وزیراعظم کا قرض واپس کرنے میں فی الفور مدد پر سعودی قیادت کا شکریہ
وزیراعظم شہباز شریف نے ساڑھے تین ارب ڈالر قرض کی واپسی اور ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر کو مستحکم رکھنے میں مدد پر سعودی عرب کے فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کا شکریہ ادا کیا ہے۔
بدھ کو کابینہ کے اجلاس سے اپنے خطاب میں وزیراعظم نے ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات، فریقین کے درمیان امن معاہدے کے حوالے سے کی جانے والے کوششوں اور تیل کی بڑھتی قیمتوں کے حوالے سے ملک کی معاشی ترقی متاثر ہونے کے بارے میں آگاہ کیا۔
انھوں نے گذشتہ دنوں متحدہ عرب امارات کو قرض واپس کرنے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ساڑھے تین ارب ڈالر کے واجب قرضے واپس ہو چکے ہیں اور ہماری زرمبادلہ کے ذخائر پر اپنی جگہ پر مستحکم ہیں اور اس کے لیے قابل احترام سعودی عرب کے فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے شکر گزار ہیں کہ انھوں نے ہمارا یہ مسئلہ فی الفورحل کیا۔
وزیر اعظم نے کابینہ سے خطاب میں مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کی وجہ سے عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں کے ملکی سطح پر اثرات پر پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کے تعین کے حوالے سے بات کی۔
انھوں نے کہا کہ اس وقت عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں دوبارہ آسمان سے بات کر رہی ہیں اور جمعے کو ہم نے نئی قیمتوں کا تعین کرنا ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ اس وقت ایک چیلنجنگ صورتحال ہے اور ہم نے اجتماعی کوششوں کو پوری طرح سنبھالنے کی کوشش کی ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’اسی وجہ سے دوسرے ممالک کی طرح یہاں لائنیں نہیں لگی اور راشنگ نہیں کرنا پڑی ہے لیکن صرف یہ بتانا چاہتا ہوں کہ اگر جنگ سے پہلے ایک ہفتے میں تیل کی درآمد کا بل 30 کروڑ ڈالر تھا تو آج یہ 80 کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔‘
خیال رہے کہ ایران امریکہ جنگ سے پہلے پاکستان میں ہر 15 دن بعد پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا تعین کیا جاتا تھا تاہم اب ہر جمعے کو قیمتوں میں ردو بدل کیا جاتا ہے۔
گذشتہ جمعے کو پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں اضافہ کیا گیا تھا۔
