جب سے ہوش سنبھالا اور پہلا شبد لکھنا سیکھا، یہ غالباً زندگی کا ایسا پہلا دور تھا جب مسلسل چھ ہفتوں تک خاکسار چاہ کر بھی ایک سطر دائیں ہاتھ سے پوری نہ لکھ سکا۔
وجہ یہ بنی کے عید الفطر کے موقع پر رات گئے ایک عجب حادثہ پیش آیا، نتیجہ یہ نکلا کہ دایاں بازو جوڑ کے قریب سے دو مختلف مقامات سے فریکچر ہو گیا۔ ایکسرے کروایا تو معلوم ہوا کہ ہڈی دو مقامات سے چٹخی ہے، معجزہ البتہ یہ ہوا کہ اپنے اصل مقام سے چند سینٹی میٹر کے فرق سے مکمل کھسکنے سے بچ گئی۔ بازو باندھنا پڑ گیا۔
اس سلسلے میں ’سلِنگ‘ نامی بازو بندھ پٹی مسلسل باندھے رکھنے کی ہدایات تجویز ہوئیں۔ ویسے تو ناچیز کو بچپن سے ہی تمام جانے پہچانے عارضے بشمول دل کے انتہائی ذوق و شوق سے لاحق رہے ہیں لیکن ہڈی جوڑ یا دانت کی تکلیف سن رکھی تھی، سہی نہ تھی۔
مزید پڑھیں
-
دستیاب قیادت یا علیمہ خان، اصل رہنما کون؟ اجمل جامی کا کالمNode ID: 901120
-
سرجری کے بجائے کرکٹ پر رحم فرمائیں، اجمل جامی کا کالمNode ID: 901690
-
کوٹ لکھپت جیل میں ہوئی ایک اہم ملاقات، اجمل جامی کا کالمNode ID: 901973
معلوم ہوا کہ ہڈی میں آئی دراڑیں اگر مزید وسیع ہوجاتیں تو ہڈی کھسکنے کی صورت میں نٹ بولٹ لگا کر اسے جوڑا جاتا ہے جسے سرجری کہا جاتا ہے اور اس صورت میں پھر لمبا آرام اور طویل پلستر بازو کی زینت بنتا۔ یہاں البتہ کسی فقیر کی دعا سے بچت کا مقام رہا۔ درد تھا، بے انتہا تھا، تکلیف تھی، بے پناہ تھی، رنج تھا ، بے تحاشہ تھا، شکر تھا، ہاں تھا، مسلسل تھا۔ یہی بچت کا حتمی ساماں تھا۔ یہی حاصل تھا۔
ہڈی واپس جڑ رہی ہے، تکلیف میں مسلسل کمی آ رہی ہے۔ لیکن گزرے چھ سے سات ہفتے تکلیف دہ رہے۔ صورتِ حال کچھ یوں تھی کہ ’نہ نیند نیناں نہ انگ چیناں۔‘ درد کم کرنے والی ادویات بھی صحافی طبع اجسام پر بے اثر ٹھہرتی ہیں۔ بس برف کی ٹکور تھی یا ایران امریکہ جنگ میں ذہن کو مسلسل جوتے رکھنے کی سعی تھی تاکہ درد کی شدت محسوس کرنے کا رجحان بھٹکا رہے۔
ٹی وی یا یوٹیوب پر رواں تبصرے چونکہ فی البدیع بولنے کی صلاحیت پر چالو تھے لہٰذا یہ سلسلہ جاری رکھا کہ جنگ کے ہنگام مکمل ناغہ وارے میں نہیں تھا۔
لکھنے کی بھی عجب ٹھرک رہی ہے۔ یعنی جب سے کمپیوٹر پر لکھنا سیکھا، دس انگلیوں سے لکھا، آنکھیں بند کر کے بھی کی بورڈ دیکھے بنا معلوم ہے کہ کون سی انگلی سے کون سے شبد ٹائپ کرنے ہیں۔
کئی بار کوشش کی کہ صرف الٹے ہاتھ سے ٹائپ کر دیکھوں مگر لطف نہ آیا۔ خیال اور جملے تعطل کا شکار ہوئے۔ لہٰذا چاہ کر بھی ان گنت موضوعات پر قلم نہ اٹھ سکا۔
اس بیچ ہمارے مہربان دوست شیراز حسن اور جناب راجہ ذوالفقار علی کا بے حد شکریہ کہ انہوں نے خاکسار کی اس تکلیف کا احساس کیا اور جنگی ماحول میں ضرورت کے باوجود تحریر کے لیے اصرار نہ کیا۔ وجہ سادہ سی تھی، یعنی ان دوستوں کو بھی ہمارے بازو پر بندھی سلنگ دکھائی دے رہی تھی۔
یہ جانتے تھے کہ اس وقت سلنگ ہڈی اور جوڑ کو جوڑے رکھنے کا کام کر رہی ہے، بازو جڑ گیا تو لکھا بھی جائے گا اور توازن بھی بن جائے گا۔
اس عرصے میں چونکہ ہم اس سلنگ نامی پٹی کے سہارے ہی اپنے آپ کے ساتھ جڑے رہے لہذا دنیا بھر کے دیگر تمام اہم اور غیر اہم امور بھی چاہتے نہ چاہتے سلنگ کے زاویے سے ہی دیکھنے پر مجبور ہوئے۔ بالکل ویسے ہی جیسے پاکستان نے اس بیچ اس خطے کو جنگ سے بچانے کیلئے تقریباً اسی سلنگ کا سا کام کیا، کبھی سعودی عرب تو کبھی ترکیہ، کبھی مصر تو کبھی قطر، کبھی ایران تو کبھی واشنگنٹن، کون سا ایسا اہم ملک تھا جہاں پاکستانی نسخے مرہم پٹی کا کام نہیں کر رہے تھے۔ جنگ سے لے کر سیز فائر، اور سیز فائر سے لے کر کسی ممکنہ امن معاہدے کے بیچ یہ پاکستانی سلنگ ہی تھی جس نے دنیا بھر کو لاحق بڑی تباہی سے بچائے رکھا۔ کہیں دل جوڑنے کی کوشش تو کہیں انائوں کے ڈول کے سامنے سفارتی سلنگ۔













