پاکستان کے شہر کراچی سے سعودی عرب کے شہر جدہ جانے والی ایک نجی ایئر لائن ایئر سیال کی پرواز کو فنی خرابی کے باعث روانگی کے تقریباً ایک گھنٹے بعد واپس کراچی ایئرپورٹ پر ہنگامی ٹیکنیکل لینڈنگ کرنا پڑی۔
اس پرواز میں عمرہ کی ادائیگی کے لیے جانے والے مسافروں کی بڑی تعداد موجود تھی جن میں سے کئی احرام کی حالت میں تھے اور رمضان المبارک کے باعث سحری کے اوقات میں سفر کر رہے تھے۔
واقعے کے بعد مسافروں نے انتظامیہ کے خلاف احتجاج کیا۔
مزید پڑھیں
-
السعودیہ کی پشاور سمیت کئی شہروں کے لیے پروازیں 2 مارچ تک منسوخNode ID: 901237
ایئرپورٹ پر تعینات ایک سینیئر افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اردو نیوز کو بتایا کہ پرواز رات قریباً اڑھائی بجے کراچی سے جدہ کے لیے روانہ ہوئی تھی۔
ٹیک آف کے کچھ ہی دیر بعد طیارے میں فنی خرابی کی نشاندہی ہوئی، جس پر کپتان نے حفاظتی اقدامات کے تحت جہاز کو واپس کراچی موڑنے کا فیصلہ کیا۔ تقریباً ایک گھنٹے بعد طیارہ بحفاظت جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر لینڈ کر گیا۔
حکام کا کہنا ہے کہ لینڈنگ معمول کے مطابق تھی اور کسی قسم کا جانی نقصان یا ہنگامی صورتحال پیش نہیں آئی۔
تاہم پرواز کی واپسی کے بعد مسافروں کو طویل انتظار کا سامنا کرنا پڑا۔ کئی مسافر احرام باندھے ہوئے تھے کیونکہ وہ براہ راست جدہ پہنچ کر عمرہ کی ادائیگی کرنا چاہتے تھے۔

ماہِ رمضان میں عمرہ کے لیے سفر کرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہو جاتا ہے اور اکثر پروازیں رات کے اوقات میں روانہ ہوتی ہیں تاکہ مسافر سعودی عرب پہنچ کر اپنے مذہبی فرائض ادا کر سکیں۔
ایئر پورٹ حکام کے مطابق مسافروں کو بعد ازاں صبح سوا 10 بچے دوسری پرواز کے ذریعے کراچی سے سعودی عرب روانہ کیا گیا۔
مسافروں کا کہنا ہے کہ انہیں سحری کے وقت مناسب انتظام فراہم نہیں کیا گیا۔ بعض زائرین نے شکایت کی کہ جہاز کی واپسی کے بعد ایئرلائن انتظامیہ کی جانب سے بروقت سحری مہیا کی گئی اور نہ ہی واضح معلومات فراہم کی گئیں۔
ایک مسافر نے بتایا کہ وہ اپنے اہلِ خانہ کے ہمراہ عمرہ کے لیے جا رہے تھے اور احرام کی حالت میں کئی گھنٹے ایئرپورٹ پر بیٹھے رہے مگر انتظامیہ کی جانب سے کھانے پینے کا مناسب بندوبست نہیں کیا گیا۔
ایئرپورٹ ذرائع کے مطابق طیارے کو فنی معائنے کے لیے ہینگر منتقل کیا گیا جہاں انجینئرنگ ٹیم نے خرابی کا جائزہ لیا اور حفاظتی تقاضوں کے تحت پرواز کو واپس لانا ضروری سمجھا گیا۔

ایئرلائن حکام نے مسافروں کو بتایا کہ مسافروں کی جان و مال کی حفاظت اولین ترجیح ہے اور کسی بھی تکنیکی خرابی کی صورت میں فوری کارروائی کی جاتی ہے۔
واقعے کے بعد بعض مسافروں نے سوشل میڈیا پر بھی اپنی شکایات شیئر کیں اور کہا کہ رمضان کے مہینے میں عمرہ کیلئے جانے والے زائرین کی سہولت کا خاص خیال رکھا جانا چاہیے تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ احرام کی حالت میں طویل انتظار کرنا جسمانی اور ذہنی طور پر مشکل ہوتا ہے، خصوصاً جب کھانے پینے کی سہولت بروقت دستیاب نہ ہو۔
فضائی ماہرین کے مطابق تکنیکی لینڈنگ کوئی غیر معمولی بات نہیں اور دنیا بھر میں حفاظتی اصولوں کے تحت ایسی مثالیں سامنے آتی رہتی ہیں۔
سینیئر ایوی ایشن رپورٹر راجہ کامران کا کہنا ہے کہ جدید طیاروں میں متعدد حفاظتی نظام موجود ہوتے ہیں جو کسی بھی خرابی کی صورت میں پائلٹس کو بروقت آگاہ کرتے ہیں، اور اسی بنیاد پر فیصلہ کیا جاتا ہے کہ پرواز جاری رکھی جائے یا واپس لوٹا جائے۔
تاہم مسافروں کا موقف ہے کہ تکنیکی خرابی اپنی جگہ، لیکن ایئرلائن کی ذمہ داری تھی کہ رمضان میں سفر کرنے والے روزہ داروں اور عمرہ زائرین کیلئے بہتر انتظامات کیے جاتے۔ کئی افراد نے مطالبہ کیا کہ انہیں مناسب معاوضہ یا سہولت فراہم کی جائے کیونکہ تاخیر کے باعث ان کے ہوٹل بکنگ اور دیگر انتظامات متاثر ہوئے۔
یہ خبر شائع ہونے تک ایئر لائن کی جانب سے اس معاملے پر موقف سامنے نہیں آیا ہے۔












