مسجد اقصیٰ کو تقسیم کرنے کی کوششوں پر اردن کا احتجاج، اسرائیلی سفیرکی طلبی

 مسجد اقصیٰ کو تقسیم کرنے کی اسرائیلی کوششوں پر اردن نے اسرائیل سے زبردست احتجاج کیا ہے۔عمان میں تعینات اسرائیلی سفیر کو دفتر خارجہ طلب کر کے احتجاجی یادداشت پیش کی ۔
سعودی پریس ایجنسی اور اسکائی نیوز کے مطابق فلسطینی دفتر خارجہ نے خبردار کیا کہ مسجد اقصیٰ کو تقسیم کرنے کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے ۔مزید خلاف ورزیوں پر پوری مسلم دنیا بھڑک اٹھے گی۔
اردن نے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ مسجد اقصیٰ میں اشتعال انگیز سرگرمیاں فوراً بند کرے۔ اسرائیل قبل اول میں جو کچھ کر رہا ہے اس سے کشمکش کا آتش فشاں بھڑکے گااور اس کی سرگرمیاں بین الاقوامی قانون کے سراسر خلاف ہیں ۔
اردنی دفتر خارجہ کے ترجمان سفیان القضاۃ نے بتایا کہ دفتر خارجہ کے سیکریٹری جنرل زید اللوزی نے ’سخت مکتوب‘ اسرائیلی سفیر کے حوالے کیا اسے فوراًاسرائیلی حکومت تک پہنچانے کا مطالبہ کیا ہے ۔ 

فلسطینی دفتر خارجہ نے بھی اعلامیہ جاری کر کے کہا کہ اسرائیل میں دائیں بازو کے حکمراں القدس کی شناخت تبدیل کر کے اسے یہودی رنگ دینے کیلئے سینکڑوں منصوبے نافذ کر رہے ہیں ۔یہ سارا کام امریکہ کی مکمل تائید و حمایت سے ہو رہا ہے ۔
فلسطینی دفتر خارجہ نے کہا کہ اسرائیلی حکام ایک طرف تو مسجد اقصیٰ میں عبادت کا نیا نظام نافذکرنے کے در پر ہیں وہ مسلمانوں اور یہودیوں کیلئے الگ الگ اوقات متعین کرنے کا چکر چلا رہے ہیں اور یہ دیکھ کر کہ مسجد اقصیٰ کا مکمل انہدام ان کے بس سے باہر ہے ۔اس کے بعض حصے یہودیوں کیلئے مختص کرنے کے پروگرام پر عمل پیرا ہیں۔
فلسطین نے مسلم دنیا سے مطالبہ کیا کہ وہ القدس اور مسجد اقصیٰ کے خلاف اسرائیل کے جارحانہ اقدامات کو انتہائی سنجیدگی سے لیں ۔ القدس سے متعلق اسلامی اور عرب سربراہ کانفرنسوں کے فیصلے پر عمل درآمد نہ کرنے کی وجہ سے اسرائیلی حکومت کے حوصلے بہت زیادہ بڑھ گئے ہیں ۔

شیئر: