سعودی طالب علم کو ’نشے‘ کی حالت میں قتل کرنے والا برطانوی شہری مجرم قرار
استغاثہ نے عدالت کو بتایا کہ کورِیگن واقعے سے قبل شراب پینے اور کوکین کے استعمال میں ملوث تھا (فوٹو: آئی ٹی وی)
برطانیہ کے شہر کیمرِج میں انگریزی زبان کی تعلیم حاصل کرنے والے سعودی طالبِ علم محمد القاسم کے قتل کے مقدمے میں برطانوی شہری چیس کورِیگن کو مجرم قرار دے دیا گیا ہے۔
عرب نیوز نے برطانوی نشریاتی ادارے کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ 22 سالہ کورِیگن، جو ہول بروک روڈ کا رہائشی ہے، نے یکم اگست 2025 کو 20 سالہ القاسم کو گردن میں چاقو مار کر قتل کیا تھا۔
استغاثہ نے عدالت کو بتایا کہ کورِیگن واقعے سے قبل شراب پینے اور کوکین کے استعمال میں ملوث تھا۔ اس دوران اس نے ایک چاقو نکالا اور القاسم کی گردن پر وار کیا۔
عدالت میں کورِیگن نے قتل کی تردید کی تاہم چاقو رکھنے کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ اس نے اسے صرف ڈرانے کی نیت سے لہرایا تھا اور اسے احساس نہیں ہوا کہ القاسم زخمی ہو گیا ہے۔ ملزم نے یہ بھی کہا کہ اسے گفتگو کی درست تفصیلات یاد نہیں۔
القاسم کے اہلِ خانہ اور دوستوں نے عرب نیوز سے گفتگو میں اس قتل کو ’انتہائی صدمہ دینے والا‘ قرار دیا تھا۔ نوجوان طالبِ علم کے چچا عبدالرحمان القاسم کے مطابق محمد خاندان کا پہلا اور اکلوتا بیٹا تھا، جسے چار بیٹیوں کے بعد والدین نے بہت پیار سے پالا تھا۔
واقعے کی ویڈیو بھی عدالت میں پیش کی گئی جس میں کورِیگن کو القاسم اور اس کے دوستوں سے بات کرتے اور پھر جھگڑے کی صورتحال بنتی دکھائی دیتی ہے۔ ملزم نے اعتراف کیا کہ اس نے واقعے سے قبل قریب ہی ایک پب میں چھ گلاس گنیز، ایک سے دو جِن اینڈ ٹونک، ووڈکا کی کئی ڈرنکس پی تھیں اور دو مرتبہ کوکین بھی استعمال کی تھی، مگر اس کے باوجود وہ خود کو ’نشے میں نہیں‘ سمجھتا تھا۔
اس نے دعویٰ کیا کہ وہ ماضی میں حملے کا شکار ہونے کے بعد ’خود دفاع‘ کے لیے کچن کا چاقو ساتھ رکھتا تھا۔
پولیس نے جائے وقوعہ کے قریب ایک جھاڑی میں سے 13 سینٹی میٹر بلیڈ والا چاندی کا چاقو برآمد کیا۔ کورِیگن کے والد پیٹر، جن کی عمر پچاس کے لگ بھگ ہے، نے بھی جرم میں مدد دینے کا اعتراف کیا ہے اور وہ بھی سزا کے منتظر ہیں۔
ای ایف انٹرنیشنل لینگویج کیمپس کیمرِج، جہاں القاسم زیرِ تعلیم تھا، نے طالبِ علم کو باصلاحیت، خوش مزاج اور سب کا دل جیت لینے والا نوجوان قرار دیا ہے۔
