پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما خورشید شاہ گرفتار

قومی احتساب بیورو نے پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما اور سابق وفاقی وزیر خورشید شاہ کو آمدن سے زائد اثاثوں کے کیس میں گرفتار کر لیا ہے۔
نیب کے ایک سنئیر عہدیدار نے اردو نیوز کو بتایا کہ خورشید شاہ کی گرفتاری اسلام آباد میں نیب سکھر اور نیب راولپنڈی کی مشترکہ ٹیم نے کی۔
نیب کے مطابق خورشید شاہ کے خلاف تحقیقات کی منظوری چئیرمین نیب نے سات اگست کو دی تھی۔ ان پر ناجائز زرائع سے پٹرول پمپس، ہوٹل اور بنگلے  خریدنے اور بے نامی نقد رقوم کی منتقلی کا الزام ہے۔ نیب تحقیقات میں شریک ایک افسر کے مطابق ابتدائی تحقیق میں الزامات درست ثابت ہوئے ہیں اس لیے مزید تحقیق کے لیے گرفتاری عمل میں لائی گئی ہے۔

شیری رحمن نے کہا کہ سابق اپوزیشن لیڈر کو اسپیکر کو اطلاع دے بغیر اپنے مذموم مقاصد کے لیے گرفتار کر لیا گیا ہے۔ فوٹو: اے ایف پی

نیب کے مطابق خورشید شاہ کو احتساب عدالت میں پیش کر کے سکھر لے جایا جائے گا۔
یاد رہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چئیرمین آصف زرداری اور ان کی بہن فریال تالپور بھی جعلی اکاونٹس کیس میں نیب کی حراست میں ہیں۔
پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما شیری رحمن نے گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب اپوزیشن کشمیر پر قومی یک جہتی کے لیے حکومت کا ساتھ دے رہی ہے تو ایسے میں ممبر قومی اسمبلی اور سابق اپوزیشن لیڈر کو اسپیکر کو اطلاع دے بغیر اپنے مذموم مقاصد کے لیے گرفتار کر لیا گیا ہے۔
انہوں نے سوال کیا کہ پاکستان میں کس کا قانون چل رہا ہے۔ ’اگر کشمیر میں جنگل کا قانون ہے تو پاکستان میں بھی ایسا ہی لگ رہا ہے۔‘
واٹس ایپ پر پاکستان کی خبروں کے لیے ’اردو نیوز پاک‘ گروپ میں شامل ہوں

شیئر: