کرنے کی صورت میں پاکستان کو ردعمل کے لیے بھی تیار رہنا ہوگا۔
سابق سفارتکار نے کہا کہ دوسرا راستہ یہ ہے کہ اپنے ہتھیار کنٹرول لائن پر لے جائیں اور دنیا کو بتا دیں کہ انڈیا کے اتنے شہر ہمارے نشانے پر ہیں اور اگرکشمیر کے حوالے سے پیش رفت نہ ہوئی تو پھر جنگ ہوگی، ’جس کے بعد اور کچھ ہو نہ ہو، انڈیا سے سرمایہ کاری غائب ہو جائے گی جو انڈیا برداشت نہیں کرے گا۔‘

اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے سیکیورٹی کونسل کی صدر کو پاکستان کے وزیر خارجہ کا خط پہنچایا جس میں کشمیر کے مسئلے پو کونسل کا اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ 

تجزیہ کار طلعت حسین نے اردو نیوز سے گفتگو میں کہا کہ ’اگر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس ہو جاتا ہے تو پاکستان کو سب سے بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ انڈیا کی جانب سے کشمیر کو اندرونی معاملہ قرار دینے کا دعویٰ نفی ہو جائے گا۔‘ انہوں نے کہا کہ ’انڈین وزیر اعظم کی اس (کشمیر کی آئینی حیثیت ختم) کرنے کی حرکت سے کشمیر کا مسئلہ ایک بار پھر بین الاقوامی ایجنڈے پر آگیا ہے۔‘
طلعت حسین نے کہا کہ ’کشمیر کے مسئلے پر سلامتی کونسل کا اجلاس چار دہائیوں سے نہیں ہوا، اب اگر ہو جاتا ہے تو پاکستان کے مؤقف کو تقویت ملے گی اور اگر یہ اجلاس نہیں بلایا جاتا تو پاکستان کے لیے بہت بڑا دھچکا ہوگا۔ اس کا مطلب یہ بھی ہوگا کہ کشمیریوں کی نسل کشی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں دنیا کے ضمیر کو جگانے کے لیے کافی نہیں ہیں۔‘
انہوں نے کہا کہ ’پاکستان کے لیے دوسرا دھچکا یہ بھی ہوگا کہ ہم نے دنیا بھر کو کہا ہوا ہے کہ اب پاکستان میں ایک بہترین حکومت قائم ہے اور ارد گرد کے ممالک پر ہمارا بڑا اثر و روسوخ ہے اور یہ سارے دعوے دھرے کے دھرے رہ جائیں گے۔‘
انہوں نے کہا کہ اس کا مقامی سطح پر سخت رد عمل سامنے آ سکتا ہے اور ہم کشمیریوں کو اچھا پیغام نہیں دے سکیں گے کہ انڈیا ہماری ناک کے نیچے سے کشمیر نکال کر لے گیا اور ہم اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ایک اجلاس بھی نہ بلوا سکے جس کے طویل مدتی اثرات بھی بھگتنا پڑیں گے۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے دورہ چین کے دوران اپنے ہم منصب کو کشمیر کی صورتحال پر آگاہ کیا اور پاکستان کا مؤقف سمجھایا۔ 

یاد ہرے کہ گزشتہ روز پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے صدر کے نام سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلانے کے لیے خط لکھا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ جموں و کشمیر اور لائن آف کنٹرول کے اطراف بگڑتی ہوئی صورتحال نہ صرف خطے کے لیے بلکہ پوری دنیا کے امن و استحکام کے لیے خطرے کا موجب ہو سکتی ہے۔ یہ پیچیدہ صورتحال اقوام متحدہ کی فوری توجہ کی متقاضی ہے۔
وزیر خارجہ کے میڈیا کو جاری کیے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ جموں وکشمیر کا تنازعہ جنوری 1948 سے اقوام متحدہ سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر موجود ہے۔ سلامتی کونسل نے اس دوران متعدد قراردادیں منظور کیں جن میں قرارداد نمبر 47,51,80 ,91  شامل ہیں۔ ان قراردادوں میں طے کیا گیا کہ ریاست جموں و کشمیر کا حتمی فیصلہ اقوام متحدہ کے زیر اہتمام، آزادانہ اور شفاف استصواب رائے کے ذریعے  کیا جائے گا۔
اقوام متحدہ کی ان قراردادوں میں فریقین کو پابند کیا گیا تھا کہ وہ ریاست ہائے جموں و کشمیر کے اسٹیٹس میں کسی بھی قسم کی یکطرفہ تبدیلی  کا استحقاق نہیں رکھتے۔
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے لکھا ہے کہ  انڈیا نے 5 اگست کو اٹھائے گئے غیر آئینی اقدامات سے قبل ہی جموں و کشمیر میں جبر کی انتہا کردی- کشمیر میں کئی دہائیوں سے موجود سات لاکھ بھارتی فوج کے باوجود ایک لاکھ اسی ہزار مزید فوجی بھجوائے گئے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ انڈیا کی جانب سے جموں و کشمیر کی جغرافیائی حیثیت کی تبدیلی اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کو زیر بحث لانے اور اس گھمبیر صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس طلب کیا جائے۔ اور سیکورٹی کونسل کی شق 37 کی رو سے پاکستان کے نمائندے کو اس اجلاس میں شرکت کی اجازت دی جائے۔

شیئر: