اور تری دیو نے ماں چھوڑ دی

تری دیو رائے چٹاگانگ میں واقع ریاست چکما کے پچاسویں راجہ تھے۔
ہر شخص کی دو مائیں ہوتی ہیں۔ ایک وہ ماں جو اس کو جنم دیتی ہے۔ اور ایک اس کی مادر وطن۔ جب مادروطن پر مشکل وقت آتا ہے تو جنم دینے والی ماں اپنے بیٹے قربان کر دیتی ہے۔
لیکن بہت ہی کم بیٹے ایسے ہوتے ہوں گے جو مادر وطن کے لیے اپنی ماں چھوڑ دیں۔
جب ’رانی بانیتا‘ نے اپنے بیٹے ’تری دیو‘ سے کہا کہ وہ ان کو نہیں چھوڑ سکتیں اور وہ ان کے ساتھ چلیں تو تری دیو نے صاف انکار کردیا اور کہا کہ وہ اپنی ماں کی خاطر اپنے وطن کو نہیں چھوڑ سکتے۔ 
تری دیو ان معدودے چند بیٹوں میں سے ایک تھے، جو اپنی مادر وطن کی خاطر سگی ماں تک کو قربان کر دیتے ہیں۔

تری دیو رائے کو 1953 میں والد کے انتقال پر بیس سال کی عمر میں چکما قبیلے کا راجہ بنایا گیا۔ فوٹو: سوشل میڈیا

لیکن وہ کوئی عام ’تری دیو‘ نہیں تھے۔ وہ ’راجہ تری دیو رائے‘ تھے۔ راجہ تری دیو رائے جہنوں نے اپنے وطن پاکستان کے لیے صرف اپنی ماں نہیں بلکہ اپنی زیر ملکیت ایک پوری ریاست، بیوی، بچے، خاندان، دوست یار، سب کچھ چھوڑ دیا۔
14 مئی 1933 کو راجہ نالی نکا رائے کے ہاں پیدا ہونے والے تری دیو رائے ریاست چکما، جو گیارہ سو سال سے چٹاگانگ کا حصہ ہے، کے پچاسویں راجہ تھے۔
ان کو 1953 میں والد کے انتقال پر بیس سال کی عمر میں راجہ بنایا گیا۔ وہ اپنے علاقے اور قبائل کے لیے خصوصی حیثیت کے پرزور حامی تھے اور یہ درجہ حاصل کرنے کے لیے دو مرتبہ مشرقی پاکستان کی صوبائی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے، وہ بدھ مت کے ماننے والے تھے۔
1970 کے انتخابات آنے تک راجہ تری دیو رائے اپنی فہم و فراست کے باعث بہت شہرت پا چکے تھے۔ شیخ مجیب الرحمن نے ان کی مقبولیت دیکھتے ہوئے انہیں اپنی پارٹی کا ٹکٹ دینے کی پیشکش کی جو راجہ صاحب نے قبول نہیں کی کیونکہ انہیں آنے والے دنوں کی نزاکت کا احساس ہو گیا تھا، انہوں نے آزاد حیثیت سے الیکشن لڑا اور جیت گئے۔
پھر سیاسی تنازعات نے سر اٹھانا شروع کیا، مکتی باہنی سامنے آئی، فوجی آپریشن شروع ہوا تو نومبر 1971 میں صدر یحیٰی خان نے عالمی سطح پر حمایت حاصل کرنے کے لیے انہیں خصوصی سفیر بنا دیا۔ وہ جنگ شروع ہونے کے بعد تین دسمبر کو مشرقی ایشیائی ملکوں کے دوروں پر نکل گئے۔
راجہ تری دیو رائے سولہ دسمبر کو بنکاک میں تھے جب پاکستانی  فوج کے ہتھیار ڈالنے اور بنگلہ دیش بن جانے کی اطلاع ملی۔ وہ واپسی پر ڈھاکہ کی بجائے اسلام آباد چلے گئے۔
امتحان کی گھڑی
اب راجہ صاحب کی ریاست  پاکستان کی بجائے بنگلہ دیش کا حصہ تھی، اور انہیں فیصلہ کرنا تھا کہ پاکستان میں رہنا ہے یا پھر بنگلہ دیش جانا ہے۔ ایک طرف  اپنی خاندانی راجدھانی جس کے وہ والی تھے، ماں، بیوی،  بچے  اور  رشتہ دار، جبکہ دوسری جانب وہ ملک جس سے  وہ وفاداری کا حلف اٹھا چکے تھے۔
یہ ایک مشکل فیصلہ تھا لیکن راجہ صاحب کو یہ فیصلہ  کرنے میں زیادہ دیر نہ لگی۔  انہوں نے ذاتی مفاد پر اس ملک کو ترجیح دی جس کو وہ اپنی مادر وطن قرار دے چکے تھے۔

امریکہ سے واپسی پر وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے پوری کابینہ کے ساتھ راولپنڈی کے چکلالہ ایئربیس پر راجہ تری دیو کا استقبال کیا۔ فوٹو: سوشل میڈیا

 جب یہ خبر بنگلہ دیش پہنچی تو شیخ مجیب حکومت نے ان کے قبیلے کے خلاف کارروائیاں شروع  کر دیں۔  تاہم وہ اپنے فیصلے پر قائم رہےاور اپنے  قبیلے کے راجہ کے عہدے سے دستبردار ہو گئے۔ ان کی دستبرداری کے بعد ان  کے کمسن بیٹے دیباشیش کو ان کی جگہ نیا راجہ بنا دیا گیا۔

ماں سے سامنا

بنگلہ دیش علیٰحدگی کے چند ماہ بعد 1972 میں اقوام متحدہ کے سلامتی کونسل کے اجلاس میں رکنیت کے لیے سرگرم ہوا تو پاکستان کے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے راجہ تری دیو رائے کو پاکستانی وفد کا سربراہ بنا کر بھیج دیا۔ جس پر شیخ مجیب الرحمان  نے ان کے توڑ کے لیے انہی کی والدہ راج ماتا آف چکما رانی بانیتا کو نمائندگی کے لیے بھیجا اور کہا کہ ’راجہ تری دیو رائے کو واپسی پر رضامند کریں، ان کا ہیرو کی طرح استقبال کیا جائے گا اور وزیر بنایا جائے گا‘ تاہم اس کے باوجود راجہ صاحب واپس نہیں گئے۔
رانی بانیتا نے نیویارک پہنچنے کے بعد تری دیو رائے کو فون کیا اور کہا، ’بیٹا میں آپ کو لینے آئی ہوں، میرے ساتھ واپس چلو۔
تری دیو نے جواب میں بھائی بہنوں اور رشتہ داروں کا حال احوال پوچھا، اور اس کے بعد خاموشی اختیار کر لی۔

 

برسوں بعد انہوں نے اپنی کتاب میں لکھا، ’میں اپنے پیاروں کو، جنم بھومی کو کبھی نہیں دیکھ سکوں گا۔ زندگی اب تنہا گزرے گی۔ اپنے خاندان کے لوگوں سے، اپنی حسین پہاڑیوں اور سرسبز جنگلوں سے میرا کوئی سمبندھ نہیں ہوگا۔ میرے پِتا جی کی تربیت اور میرا مذہب مجھے اس کی اجازت نہیں دیتا کہ میں جو 47 سے 71 تک پاکستانی شہری تھا اس سے غداری کر سکوں۔

عہدہ صدارت کی پیشکش

امریکہ سے واپسی پر پاکستانی وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے پوری کابینہ کے ساتھ راولپنڈی کے  چکلالہ ایئربیس پر ان کا استقبال کیا کیونکہ انہوں نے بہت موثر انداز میں پاکستان کا مقدمہ لڑا تھا۔ بھٹو ان سے اس قدر متاثر ہوئے کہ انہیں صدر بنانے کی خواہش کا اظہار کیا تاہم راجہ تری دیو رائے نے فوری طور پر معذرت کر لی۔
وہ ایک کامیاب سیاست دان اور سفارت کار ہی نہیں جہاندیدہ شخص بھی تھے وہ جانتے تھے کہ 1973 کے آئین کے مطابق پاکستان کا صدر بننے کے لیے مسلمان ہونا ضروری ہے۔ یہ بھی کہا گیا کہ ان کو اشاروں میں مسلمان ہونے کی ترغیب دی گئی تھی تاہم ایسے کوئی ٹھوس شواہد دستیاب نہیں، اتنا بہرحال ضرور ہے کہ راجہ صاحب نے اپنے کچھ ذاتی دوستوں کی محفل میں اسی حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’میں سنہرے پنجرے میں قید نہیں ہونا چاہتا‘۔
اس کے بعد انہیں تاحیات وفاقی وزیر کا عہدہ دے دیا گیا۔
ضیاالحق دور میں بھی ان کی اہمیت کم نہ ہوئی اور انہیں لاطینی امریکہ کے ملک ارجنٹائن میں پاکستان کا سفیر بنایا گیا۔ اس کے بعد وہ چلی، اکواڈور، پیرو اور یوراگوئے میں بھی سفیر تعینات رہے جبکہ سری لنکا میں پاکستان کے ہائی کمشنر بھی رہے۔

قلم سے رشتہ

1996سنہ  میں کئی ممالک میں کئی سال تک بطور سفیر خدمات انجام دینے کے بعد جب وہ پاکستان واپس لوٹے تو اپنی یادداشتیں ’سائوتھ امریکن ڈائری‘ کے نام سے تحریر کیں، تاہم قلم کے ساتھ ان کا رشتہ بہت پرانا تھا، سنہ 1972 میں ان کی کہانیوں کے دو مجموعے شائع ہوئے جن میں سے ایک کا پیش لفظ فیض احمد فیض نے تحریر کیا تھا۔ 2006 میں ان کی کہانیوں کا اردو ترجمہ بھی شائع ہوا۔
، The Windswept Bahini، They simply belong
بھی ان کی تصانیف ہیں۔ انٹرمیڈیٹ کے کورس میں شامل ’جیول آف دی گرل‘ نامی کہانی بھی ان کی لکھی ہوئی ہے۔ ان کے افسانوں کا ترجمہ ’انسان خطا کا پتلا ہے‘ کے نام سے شائع ہو چکا ہے۔
اپنے افسانوں کے حوالے سے راجہ تری دیو رائے کا کہنا تھا کہ ان کے کردار میرے اپنے لوگ ہیں، جن کے ساتھ وقت گزرا، ایسے مقامات کا تذکرہ بھی کیا جہاں انہوں نے وقت گزارا۔
2003 میں انہوں نے  The Departed Melody لکھی جو چکما راجائوں کی تاریخ اور ان کے اپنے حالات زندگی پر مشتمل ہے۔

 

پاکستان واپسی  کے بعد وہ اسلام آباد میں ریٹائرڈ زندگی گزارتے رہے، اس وقت بھی انہیں تاحیات وفاقی وزیر کا درجہ حاصل تھا تاہم وہ خود ایسی مصروفیات سے الگ ہو گئے تھے۔ وہ گالف، برج کھیلتے، سیروسیاحت کرتے اور سفارتی تقاریب میں دکھائی دیتے رہے۔ وہ پاکستان میں بدھ مت سوسائٹی کے چیئرمین بھی تھے۔
کسی کی محبت میں تخت و تاج چھوڑ دینے کے واقعات اکثر قصے کہانیوں میں ملتے ہیں تاہم راجہ تری دیو رائے وہ عظیم شخصیت تھے جنہوں نے حقیقت میں ایسا کر دکھایا، پاکستان کی محبت میں۔

وصیت جو پوری نہ ہوئی

پاکستان کی محبت میں مست یہ درویش صفت شخص آج ہی کے روز سات سال قبل اسلام آباد میں انتقال کر گیا۔ انہوں نے کئی سال قبل جب شوکت عزیز وزیراعظم تھے، کو لکھا تھا کہ ان کا جسد خاکی آبائی علاقے چٹاگانگ بھیجا جائے تاہم بنگلہ دیشن حکومت اور چٹاگانگ کے قبائل کے درمیان کشیدگی اور حسینہ واجد کی حکومت کے باعث اس وصیت پر عمل نہ ہو سکا۔
2009 میں ایک انڈین اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ ’میں اپنے لوگوں کو یاد کرتا ہوں، میرے گھر اور قبیلے، حالات اور تاریخ نے میری زندگی میں اہم کردار ادا کیا ہے مگر مجھے زندگی بدل دینے والے فیصلے پر کوئی افسوس نہیں ہے۔
واٹس ایپ پر پاکستان کی خبروں کے لیے ’اردو نیوز پاک‘ گروپ میں شامل ہوں

شیئر:

متعلقہ خبریں