سب کچھ مقررہ وقت سے پہلے مکمل ہو رہا ہے، ایرانی رہنما بات کرنا چاہتے ہیں: صدر ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کی نئی قیادت ان سے بات چیت کرنا چاہتی ہے اور وہ اس پر تیار ہیں۔
عرب نیوز کے مطابق اتوار کو امریکی جریدے دی اٹلانٹک سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ’وہ بات کرنا چاہتے ہیں اور میں نے بھی بات کرنے پر آمادگی ظاہر کر دی ہے، اس لیے میں ان سے بات کروں گا۔ انہیں یہ قدم پہلے اٹھانا چاہیے تھا۔‘
ایرانبی سپریم لیڈر کی ہلاکت کے بعد ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ قیادت کے لیے ایک کونسل نے عارضی طور پر سپریم لیڈر کے فرائض سنبھال لیے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اس کونسل میں خود وہ، عدلیہ کے سربراہ اور بااختیار گارڈینز کونسل کے ایک رکن شامل ہیں، جو ملک کے اعلیٰ ترین عہدے کی ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں۔
ادھر جب امریکی صدر سے پوچھا گیا کہ یہ ممکنہ مذاکرات کب ہوں گے تو انہوں نے جواب دیا کہ ’میں آپ کو نہیں بتا سکتا۔‘ انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ وہ ایران میں کس شخصیت سے بات چیت کرنا چاہتے ہیں۔
ایرانی قیادت، جو برسوں سے امریکہ اور دیگر مغربی حکومتوں کے ساتھ وقفے وقفے سے مذاکرات کرتی رہی ہے، کا حوالہ دیتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ’ان میں سے زیادہ تر لوگ اب نہیں رہے۔‘
’جن لوگوں سے ہم معاملہ کر رہے تھے ان میں سے کچھ اب نہیں رہے، کیونکہ یہ ایک بڑا حملہ تھا۔‘ ان کا بظاہر اشارہ اس حملے کی جانب تھا جس میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اور دیگر اعلیٰ حکام ہلاک ہوئے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ’انہیں یہ پہلے کر لینا چاہیے تھا۔ وہ معاہدہ کر سکتے تھے، انہیں پہلے کرنا چاہیے تھا۔ انہوں نے حد سے زیادہ ہوشیاری دکھانے کی کوشش کی۔‘
’جنگ میں مجموعی طور پر کامیابی حاصل ہو رہی ہے‘
ایک اور انٹرویو میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ سنیچر کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے شروع کی گئی جنگ میں اب تک ایران کے 48 رہنما ہلاک ہو چکے ہیں۔
امریکی نشریاتی ادارے فوکس نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ ’کوئی یقین نہیں کر سکتا کہ ہمیں کتنی کامیابی حاصل ہو رہی ہے، 48 رہنما ایک ہی حملے میں مارے گئے۔ اور یہ عمل تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔‘
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ سنیچر کو شروع کی گئی جنگ میں مجموعی طور پر کامیابی حاصل ہو رہی ہے، جس کا مقصد ایران کی قیادت کو ہٹانا اور اس کی فوجی صلاحیت کو تباہ کرنا ہے۔ ایران نے اپنے سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی ہلاکت کی تصدیق کر دی ہے۔
ایک علیحدہ انٹرویو میں امریکی نشریاتی ادارے سی این بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ’ہم نہ صرف اپنے لیے بلکہ پوری دنیا کے لیے اپنا کام کر رہے ہیں۔ اور سب کچھ مقررہ وقت سے پہلے مکمل ہو رہا ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’اس وقت معاملات نہایت مثبت انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں، بہت ہی مثبت انداز میں۔‘
یہ انٹرویوز اُس وقت کیے گئے جب امریکی فوج نے پہلی بار اس جنگ میں جانی نقصان کی تصدیق کی۔ اعلامیے کے مطابق تین نامعلوم فوجی اہلکار ہلاک، پانچ شدید زخمی اور کئی دیگر معمولی زخمی ہوئے ہیں۔
امریکی مرکزی کمانڈ سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے یہ بھی اعلان کیا کہ امریکہ نے خلیجِ عمان میں ایک ایرانی جنگی جہاز کو اس کی لنگرگاہ پر تباہ کر دیا ہے۔
