کراچی اور لاہور کا موازنہ: مرتضیٰ وہاب کا دورۂ پنجاب سوشل میڈیا پر کیوں زیرِبحث ہے؟
بدھ 29 اپریل 2026 18:46
رائے شاہنواز -اردو نیوز، لاہور
پاکستان کے میڈیا اور سوشل میڈیا لینڈ سکیپ پر کراچی اور لاہور کا موازنہ سب سے زیادہ ڈِسکس ہونے والا موضوع ہے اور سب سے زیادہ لکھا جانے والا جملہ یہ ہے کہ ’کراچی کب لاہور بنے گا؟‘
مختلف میمز اس موضوع کو سنجیدگی سے اُتار کر لطافت کی طرف بھی لے جاتی ہیں۔ بدھ کو جب کراچی کے میئر مرتضیٰ وہاب اچانک لاہور میں نمودار ہوئے تو ٹی وی سکرینوں نے ایک عجیب منظر دیکھا کہ اُن کے ساتھ پنجاب کے وزیر ہاؤسنگ بلال یاسین کھڑے تھے۔
تھوڑی دیر میں ہی صورتِ حال یوں واضح ہوئی کہ میئر کراچی مرتضیٰ وہاب اپنے افسران کے ساتھ لاہور کے پانی اور سیوریج کے نظام کو دیکھنے کے لیے دو طرفہ تعاون کے پیشِ نظر لاہور آئے تھے۔
لاہور میں اُن کی میزبانی واسا (واٹر اینڈ سیوریج اتھارٹی) نے کی، چونکہ واسا وزارت ہاؤسنگ کے نیچے آتا ہے اس لیے بلال یاسین بطور وزیر وہاں موجود تھے۔
لاہور اور کراچی کے معاملات کو اکٹھے بیٹھ کر دیکھنے کی یہ شروعات ایک طرح سے بالکل انوکھی بھی تھی۔ واسا ہیڈکوارٹرز کے اس دورے کے موقعے پر پریس کانفرنس کی کوریج کے لیے وہاں موجود صحافی بھی اس انوکھے پن کو محسوس کرتے ہوئے نظر آئے۔
کئی صحافیوں نے زہرآلود تیر جیسے سوال بھی اپنی ترکش سے نکالے جنہیں بلال یاسین نے آڑے ہاتھوں لیا اور کہا کہ ’سخت سوالات بند کیے جائیں۔‘
ان کے مطابق ’اس سے خوب صورت بات کوئی ہو ہی نہیں سکتی کہ دو مخالف سیاسی جماعتیں عوامی بہبود کے لیے کام کرنے ایک میز پر بیٹھی ہیں اور ایک دوسرے کے علم سے استفادہ کر رہی ہیں۔‘
اس معاملے کی شروعات اس وقت ہوئی جب 21 اپریل کو بلدیہ عظمیٰ کراچی کی طرف سے لاہور واسا کو ایک خط لکھا گیا۔
اس خط و کتابت سے واقف ایک سرکاری افسر نے بتایا کہ ’یہ خط آیا تو ہمارے لیے یہ ایک خوش گوار حیرت کا باعث بھی بنا۔ خط میں کہا گیا تھا کہ میئر کراچی لاہور آکر پانی اور سیوریج کے معاملات کو دیکھنا چاہتے ہیں۔‘
سرکاری افسر نے مزید بتایا کہ ’واسا نے انہیں خوش آمدید کہتے ہوئے فوری طور پر جوابی خط لکھا اور 29 اپریل کو مرتضیٰ وہاب کے دورے کا دن طے ہوا۔ اس کے بعد میئر کراچی نے نہ صرف ہیڈکوراٹرز میں تمام امور کا جائزہ لیا بلکہ انہیں فیلڈ میں بھی لے جایا گیا۔‘
صحافیوں کے تِرچھے سوالوں کے جواب میں میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ ’کسی شہر کو نیچا دِکھا کر اور کسی کو اوپر دِکھا کر باتیں کرنا درست نہیں ہے۔کوئی بھی ادارہ ریوینیو کے بغیر نہیں چل سکتا۔‘
’ہم کراچی میں بارش کے بعد پانی کو دو سے تین گھنٹوں میں نکال لیتے ہیں۔ شہر کو مزید بہتر کر رہے ہیں۔ لاہور میں سروس ڈیلیوری کے لیے ٹیکنالوجی کا استعمال ہوا ہے، لیکن کراچی کی آبادی بہت زیادہ ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’لاہور میں ترقی ہوئی ہے۔ کراچی اور لاہور میونسپلٹی کی سطح پر سیوریج اور دیگر سروسز کے حوالے سے تبادلہ ہونا چاہیے۔ یہ لاہور میں میری پہلی پریس کانفرنس ہے۔ دنیا بھر میں ’سسٹر سٹی کانسپٹ‘ ہے۔‘
’لاہور پاکستان کا دِل ہے۔ ہم نے لاہور کی ترقی سے سیکھا ہے۔ ابھی ہم نے بہت سے آئیڈیاز پر تبادلہ خیال کیا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ ہم واسا کے ساتھ ایم او یو بھی سائن کر لیں، لیکن ہمارے مسائل لاہور سے تھوڑے مختلف ہیں۔ ہمیں تو پانی بھی 125 کلومیٹر دُور سے لانا پڑتا ہے۔‘
واسا کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہےکہ کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن کے اعلٰی سطح کے ایک وفد نے بدھ کو میئر کراچی مرتضیٰ وہاب کی سربراہی میں واسا ہیڈکوارٹرز کا دورہ کیا تو ان کا پُرتپاک استقبال کیا گیا۔
’اس دورے کا مقصد دونوں اداروں میں باہمی تجربات کا تبادلہ اور شہری خدمات میں بہتری کے لیے تعاون کو فروغ دینا ہے۔ وفد کو واسا کے پانی کی فراہمی، سیوریج سسٹم، ریوینیو کلیکشن اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔‘
واسا کے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’وفد کو لاہور کے مختلف فیلڈ آپریشنز کا بھی دورہ کروایا گیا۔ ڈرینیج سسٹم، ڈسپوزل سٹیشنز اور مون سون کی تیاریوں کے حوالے سے تمام معاملات دِکھائے گئے۔‘
