تقسیمِ ہند کے وقت جدا ہو جانے والے جھمکے کی تلاش

ہندوستان سے تعلق رکھنے والی ایک تاریخ دان اور لکھاری آنچل ملہوترا نے تقسیمِ ہند کے دوران بچھڑ جانے والے جھمکوں کی جوڑی کی ایک دل سوز کہانی سوشل میڈیا پر بیان کی ہے۔ انہوں نے پڑھنے والوں سے یہ بھی درخواست کی ہے کہ اگر انہوں نے اس کہانی کو سن رکھا ہے تو انہیں ضرور مطلع کریں، کیا پتہ یہ دو جھمکے اور ان کے مالکان آپس میں ایک بار پھر مل جائیں۔
آنچل ملہوترا نے لکھا ہے کہ ’قریب ایک سال پہلے میری ایک شاگرد جو مجھے دہلی میں ملی تھی، اس نے ایک جھمکے کی جوڑی کے بارے میں خط لکھا جو تقسیمِ ہند کے دوران ایک دوسرے سے جدا ہوگئے تھے۔‘
آنچل کی شاگرد نوپور مروہ نے انہیں بتایا کہ ان کی دادی کرن بالا مروہ اور ان کی ایک سہیلی نوری رحمان، جو سنہ 1947 میں پانچ اور چھ برس کی تھیں، دونوں ایک محلے میں رہا کرتی تھیں۔ یہ محلہ جموں کشمیر کے ضلع پونچھ میں واقع تھا۔
’تقسیم کے وقت نوری کے خاندان نے فیصلہ کیا کہ وہ لوگ پاکستان ہجرت کر جائیں گے۔ اپنی دیرینہ دوست کو نشانی دینے کے لیے ان دونوں نے سونے کے جھمکے کی جوڑی میں سے ایک ایک اپنے پاس رکھ لیا۔‘
ستر سال بعد ایک دن جب کرن مروہ کی پوتی نوپور نے تقسیم کی بابت ان سے کوئی سوال کیا تو ان کی دادی نے انہیں ایک جھمکا نکال کر دکھایا۔ اور صرف یہی نہیں بلکہ دوستی کی نشانی کو کرن کے نام بھی کر دیا۔ کرن مروہ کو امید ہے کہ شاید ایک دن پھر سے یہ جھمکوں کی جوڑی آپس میں مل جائے۔

ہندوستان کی تقسیم کے نتیجے میں لاکھوں افراد کو اپنے آبائی علاقوں سے ہجرت کرنا پڑی۔ فوٹو اے ایف پی

’دادی نے پر نم آنکھوں کے ساتھ تسلیم کیا کہ انہوں نے اپنی پوتی کا نام نوپور بھی اسی 70 سال پرانی دوست کے بارے میں سوچتے ہوئے رکھا۔ جب ہی مجھ پر یہ آشکار ہوا کہ وہ مجھے نوری کہہ کر کیوں پکارا کرتی تھیں۔‘
آنچل نے ایک جھمکے کی تصویر بھی سوشل میڈیا پر ڈالی مگر ان کا کہنا تھا کہ یہ وہ والا جھمکا نہیں ہے۔ ’میں اس کو ایک دن دیکھنے والی ہوں۔ مگر مجھے اس جھمکے کی جوڑی کے بارے میں اکثر خواب آتے ہیں اور یہ کہانی میرے لیے بالکل زندہ ہے۔‘
آنچل نے مزید لکھا ہے کہ اگر کسی پڑھنے والے نے اس جھمکے کے بارے میں اپنے بڑوں سے سن رکھا ہے اور اگر آپ کے دادا دادی کے پاس اس قسم کا کوئی جھمکا ہے تو ان سے رابطہ کریں۔ ’کیا معلوم کہ کرن اور نوری اپنے آخری ایام میں ایک بار پھر مل جائیں۔‘

شیئر: