جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف دائر ضمنی ریفرنس خارج

جسٹس فاضی فائز عیسیٰ نے اپنے خلاف بھیجے گئے پہلے ریفرنس کو حال ہی میں سپریم کورٹ میں بھی چیلنج کیا ہے۔
سپریم جوڈیشل کونسل نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف دائر ضمنی ریفرنس خارج کر دیا ہے۔
سپریم جوڈیشل کونسل نے جسٹس فائز عیسیٰ کے خلاف ’صدر مملکت کو خط لکھنے‘ پر دائر ریفرنس خارج کر دیا ہے تاہم ان کے خلاف ’اثاثہ جات چھپانے‘ کے الزام پر دائر ریفرنس ابھی بدستور زیر سماعت ہے۔
سوموار کو سپریم جوڈیشل کونسل نے ضمنی ریفرنس دائر کرنے والے انفارمر وکیل وحید شہزاد بٹ کا مؤقف سننے کے بعد ریفرنس خارج کرنے کا فیصلہ جاری کیا۔
یاد رہے کہ اس سال مئی میں پاکستان کے صدر عارف علوی نے سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس کے کے آغا کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کیے تھے۔
صدراتی ریفرنسز میں دونوں ججوں پر بیرون ملک جائیداد بنانے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے صدر مملکت کو خطوط لکھ کر ریفرنس کی نقول فراہم کرنے کی درخواست کی تھی جس پر ان کے خلاف وحید شہزاد بٹ کی جانب سے ایک ضمنی ریفرنس دائر کر دیا گیا تھا۔

جسٹس فائز عیسیٰ  کے خلاف ریفرنس پر وکلا نے احتجاجی مظاہرے کیے تھے۔ فوٹو: اے ایف پی

تاہم سوموار کو جاری فیصلے میں سپریم جوڈیشل کونسل نے ضمنی ریفرنس خارج کرتے ہوئے رائے دی کی انفارمر وکیل کی طرف سے کوئی ایسا ثبوت نہیں دیا گیا جس سے ثابت ہوا ہو کہ جسٹس عیسیٰ نے صدر کو لکھے گئے اپنے خط کے مندرجات سے کسی اور کو بھی آگاہ کیا ہو۔
کونسل نے فیصلے میں کہا کہ ریفرنس میں لگائے گئے الزامات جج کو ہٹانے کے لیے کافی نہیں، جسٹس فائز عیسیٰ نے جب صدر مملکت کو خطوط لکھے، وہ ذہنی دباؤ میں تھے۔
فیصلے کے مطابق جس وقت ریفرنس کی خبریں سامنے آئیں اس وقت ان کے سسر اور بیٹی بھی بیمار تھے۔
سپریم جوڈیشل کونسل نے فیصلے میں کہا ہے کہ لگتا نہیں کہ صدر مملکت کو خط لکھنا کوئی سنجیدہ معاملہ تھا اور نہ ہی صدر مملکت کو خط لکھنا ’مس کنڈکٹ‘ تھا، صدر مملکت کو لکھا گیا خط ذاتی حیثیت میں تھا۔
جسٹس فاضی فائز عیسیٰ نے اپنے خلاف بھیجے گئے پہلے ریفرنس کو حال ہی میں سپریم کورٹ میں بھی چیلنج کیا ہے۔
 

شیئر: