Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

تجزیہ: غزہ کا ’بورڈ آف پیس‘ ٹوٹے وعدوں کی یادگار بن گیا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قائم کردہ ’بورڈ آف پیس‘ کا کوئی وعدہ پورا نہ ہو سکا (فوٹو: اے ایف پی)
غزہ کا ’بورڈ آف پیس‘ جسے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چھ ماہ سے کچھ زیادہ عرصہ قبل بڑے اہتمام اور دعوؤں کے ساتھ قائم کیا تھا آج غزہ کے ان بیس لاکھ باشندوں کے لیے ٹوٹے ہوئے وعدوں کی یادگار بن چکا ہے جو پہلے ہی زندگی کی بنیادی ضروریات سے محروم ہو کر بمشکل سانس لے رہے ہیں۔
حماس کے 7 اکتوبر 2023 کے حملوں کے بعد اسرائیل کی جانب سے غزہ پر جاری کارروائیوں کو دنیا کے بڑے حصے نے نسل کشی سے تعبیر کیا۔ اسی پس منظر میں ٹرمپ نے مداخلت کرتے ہوئے اس تنازع کو ختم کرنے کا اعلان کیا۔
ان کے پیش کردہ منصوبے کے تحت ’بورڈ آف پیس‘ قائم کیا گیا جس میں فوری جنگ بندی، زندہ اور ہلاک اسرائیلی یرغمالیوں اور فلسطینی قیدیوں کا تبادلہ اور انسانی امداد کی مکمل بحالی شامل تھی۔ امدادی سامان کی ترسیل کو یقینی بنانے کے لیے ایڈمرل بریڈ کوپر کی سربراہی میں ایک سول و عسکری رابطہ مرکز بھی بنایا گیا۔
اس کے علاوہ رواں سال کے اوائل میں ایک ’بین الاقوامی استحکام فورس‘ کی تعیناتی اور غزہ کے انتظامی امور سنبھالنے کے لیے قومی انتظامی کمیٹی کے علاقے میں منتقل ہونے کا وعدہ بھی کیا گیا تھا۔
لیکن ان میں سے کوئی وعدہ پورا نہ ہو سکا حالانکہ ان اقدامات کی توثیق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد کے ذریعے بھی کی گئی تھی۔ معاہدے کے ایک اہم فریق اسرائیل نے عملاً اس پورے عمل کو سست کرنے، روکنے اور سبوتاژ کرنے کا راستہ اختیار کیا۔
نتیجتاً آج غزہ کے عوام ایک ایسی کیفیت میں جی رہے ہیں جہاں نہ مکمل امن ہے اور نہ ہی کھلی جنگ جبکہ اسرائیلی فوج روزانہ جنگ بندی کی خلاف ورزیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔
گزشتہ اکتوبر سے اب تک اسرائیل نے اس تنگ پٹی پر دو ہزار سے زائد فضائی حملے اور بمباری کی ہے جہاں بیس لاکھ افراد محصور ہیں۔ جنگ بندی کے بعد سے اب تک 800 سے زائد فلسطینی ہلاک اور تقریباً دو ہزار زخمی ہو چکے ہیں۔
اسرائیل نے ایک نام نہاد ’یلو لائن‘ قائم کر کے غزہ کے 50 سے 55 فیصد علاقے پر مؤثر کنٹرول حاصل کر لیا ہے جس میں رفح، خان یونس اور شمالی غزہ کے وسیع علاقے شامل ہیں۔ ان علاقوں میں بنیادی ڈھانچے کی منظم تباہی کی گئی ہے اور بے گھر فلسطینیوں کی واپسی روکنے کے لیے ایک خندق بھی کھودی گئی ہے۔

ڈاکٹرز ود آؤٹ باڈرز  کی ایک رپورٹ میں اسرائیل پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ پانی تک رسائی کو بطور ہتھیار استعمال کر رہا ہے (فوٹو: اے ایف پی)

یورپی یونین اور اقوام متحدہ کے مشترکہ جائزے کے مطابق دو سالہ جنگ نے غزہ کی ترقی کو کم از کم 77 برس پیچھے دھکیل دیا ہے۔
مسلسل بمباری کے علاوہ اسرائیل نے غزہ کی قومی انتظامی کمیٹی کے ارکان کے داخلے پر بھی پابندی عائد کر رکھی ہے اور انسانی امداد کو طے شدہ مقدار کے تقریباً 20 فیصد تک محدود کر دیا ہے۔ اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی (یو این آر ڈبلیو اے) سمیت امدادی اداروں کو کام کرنے سے روکا جا رہا ہے، جبکہ وہاں موجود عملہ خوراک اور ادویات کی شدید قلت کی نشاندہی کر رہا ہے۔
صورتحال اس قدر سنگین ہو چکی ہے کہ بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کے ساتھ پانی سے پھیلنے والی بیماریوں، آلودگی اور حشرات کی افزائش نے مسائل کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ یو این آر ڈبلیو اے کے مطابق جلد کی  بیماریوں اور چکن پاکس کے کیسز میں اضافہ ہو رہا ہے جبکہ ادویات اور جراثیم کش ادویات کی شدید کمی ہے۔ چوہوں کی بہتات رہائشی علاقوں اور پناہ گزین کیمپوں تک پھیل چکی ہے۔
ڈاکٹرز ود آؤٹ باڈرز  کی ایک رپورٹ میں اسرائیل پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ پانی تک رسائی کو بطور ہتھیار استعمال کر رہا ہے اور ایسے واقعات بھی سامنے آئے ہیں جہاں پانی حاصل کرنے کی کوشش میں افراد زخمی یا ہلاک ہوئے۔
فروری کے آخر میں ایران سے متعلق کشیدگی بڑھنے سے پہلے ہی غزہ کی صورتحال عالمی توجہ سے اوجھل ہونا شروع ہو چکی تھی۔

اسرائیل نے ایران جنگ کا فائدہ اٹھاتے ہوئے غزہ میں زندگی کو مزید ناقابل برداشت بنا دیا ہے (فوٹو: اے ایف پی)

اقوام متحدہ اور دیگر اداروں کی اپیلیں نظر انداز کی جاتی رہیں۔ ’بورڈ آف پیس‘ نے اب تک ایک بار بھی اجلاس نہیں بلایا تاکہ طے شدہ اقدامات پر عملدرآمد کا جائزہ لیا جا سکے، اور نہ ہی ٹرمپ یا ان کے معاونین نے جنوری میں امریکی ایلچی سٹیو وٹکوف کی جانب سے جنگ بندی کے دوسرے مرحلے کے اعلان کے بعد غزہ کے بارے میں کوئی نمایاں عوامی بیان دیا۔ اس کے بعد سے منصوبے کا ایک بھی ہدف آگے نہیں بڑھ سکا اور ابتدائی امیدیں دم توڑ چکی ہیں۔
امریکہ اور اسرائیل کے ایران کے ساتھ تنازع نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ آبنائے ہرمز کی بندش، عالمی توانائی بحران، خطے میں فوجی سرگرمیوں میں اضافہ، ممکنہ نئی جھڑپیں، جنوبی لبنان کی غیر یقینی صورتحال اور جوہری مذاکرات میں تعطل جیسے عوامل نے غزہ کے بحران کو عالمی توجہ سے مزید دور کر دیا ہے۔
اسرائیل نے اس ماحول کا فائدہ اٹھاتے ہوئے غزہ میں زندگی کو مزید ناقابل برداشت بنا دیا ہے۔ مصر، ترکی اور قطر جیسے اہم ثالث بھی اب اپنی توجہ ایران کے تنازع اور اس کے علاقائی اثرات کی طرف مرکوز کیے ہوئے ہیں۔
اس دوران غزہ میں ہلاکتوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ اس ماہ تک فلسطینیوں کی تصدیق شدہ ہلاکتیں 72,500 سے تجاوز کر چکی ہیں جن میں 20 ہزار سے زائد بچے، 270 صحافی، 120 ماہرین تعلیم اور کم از کم 560 امدادی کارکن شامل ہیں۔
عالمی عدالت انصاف میں جنوبی افریقہ کی جانب سے دائر نسل کشی کے مقدمے کی کارروائی انتہائی سست روی کا شکار ہے۔

نہ اقوام متحدہ اور اس کے ادارے مؤثر مداخلت کر پا رہے ہیں اور نہ ہی یہ بورڈ کہیں دکھائی دیتا ہے (فوٹو: اے ایف پی)

مارچ میں اسرائیل اور امریکہ سمیت چند دیگر ممالک نے اپنے جوابی مؤقف جمع کرائے جن کا جواب جنوبی افریقہ دے گا۔ امکان ہے کہ سال کے آخر تک مزید دلائل سنے جائیں گے اور یہ مقدمہ کئی ماہ تک جاری رہے گا۔ اس کے باوجود یہ واضح ہے کہ اسرائیل ممکنہ فیصلے کو تسلیم نہیں کرے گا۔
دوسری جانب عالمی فوجداری عدالت میں استغاثہ کے سربراہ کریم خان کے خلاف جنسی بدسلوکی کے مقدمے نے کارروائی کو متاثر کیا تاہم گزشتہ ماہ انہیں تمام الزامات سے بری کر دیا گیا۔
کریم خان نے نومبر 2024 میں اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے خلاف جنگی جرائم کے الزامات پر وارنٹ گرفتاری جاری کیا تھا۔ اب ان کی واپسی کے بعد یہ قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں کہ اسرائیلی قیادت کے مزید ارکان کے خلاف بھی نئے وارنٹس جاری ہو سکتے ہیں۔
ٹرمپ کا ’بورڈ آف پیس‘ فلسطینیوں کے قتل کو روکنے اور غزہ میں سیاسی عمل کے ذریعے زندگی کی بحالی اور تعمیر نو کے آغاز کے لیے بنایا گیا تھا۔ اس متنازع منصوبے کے لیے امریکی صدر نے عرب اور عالمی شخصیات کی حمایت بھی حاصل کی تھی۔ مگر آج صورتحال یہ ہے کہ نہ اقوام متحدہ اور اس کے ادارے مؤثر مداخلت کر پا رہے ہیں اور نہ ہی یہ بورڈ کہیں دکھائی دیتا ہے۔
یہ صورتحال اسرائیل کے لیے سازگار ہے۔ اس کی کارروائیاں جاری ہیں، بغیر کسی مؤثر روک ٹوک کے، جبکہ دنیا کی توجہ دوسری جانب مبذول ہے۔ اب وہ سوال جس کا جواب ناگزیر ہے یہ ہے کہ غزہ کے عوام مزید کب تک اس بدترین انسانی المیے کا سامنا کرتے رہیں گے، ایک ایسے امن منصوبے کے سائے میں جو عملی طور پر مفلوج ہو چکا ہے۔
اسامہ الشریف عمان میں مقیم ایک صحافی اور  سیاسی مبصر ہیں۔ ایکس: @plato010

 

شیئر: