جیسے جیسے نعرے بلند،عمران خان کی تسبیح کے دانے تیز

وزیراعظم پانچ بج کر انیس منٹ پر جبکہ صدر مملکت عارف علوی ان کے ایک منٹ بعد ایوان میں آئے.(فوٹو:ٹوئٹر)
پاکستان کے ایوان زیریں قومی اسمبلی کے نئے پارلیمانی سال کے آغاز پر جمعرات کو صدر مملکت کے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کے موقع پر سابق صدر آصف زرداری، سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، خواجہ سعد رفیق اور رانا ثناء اللہ پروڈکشن آرڈرز جاری نہ ہونے پر اجلاس میں شرکت نہ کر سکے۔ اہم بات یہ ہے کہ پاکستان کی بری فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ بھی اپنے سپریم کمانڈر کا خطاب سننے نہ پہنچ پائے۔ 

پارلیمنٹ ہاؤس آمد پر وزیراعظم نے صدر مملکت کا استقبال کیا، تصویر: ٹوئٹر

پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے قبل اپوزیشن جماعتوں کی مشترکہ پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ہوا جس کی صدارت شہباز شریف نے کرنا تھی لیکن وہ نہ پہنچ سکے۔ بلاول بھٹو زرداری بھی پارلیمنٹ ہاؤس نہ آئے، تاہم اپوزیشن نے ان دونوں رہنماؤں کی غیر موجودگی میں ہی صدارتی خطاب کے دوران احتجاج کا فیصلہ کیا۔ 
 اپوزیشن اپنے اسیر رہنماؤں آصف زرداری، شاہد خاقان عباسی، خواجہ سعد رفیق اور رانا ثناء اللہ کی بڑی بڑی تصاویر ایوان میں لے کر آئی لیکن سابق فاٹا سے منتخب ہونے والے علی وزیر اور محسن داوڑ کو نظر انداز کرتے ہوئے ان کی تصاویر لانا مناسب نہ سمجھا گیا۔ 
کب کیا ہوا؟ 
پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کا سرکاری وقت اگرچہ شام پانچ بجے رکھا گیا تھا لیکن روایت کے برعکس اجلاس اس مرتبہ قدرے تاخیر سے شروع ہوا۔ وزیراعظم پانچ بج کر انیس منٹ پر جبکہ صدر مملکت عارف علوی ان کے ایک منٹ بعد ایوان میں آئے۔ قومی ترانہ، تلاوت اور نعت کے بعد جونہی صدر کو خطاب کی دعوت ملی تو قائد حزب اختلاف شہباز شریف ایوان میں داخل ہوئے۔ اپوزیشن ارکان نے کھڑے ہو کر شیر آیا کے نعرے لگائے تو صدر انھی نعروں کی گونج میں روسٹرم پر پہنچ گئے۔ 

صدر مملکت پارلیمنٹ ہاؤس میں وزیراعظم، چیئرمین سینیٹ اور سپیکر کے ہمراہ، تصویر: ٹوئٹر

اس کے ساتھ ہی پیپلز پارٹی کے راجا پرویز اشرف نے بھی بات کرنے کی اجازت چاہی جو حسب توقع انھیں نہ ملی جس کے بعد اپوزیشن ارکان اپنی نشستوں پر کھڑے ہو گئے اور پروڈکشن آرڈرز کے اجرا اور نیب قانون سے متعلق کتبے اٹھا لیے۔ خواجہ آصف اور احسن اقبال نے باری باری سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی تصویر کو دونوں ہاتھوں سے بلند کرکے اٹھائے رکھا۔ 
کچھ دیر گزری تو صدر مملکت نے اپنے خطاب میں انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے اور وہاں پر مبینہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی بات شروع کی تو اپوزیشن ارکان کشمیر کا سودا نا منظور کے نعرے لگاتے ہوئے سپیکر ڈائس کے سامنے جمع ہو گئے۔ اس دوران جب بھی اپوزیشن کے نعرے بلند ہوتے عمران خان تسبیح کے دانے گرانے میں تیزی لاتے اور پارلیمان کی چھت پر دیکھنا شروع کر دیتے۔ اپوزیشن ارکان کی جانب سے نعروں کی آواز بلند ہونے پر وزیراعظم نے ہیڈ فون لگا لیا۔ 
اپوزیشن کے احتجاج کے دوران شہباز شریف اپنی نشست پو موجود رہے اور باقی رہنماؤں کو وقتاً فوقتاً ہدایات جاری کرتے رہے۔
دوسری جانب حکومتی ارکان نے جب اپوزیشن کا احتجاج زور پکڑتے دیکھا تو کچھ وزرا اور ارکان نے وزیراعظم کے گرد حصار بنا لیا۔

اپوزیشن ارکان اپنے گرفتار رہنماؤں کی تصاویر بھی ایوان میں لائے، تصویر: قومی اسمبلی ٹوئٹر

بظاہر اپوزیشن کا احتجاج پرامن ہی لگ رہا تھا لیکن ایک وقت پر پیپلز پارٹی کے رکن آغا رفیع اللہ وزرا کی نشستوں کے بالکل قریب پہنچ گئے جس پر تحریک انصاف کے رکن جمیل احمد خان نے انہیں دھکا دیا جس کے بعد کافی دیر تک دھکم پیل ہوتی رہی۔  
اجلاس میں جب اپوزیشن کے نعرے بلند ہو رہے تھے تو مہمانوں کی گیلریوں میں بیٹھے سفارت کار جو کہ ہیڈ فون لگا کر صدر کی تقریر کا انگریزی ترجمہ سن رہے تھے ان کو سننے میں بھی شدید دقت کا سامنا کرنا پڑا۔ ان میں سے کچھ نے تو دونوں ہاتھوں سے ہیڈ فون کانوں کے ساتھ دبا رکھے تھے۔ 
صدارتی خطاب کے دوران اپوزیشن کا احتجاج جاری رہا جس کی وجہ سے ہیڈ فونز کے بغیر خطاب سننا ناممکن تھا۔ چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سمیت پاک فضائیہ اور پاک بحریہ کے سربراہان کی نشستوں پر ہیڈ فونز موجود نہ تھے جس کے باعث وہ بھی صورت حال سے محظوظ ہوتے رہے۔ 
تصاویر لانے کا آئیڈیا کس کا تھا؟ 
ایوان میں پارٹی رہنماؤں کی فریم شدہ تصاویر لانے کی روایت نہیں رہی بلکہ قواعد بھی اس کی اجازت نہیں دیتے تاہم مسلم لیگ ن نے نواز شریف کی نا اہلی کے بعد یہ سلسلہ شروع کیا تھا کہ وہ ایوان میں نواز شریف کی تصاویر پر مبنی بینرز لے کر آتے تھے۔

صدراتی خطاب کے دوران حکومتی ارکان نے وزیراعظم کو حصار میں لے لیا، تصویر: ویڈیو گریب

مشترکہ اجلاس میں تصاویر لانے کا آئیڈیا کس کا تھا اس حوالے سے مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کے بیشتر رہنما تو لاعلم تھے تاہم مسلم لیگ ن کی ترجمان مریم اورنگزیب نے اردو نیوز کو بتایا کہ یہ تجویز سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی تھی۔ اس سوال پر کہ محسن داوڑ اور علی وزیر کے ساتھ سوتیلوں جیسا سلوک کیوں کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ "متعلقہ افراد اور جماعتوں کو کہہ دیا گیا تھا اور سب اپنی اپنی تصاویر لے کر آئے تھے، ان کی تصاویر نہ لانے کے ذمہ دار ان کے فاٹا کے ارکان ہیں۔"
حکومتی ردعمل 
صدارتی خطاب کے دوران اپوزیشن کے احتجاج پر حکومت کی جانب سے مایوسی کا اظہار کیا گیا ہے۔ تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی و سابق وفاقی وزیر اسد عمر نے اردو نیوز سے گفتگو میں کہا کہ اپوزیشن کو کشمیر سے متعلق صدر مملکت کے خطاب کا حصہ ضرور سننا چاہیے تھا اس سے دنیا میں ایک بہتر پیغام جاتا لیکن انھوں نے قومی مفاد پر ذاتی مفاد کو ترجیح دی۔ 
انھوں نے کہا کہ ن لیگ اور پیپلزپارٹی ذاتی مفاد میں اس قدر محو ہیں کہ انھوں نے اپنے اپوزیشن کے دو اسیر ارکان کو یاد کرنا اور اپنے ارکان کے ساتھ ان کی تصاویر لانا بھی مناسب نہیں سمجھا۔ اس کے ساتھ ہی انھوں نے معنی خیز انداز میں کہا کہ 'پی ٹی ایم والوں کی تصاویر اٹھانے کے لیے بھی ہمت چاہیے ہوتی ہے۔
کون کون سے نعرے لگے؟ 
پاکستان کی موجودہ حکمران جماعت تحریک انصاف اپنے پر زور احتجاج کی وجہ سے مشہور ہے شاید یہی وجہ ہے کہ مشترکہ اجلاس میں لگنے والے نعرے بھی انھی کے دیے ہوئے تھے۔ تاہم اپوزیشن نے حسب ضرورت ان میں ترمیم کر لی تھی۔ اپوزیشن نے ’مودی کا جو یار ہے غدار غدار ہے‘ میں ترمیم کرتے ہوئے اپنے ارکان کو ہدایت کی کہ وہ وزیراعظم کی طرف اشارہ کر کے نعرے لگائیں مودی کا یہ یار ہے ۔۔۔۔ 
سابق دور حکومت میں سب سے مقبول نعرہ گو نواز گو تھا کہ ہر شاہراہ، چوک چوراہے پر یہ نعرہ درج کیا گیا بلکہ ایک وقت میں تو کرنسی نوٹوں پر بھی یہی نعرہ تحریر کیا جانے لگا۔ اپوزیشن نے آج گو نیازی گو کے نعرے کو کئی انداز میں ایوان میں بلند کیا۔ 
کشمیر کا سودا نا منظور، اسرائیل نا منظور، اسرائیل کا یار نا منظور، قادیانیوں کا یار نا منظور اور ووٹ کو عزت دو کے نعرے بھی وقتاً فوقتاً لگتے رہے۔ 
سب سے دلچسپ صورت حال اس وقت بنی جب وزیراعظم کو اجلاس کے اختتام پر ایوان سے باہر جانا تھا لیکن راستے میں اپوزیشن نعرے بازی کر رہی تھی۔ جس پر حکومتی ارکان نے حصار بنا کر وزیراعظم کے لیے راستہ بنایا اور جب وزیراعظم ایوان سے روانہ ہو رہے تھے تو اپوزیشن ارکان اس وقت تک بلند آواز میں گو نیازی گو کے نعرے لگاتے رہے جب تک وہ ایوان سے باہر نہیں چلے گئے۔ اس دوران وزیراعظم سر جھکائے مسکراتے رہے۔
ایوان سے باہر آنے سے پہلے اپوزیشن ارکان ’کامیاب احتجاج‘ پر ایک دوسرے کو مبارک بادیں دیتے نظر آئے۔ 
واٹس ایپ پر پاکستان کی خبروں کے لیے ’اردو نیوز پاک‘ گروپ میں شامل ہوں

شیئر: