توہین رسالت کا الزام: گھوٹکی میں مندر اور سکول پر حملہ

ایڈیشنل آئی جی سندھ کے مطابق ایک سکول ٹیچر پر توہین رسالت کا الزام لگایا گیا ہے۔ فوٹو: ٹویٹر
پاکستان کے صوبہ سندھ کے شہر گھوٹکی میں اتوار کے روز مشتعل ہجوم نے توہین رسالت کا الزام لگا کر ہندوؤں کے مندر اور ایک پرائیویٹ سکول پر حملہ کیا اور وہاں توڑ پھوڑ بھی کی۔
پولیس کے مطابق گھوٹکی شہر کے پرائیویٹ سکول کے ایک ہندو پرنسپل پر طالب علم کی جانب سے توہین رسالت کا الزام لگانے کے بعد اتوار کی صبح لوگوں کا ایک ہجوم سکول اور قریبی مندر پر حملہ آور ہوا۔
ایڈیشنل آئی جی سندھ پولیس سکھر ریجن ڈاکٹر جمیل احمد نے اردو نیوز سے بات چیت کرتے ہوئے واقعے کی تفصیلات بتائیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ایک طالب علم نے سکول کے پرنسپل  پر الزام لگایا کہ انہوں نے کلاس میں پیغمبر اسلام کے بارے میں نامناسب جملے کہے اور توہین کے مرتکب ہوئے۔
ان کے مطابق ٹیچر کی عمر 57 سال کے قریب ہے اور سکول ان کی ملکیت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مشتعل ہجوم نے صبح سکول اور قریبی مندر پر حملہ کیا تاہم پولیس نے موقعے پر پہنچ کر صورتحال پر قابو پا لیا۔
انہوں نے تصدیق کی کہ پولیس نے سکول کے پرنسپل کو تحویل میں لے لیا ہے اور اس معاملے کی تفتیش ہوگی۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ پولیس نے سکول اور مندر پر حملہ کرنے والوں کے خلاف کیا کارروائی کی ہے تو ان کا کہنا تھا کہ پولیس صورتحال کو کنٹرول کرنے میں مصروف تھی۔ لوگ اشتعال میں تھے اس لیے فوری ایکشن سے الٹا نقصان ہو سکتا تھا۔
تاہم ان کا کہنا تھا کہ اب قانون حرکت میں آئے گا اور سکول اور مندر پر حملہ کرنے والوں کو گرفتار کیا جائے گا۔
دوسری طرف ہندو کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے ایک سماجی کارکن نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اردو نیوز کو بتایا کہ متاثرہ علاقے کی ہندو کمیونٹی انتہائی خوفزدہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس نے حملہ آورں کو روکنے کے لیے کوئی بروقت کارروائی نہیں کی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ حملے کے بعد بھی کسی کو ابھی تک گرفتار نہیں کیا گیا ہے۔
سوشل میڈیا پر بھی مختلف صارفین اس حوالے سے تصاویر اور دیگر تفصیلات شیئر کر رہے ہیں۔

مشتعل ہجوم نے اتوار کی صبح سکول اور قریبی مندر پر حملہ کر دیا۔ فوٹو ٹویٹر

مکیش میگھوار نامی صارف نے لکھا ’گھوٹکی پھر جل اٹھا، گھوٹکی میں ایک نجی سندھ پبلک اسکول کے پرنسپل ۔۔۔۔۔  جو کے غیر مسلم ہیں ان پر ان کے سٹوڈینٹ نے الزام لگایا ہے کہ پرنسپل ۔۔۔ نے نبی کریم کی شان میں گستاخی کی ہے ۔جس کے بعد اسکول ، مندر اور گھروں پر لوگوں کا حملا اور پورے شہر میں خوف کا سماں چھایا ہوا ہے ‘
ایک دوسرے ٹویٹ میں مکیش نے مشتعل ہجوم کی جانب سے مندر پر حملے کی مبینہ ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ’کیا  گھوٹکی میں مندر کو جلانے والوں پر بھی توہین مذہب کا مقدمہ ہوگا؟ یا یہ قانون صرف مذہبی اقلیتوں پر ہی عمل میں لایا جا سکتا ہے۔‘
انسانی حقوق کے کارکن اور سوشل میڈیا ایکٹویسٹ کپل دیو نے لکھا کہ ’ہم پاکستانی ہندو ٹوٹل آبادی کا دو فیصد ہیں۔ میں جاننا چاہتا ہو کہ ہم 98 فیصد آبادی کے لیے کیا خطرہ بن سکتے ہیں؟ میری ٹائم لائن کا وزٹ کریں کہ کچھ دن پہلے ہم نے کس طرح محرم منایا اس کے باوجود ہمیں گھوٹکی جیسے واقعات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔‘
اردو نیوز نے جب ڈاکٹر جمیل احمد سے پوچھا کہ علاقے میں ہندو برادری کی حفاظت کے لیے کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ علاقے میں پولیس تعینات کی گئی ہیں اور متاثرہ خاندانوں کو بھی مکمل سکیورٹی مہیا کی گئی ہے۔

شیئر:

متعلقہ خبریں