سعودی خواتین کو جج نہ بنانے کی وجہ کیا ہے ؟

سعودی عدالتی قانون میں جج کے لئے مرد ہونے کی شرط نہیں
سعودی رکن شوریٰ ڈاکٹر لطیفہ الشعلان نے سعودی خواتین کو جج مقرر کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے موقف اختیار کیاکہ 1428ھ میں جاری شدہ سعودی عدالتی قانون میں جج کے لئے مرد ہونے کی شرط نہیں تو پھر خواتین کو جج کیوں مقرر نہیں کیا جارہا؟
سبق ویب سائٹ کے مطابق الشعلان کا یہ بھی کہنا تھا کہ شیخ الازہر ڈاکٹر محمد طنطاوی 2003ءمیں خواتین کو جج بنانے کی بابت فتویٰ جاری کرچکے ہیں۔ 
شیخ الازہر کے بیان کی بنیاد پر ہی ڈاکٹر تھانی الجبالی کو مصر کی اعلیٰ آئینی عدالت کا جج مقرر کیا گیا تھا۔

بیشترعرب ممالک میں خواتین جج کے فرائض انجام دے رہی ہیں۔ڈاکٹر الشعلان

ڈاکٹر الشعلان کا کہنا تھا کہ پبلک پراسیکیوشن میں خواتین انسپکٹرز کے تقرر کی خبر انتہائی خوش کن ہے۔ ایسا مملکت میں پہلی مرتبہ ہوا ہے۔ پبلک پراسیکیوشن جدید ریاستی نظام میں عدلیہ کا اٹوٹ حصہ ہے۔ اسی تناظر میں یہ مطالبہ دہرایا جارہا ہے کہ خواتین کو جج مقرر کیا جائے۔عدالتی قانون جو 1428ھ میں شاہی فرمان پر جاری ہوا تھا، اس میں جج کے لئے مرد ہونے کی شرط کا کوئی ذکر نہیں۔
الشعلان نے وضاحت کی کہ عدالتی قانون کی دفعہ 31 میں جج بننے کی جو شرائط بیان کی گئی ہیں وہ یہ ہیں کہ جج سعودی شہری ہو۔ اچھے کردار کا مالک ہو۔ جج کے فرائض انجام دینے کی مکمل اہلیت رکھتا ہو۔ اس میں جج کے مرد ہونے کی شرط کا کوئی ذکر نہیں۔
لطیفہ الشعلان نے اپنے مطالبے کے حق میں عرب مسلم ممالک کو نظیر کے طور پر پیش کرتے ہوئے کہا کہ بیشترعرب مسلم ممالک میں خواتین جج کے فرائض انجام دے رہی ہیں۔ اس میدان میں اپنی قابلیت اور بھرپور صلاحیت منوا چکی ہیں۔ مراکش، تیونس، الجزائر اور سوڈان میں گزشتہ صدی کے چھٹے عشرے سے خواتین جج کے عہدے پر کام کررہی ہیں۔ اردن میں پہلی جج خاتون کا تقرر1996 اور ، مصر میں 2003 میں کیا گیا۔ بحرین میں 2006ءمیں پہلی مرتبہ خاتون جج کی تعیناتی ہوئی۔
لطیفہ الشعلان نے مزید کہاکہ سعودی عرب کئی ایسے بین الاقوامی معاہدوں پر دستخط کرچکا ہے جس میں حقوق کے حوالے سے خواتین و حضرات کے درمیان امتیازپر پابندی لگائی گئی ہے۔ ان میں سرکاری عہدے شامل ہیں۔ سعودی عرب اس معاہدے پر بھی دستخط کئے ہوئے ہے جس میں خواتین کے خلاف ہر طرح کے امتیاز کے خاتمے کی تاکید کی گئی ہے۔

شیئر: