پاکستان سے بیرونِ ملک سفر کرنے والے ہزاروں مسافر ان دنوں غیریقینی صورتِ حال کا سامنا کر رہے ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدہ حالات کے باعث فضائی آپریشن بری طرح متاثر ہوا ہے تاہم تمام بین الاقوامی پروازیں بند نہیں ہوئیں۔
پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کئی ممالک کے لیے پروازیں بدستور جاری ہیں، جبکہ خلیجی ریاستوں کے لیے متعدد پروازیں منسوخ یا عارضی طور پر معطل کی گئی ہیں۔
رمضان المبارک کے دوران موجودہ صورتحال نے عمرہ زائرین کی مشکلات میں بھی نمایاں اضافہ کیا ہے۔
مزید پڑھیں
-
’سیفٹی فرسٹ‘ ریاض ایئرپورٹس کمپنی نے گنیز ورلڈ ریکارڈ قائم کردیاNode ID: 897989
پی اے اے کے مطابق اس وقت پاکستان سے ترکیہ، سعودی عرب، سری لنکا، ملائیشیا، چین، تھائی لینڈ، آذربائیجان، ازبکستان، برطانیہ، ویتنام، کرغزستان اور افغانستان کے لیے پروازیں آپریٹ ہو رہی ہیں۔
ان ممالک کے لیے فضائی رابطے اگرچہ مکمل طور پر منقطع نہیں ہوئے، لیکن بعض روٹس پر تاخیر، شیڈول کی تبدیلی اور نشستوں کی کمی کی شکایات سامنے آ رہی ہیں۔
ایئرلائن حکام کا کہنا ہے کہ وہ صورتحال کے مطابق پروازوں کے اوقات کار میں رد و بدل کر رہے ہیں تاکہ مسافروں کو کم سے کم نقصان ہو۔
دوسری جانب متحدہ عرب امارات، قطر، کویت اور بحرین کے اہم ہوائی اڈوں کے لیے پروازیں بڑی تعداد میں متاثر ہوئی ہیں۔ دبئی، ابوظبی، شارجہ، دوحہ اور کویت سٹی سمیت دیگر شہروں کے لیے جانے والی پروازوں کی منسوخی نے خاص طور پر ان مسافروں کو متاثر کیا ہے جو ان شہروں کو ٹرانزٹ کے طور پر استعمال کرتے تھے۔
خلیجی ممالک پاکستان سے یورپ، افریقہ اور سعودی عرب جانے والی کنیکٹنگ پروازوں کا بڑا مرکز سمجھے جاتے ہیں، اس لیے ان ممالک میں فضائی آپریشنز متاثر ہونے سے بین الاقوامی سفر بھی متاثر ہوا ہے۔
پی اے اے کے اعداد و شمار کے مطابق صرف گزشتہ 24 گھنٹوں میں ملک بھر سے 106 پروازیں منسوخ کی گئیں۔ تین روز کے دوران مشرق وسطیٰ جانے والی تقریباً 300 سے زائد پروازیں منسوخ ہو چکی ہیں۔

کراچی، لاہور اور پشاور کے ہوائی اڈے سب سے زیادہ متاثر ہوئے۔ کراچی سے مشرق وسطیٰ جانے والی 32 پروازیں منسوخ ہوئیں جبکہ لاہور اور پشاور سے بھی درجنوں پروازیں متاثر ہوئیں۔
فیصل آباد، کوئٹہ اور ملتان جیسے شہروں سے بھی متعدد پروازیں منسوخ کی گئیں جس کے باعث مسافروں کو بڑے شہروں کا رخ کرنا پڑا۔
بین الاقوامی سطح پر بھی صورتِ حال سنگین رُخ اختیار کر چکی ہے۔ فلائٹ ٹریکنگ ویب سائٹ فلائٹ ریڈار 24 کے مطابق مشرق وسطیٰ کے سات بڑے ہوائی اڈوں پر منسوخ ہونے والی پرازوں کی تعداد 9 ہزار 500 سے تجاوز کر چکی ہے۔ 28 فروری سے 3 مارچ کے درمیان ہزاروں پروازیں منسوخ ہوئیں۔ اگر فی پرواز اوسطاً 160 مسافروں کا اندازہ لگایا جائے تو 15 لاکھ سے زائد مسافر متاثر ہوئے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کشیدگی برقرار رہی تو یہ تعداد مزید بڑھ سکتی ہے۔
رمضان اور عمرہ زائرین کی مشکلات
رمضان المبارک کے آغاز کے ساتھ ہی پاکستان سے بڑی تعداد میں شہری عمرہ کی ادائیگی کے لیے سعودی عرب روانہ ہو رہے ہیں۔
سعودی عرب کے لیے اگرچہ براہِ راست پروازیں جزوی طور پر جاری ہیں، لیکن پاکستان سے کئی مسافر دبئی، دوحہ یا ابوظبی کے ذریعے جدہ یا مدینہ منورہ پہنچتے تھے۔ یہ راستہ نسبتاً سستا اور آسان سمجھا جاتا تھا، خاص طور پر ان مسافروں کے لیے جو کم لاگت ایئرلائنز استعمال کرتے تھے۔
خلیجی روٹس کی منسوخی کے باعث رمضان میں عمرہ پر جانے والے متعدد زائرین کی کنیکٹنگ پروازیں منسوخ ہو گئیں۔ کچھ مسافروں کو ایئرپورٹس پر گھنٹوں انتظار کرنا پڑا جبکہ بعض کو کئی روز تک ہوٹلوں میں قیام کرنا پڑا۔

ٹریول ایجنٹس کے مطابق ری بکنگ کے عمل میں تاخیر اور اضافی اخراجات نے زائرین کو مالی دباؤ میں مبتلا کر دیا ہے۔ کئی افراد نے شکایت کی کہ انہیں دوبارہ مکمل کرایہ ادا کرنا پڑا کیونکہ پرانی ٹکٹیں مخصوص تاریخ تک محدود تھیں۔
بعض زائرین کو ویزا کی مدت ختم ہونے کا خدشہ بھی ہے۔ رمضان میں عمرہ کی خاص اہمیت کے باعث لوگ پہلے سے بکنگ کروا لیتے ہیں، لیکن اچانک پرواز منسوخ ہونے سے ان کے روحانی سفر میں رکاوٹ آ گئی۔
کراچی کے ایک مسافر نے بتایا کہ ’وہ اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ عمرہ کے لیے روانہ ہونے والے تھے مگر دبئی میں ٹرانزٹ پرواز منسوخ ہونے سے ان کا پورا پروگرام متاثر ہو گیا اور انہیں نئی ٹکٹیں خریدنا پڑیں۔‘
ٹکٹوں کی قیمتوں میں اضافہ
ٹریول انڈسٹری سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ ’محدود دستیاب نشستوں کے باعث کرایوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ کچھ روٹس خصوصاً امریکہ، کینیڈا اور ترکی کے لیے ٹکٹیں معمول کی قیمتوں سے مہنگی مل رہی ہیں، بعض ایئرلائنز ری فنڈ یا مفت ری شیڈولنگ کی سہولت دے رہی ہیں، لیکن ہر مسافر کو یکساں سہولت دستیاب نہیں۔
کراچی میں خلیجی ملک کی ایئرلائن کے لیے کام کرنے والے ایک سینئر افسر نے اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’گزشتہ چار روز سے خلیجی ممالک کے لیے سفر بند ہونے کے باعث مختلف ایئرلائنز کو اب تک کروڑوں روپے کا نقصان ہوچکا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’فضائی سفر کی بندش کی وجہ سے جہاں مسافروں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے وہیں اب ایئر لائن کمپنیوں کے لیے بھی مشکلات بڑھ رہی ہیں۔‘
انہوں نے کہا کہ ’رمضان سیزن ایئر لائنز کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہوتا ہے، رمضان کی بکنگ کئی کئی دن پہلے ہوجاتی ہے، اب ایئر پورٹس کی بندش کی وجہ سے فلائیٹ آپریشنز بری طرح متاثر ہورہے ہیں۔‘
حکام کا مؤقف اور آئندہ امکانات
پی اے اے کا کہنا ہے کہ ’موجودہ صورتِ حال مسلسل مانیٹر کی جا رہی ہے۔ پاکستان میں حالات معمول پر ہیں، خلیجی ممالک کے ایئرپورٹس کے فعال ہونے پر فلائٹ آپریشنز مکمل طور پر بحال کر دیا جائے گا۔ مسافروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ایئرپورٹ روانگی سے قبل اپنی ایئرلائن کمپنی سے پرواز کی تازہ ترین صورتِ حال معلوم کر لیں۔‘
ماہرین کے مطابق فضائی حدود کی بندش یا حفاظتی خدشات کے باعث ایئرلائنز کو متبادل روٹس اختیار کرنے پڑتے ہیں جس سے لاگت اور وقت دونوں بڑھ جاتے ہیں۔












