ایران چھوڑ کر پاکستان آنے والوں کی روداد، ’قریب ہی میزائلوں کی بارش دیکھی‘
ایران چھوڑ کر پاکستان آنے والوں کی روداد، ’قریب ہی میزائلوں کی بارش دیکھی‘
منگل 3 مارچ 2026 15:50
تفتان سرحد کوئٹہ سے تقریباً 500 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ (فوٹو: اے ایف پی)
ہمسايہ ملک ایران سےواپس لوٹنے والے پاکستانی شہری بھاری سوٹ کیس گھسیٹتے ہوئے سرحد پار کر رہے تھے اور ساتھ ساتھ میزائل داغے جانے اور سفر کے دوران افراتفری کا ذکر کر رہے تھے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے صحافیوں نے ایران کے شہر میرجاوہ اور پاکستان کے مغربی صوبے بلوچستان کے شہر تفتان کے درمیان واقع دور دراز سرحدی گزرگاہ پر لوگوں کی مسلسل آمدورفت دیکھی، جہاں وہ بڑے لوہے کے دروازوں سے گزر رہے تھے۔
سنیچر سے ایران کے دارالحکومت تہران میں زور دار دھماکے ہو رہے ہیں، جبکہ دنیا بھر کے ممالک کے سفارت خانوں نے اپنے شہریوں کو ملک چھوڑنے کی ہدایت کی ہے۔
38 سلہ تاجر عامر محمد نے پیر کو اے ایف پی کو بتایا، ’ہمارے تمام پاکستانی بھائی جو تہران اور دیگر شہروں میں تھے، روانہ ہونا شروع ہو گئے تھے اور ٹرمینل پر پہنچ رہے تھے، جس سے شدید رش ہوا۔‘
انہوں نے کہا کہ رش کی وجہ سے ٹرانسپورٹ کے بڑے مسائل پیدا ہو گئے تھے۔
وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے منگل کو ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ پاکستان کے ایران میں تین قونصل خانے کام کر رہے ہیں تاکہ وہاں موجود 35 ہزار پاکستانی شہریوں کو مدد فراہم کی جا سکے۔
انہوں نے اسلام آباد میں صحافیوں کو بتایا کہ حالیہ دنوں میں تقریباً 800 افراد پاکستان واپس آ چکے ہیں۔
تفتان سرحد بلوچستان کے دارالحکومت اور سب سے بڑے شہر کوئٹہ سے تقریباً 500 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔
سرحد پر اے ایف پی کے صحافیوں نے ایرانی پرچم کو سرنگوں دیکھا جبکہ فوجی پہرہ دے رہے تھے۔
زیادہ تر لوگ بھاری سامان پہیوں پر رکھ کر سرحد کے پیدل راستے سے گزر رہے تھے، جبکہ مال بردار ٹرکوں کی لمبی قطار لگی ہوئی تھی۔
38 سالہ ثاقب نے کہا کہ ہفتے کے روز تہران پر ہونے والے حملوں نے ہمیں شہر چھوڑنے پر مجبور کر دیا۔ (فوٹو: اے ایف پی)
49 سالہ مسافر ارشاد احمد نے اے ایف پی کو بتایا کہ وہ تہران کے ایک ہاسٹل میں مقیم تھے جب انہوں نے قریب ہی میزائل کی بارش دیکھی۔
انہوں نے کہا، ’ہاسٹل کے قریب ایک فوجی اڈہ تھا اور ہم نے کئی میزائل فائر ہوتے دیکھے۔‘
’اس کے بعد ہم پاکستانی سفارت خانے گئے تاکہ وہ ہمیں وہاں سے نکال سکیں۔ انہوں نے ہمیں بحفاظت یہاں پہنچا دیا۔‘
پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ آپریشن میں ہلاکت بین الاقوامی قانون کی ’خلاف ورزی‘ ہے۔
شہباز شریف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا، ’یہ ایک پرانا اصول ہے کہ سربراہانِ مملکت یا حکومت کو نشانہ نہیں بنایا جانا چاہیے۔‘
انہوں نے مزید کہا، ’پاکستان کے عوام ایران کے عوام کے ساتھ ان کے غم اور دکھ کی اس گھڑی میں شریک ہیں اور آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت پر دلی تعزیت پیش کرتے ہیں۔‘
تہران میں پاکستانی سفارت خانے کے ایک استاد، جنہوں نے اپنا نام ثاقب بتایا، نے اے ایف پی کو بتایا کہ، ’ہمارے نکلنے سے پہلے صورتحال معمول کے مطابق تھی۔ حالات اتنے خراب نہیں تھے۔‘
38 سالہ ثاقب نے کہا کہ ہفتے کے روز تہران پر ہونے والے حملوں نے ہمیں شہر چھوڑنے پر مجبور کر دیا۔
انہوں نے کہا، ’ہفتے کی رات صورتحال خراب ہو گئی، جب حملوں میں قیمتی جانوں کا نقصان ہوا۔‘