Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

امریکہ، ایران مذاکرات جاری، آبنائے ہرمز کھولنے پر اتفاق: پاکستانی دفتر خارجہ

دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے کہا کہ مختلف تجاویز، خواہ نئی ہوں یا پرانی، زیرِ غور ہیں (فوٹو: اے پی پی)
امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کے حوالے سے دفترِ خارجہ کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال یہ ہے کہ مسئلے کے حل کے لیے سفارتی کوششیں بدستور جاری ہیں اور یہ عمل رکا نہیں ہے اور تمام فریقین آبنائے ہرمز کی بحالی پر متفق ہیں۔
جمعرات کو اسلام آباد میں ہفتہ وار بریفنگ کے دوران دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے کہا کہ مختلف تجاویز، خواہ نئی ہوں یا پرانی، زیرِ غور ہیں اور فریقین ثالثوں کے ذریعے ان پر بات چیت کر رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ اندرونی سطح پر مشاورت بھی جاری ہے۔ اطلاعات ہیں کہ امریکہ میں مشاورت ہوئی ہے اور اسی نوعیت کے مشاورتی عمل تہران میں بھی جاری ہے۔
ان کے مطابق یہ عمل وزیرِ خارجہ کی جانب سے جنگ بندی کی اپیل کے بعد شروع ہوا، جسے دونوں فریقین نے قبول کیا۔ اس جنگ بندی نے بامعنی سفارت کاری کے لیے راہ ہموار کی، جس میں دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست اور بالواسطہ رابطے بھی شامل ہیں۔
’حکام کا کہنا ہے کہ وہ اس تنازع کے مذاکرات کے ذریعے حل کے لیے پُرامید ہیں اور سنجیدہ سفارتی کاوشیں جاری رکھی جائیں گی۔ ایرانی وزیرِ خارجہ کا حالیہ دورہ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی تھا۔‘
بیان میں کہا گیا ہے کہ تمام فریقین صورتحال کی سنگینی اور آبنائے ہرمز کی بحالی کی اہمیت پر متفق ہیں، جبکہ خلیجی ممالک کے جائز مفادات کی مکمل حمایت کی جاتی ہے۔
واضح رہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان عارضی جنگ بندی کروانے میں پاکستان نے ثالث کا کردار ادا کیا اور بعد ازاں اس سلسلے میں اسلام آباد میں دونوں فریقین کے درمیان مذاکرات بھی ہوئے جو کسی نتیجے کے بغیر ختم ہو گئے تھے۔
مذاکرات کا دوسرا دور اسلام آباد ہی میں ہونا تھا کہ لیکن ایران نے اس سے انکار کر دیا تھا جبکہ امریکہ نے مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے پاکستان میں اپنے نمائندے نہیں بھیجے تھے، تاہم پاکستان بدستور ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے۔ اے پی نے پاکستانی حکام کے حوالے سے بتایا تھا کہ امریکہ اور ایران کے بالواسطہ بات چیت اب بھی جاری ہے۔
اگرچہ 8 اپریل کو شروع ہونے والی امریکہ-اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ میں جنگ بندی اب تک برقرار ہے، لیکن اس کے معاشی اثرات دنیا بھر میں محسوس کیے جا رہے ہیں۔
ایران نے آبنائے ہرمز کو بند کر دیا ہے، جس سے عالمی منڈی میں تیل، قدرتی گیس اور کھاد کی بڑی مقدار کی ترسیل رک گئی ہے، قیمتیں بڑھ گئی ہیں اور ترقی پذیر دنیا میں وسیع پیمانے پر بھوک کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔
دوسری طرف امریکہ نے بھی آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کر رکھی ہے جسے ایران نے جنگ بندی کی خلاف ورزی قرار دیا تھا۔

 

شیئر: