Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’قومی مفاہمت پاکستان کی فوری ضرورت ہے‘، کوٹ لکھپت جیل سے پی ٹی آئی رہنماؤں کا خط

خط میں افغانستان کے ساتھ بگڑتے ہوئے دوطرفہ تعلقات کو ملکی سلامتی کے لیے بڑا خطرہ قرار دیا گیا ہے
پاکستان کے شہر لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں قید پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینیئر رہنماؤں نے ایک مشترکہ خط کے ذریعے ملک کو درپیش کثیر جہتی چیلنجز پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ’قومی مفاہمت‘ کو وقت کی اہم ترین ضرورت قرار دے دیا ہے۔
پی ٹی آئی کے اسیر رہنماؤں شاہ محمود قریشی، ڈاکٹر یاسمین راشد، اعجاز چوہدری اور میاں محمود الرشید کی جانب سے منگل کو جاری کردہ اس مراسلے میں کہا گیا ہے کہ پاکستان اس وقت تاریخ کے ایک ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں اب معمول کے مطابق حالات جاری رکھنا ممکن نہیں رہا۔
خط میں تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی سرگرمیوں کے باعث بڑھتی ہوئی دہشت گردی اور افغانستان کے ساتھ بگڑتے ہوئے دوطرفہ تعلقات کو ملکی سلامتی کے لیے بڑا خطرہ قرار دیا گیا ہے۔
رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ’جاری مذاکرات کے باوجود ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حالیہ حملوں اور اس کے نتیجے میں ایران کے جوابی ردعمل نے پورے خطے کو غیر مستحکم کر دیا ہے جبکہ انڈیا اور اسرائیل کا بڑھتا ہوا گٹھ جوڑ پاکستان کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے۔‘
معاشی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے خط میں خبردار کیا گیا ہے کہ ’عالمی سطح پر تیل اور گیس کی بڑھتی ہوئی قیمتیں پاکستان کے عوام کی بھاری قربانیوں سے حال ہی میں حاصل ہونے والے معاشی استحکام پر فوری اثر ڈالیں گی۔‘
’اس کے علاوہ خلیجی ممالک میں جاری کشیدگی ملکی ترسیلاتِ زر اور سرمایہ کاری کے ماحول پر منفی اثرات مرتب کرے گی۔‘
پی ٹی آئی کے رہنماؤں نے ملک بھر میں جاری عوامی غم و غصے اور احتجاج کے نتیجے میں ہونے والے قیمتی جانوں کے ضیاع کو ’انتہائی تشویش ناک‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’موجودہ پیش رفت پاکستان کی معیشت، سلامتی اور استحکام کے لیے نقصان دہ ثابت ہو گی۔‘
خط میں مزید کہا گیا ہے کہ ’انڈیا کا سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کا فیصلہ اور جہلم و چناب دریاؤں پر پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت میں اضافہ ایک بڑا بحران پیدا کر سکتا ہے۔‘
 ’پاکستان کی جانب سے آبی منصوبوں پر اندرونی اتفاق رائے پیدا کرنے میں ناکامی ملک کی زرعی معیشت کے لیے تباہ کن ثابت ہو گی۔‘
مراسلے کے اختتام پر پی ٹی آئی رہنماؤں نے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ فوری طور پر قومی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے اپنے طرزِ عمل پر نظرثانی کرے۔
ان کا کہنا ہے کہ ’اب ہمارے پاس مزید وقت بالکل نہیں ہے اور ملک کو بحرانوں سے نکالنے کے لیے فوری طور پر قومی مفاہمت کا مظاہرہ کرنا ہو گا۔‘

شیئر: