کیا ویٹر کا سیاہ کوٹ وکیل کی توہین بن سکتا ہے؟ گوجرانوالہ بار کی ہوٹل مالکان کو وارننگ
کیا ویٹر کا سیاہ کوٹ وکیل کی توہین بن سکتا ہے؟ گوجرانوالہ بار کی ہوٹل مالکان کو وارننگ
جمعرات 22 جنوری 2026 5:32
بشیر چوہدری، اردو نیوز۔ اسلام آباد
ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے نوٹس میں ہوٹلوں اور شادی ہالز کو 10 دن کی مہلت دی گئی ہے: فائل فوٹو پکسابے
کبھی آپ کے ساتھ ایسا ہوا ہے کہ آپ کسی ریستوران میں داخل ہوں اور وہاں موجود ویٹر یا مینجمنٹ سٹاف کا یونیفارم دیکھ کر لمحے بھر کو یہ گمان گزرے کہ شاید سیاہ کوٹ، سفید شرٹ اور سیاہ پتلون میں ملبوس وکلا ہیں۔
گوجرانوالہ، جو کھانے پینے کے مراکز، ہوٹلوں اور ریستورانوں کے حوالے سے خاص شہرت رکھتا ہے، وہاں اس نوعیت کے مناظر اکثر دیکھنے میں آتے ہیں، جہاں ویٹرز یا دیگر عملے کا لباس وکلا کے پیشہ ورانہ یونیفارم سے خاصی مشابہت رکھتا ہے۔
وکلا برادری کی جانب سے اس رجحان پر تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔ قانونی حلقوں کے مطابق وکلا کا یونیفارم محض ایک لباس نہیں بلکہ عدالت، قانون اور ایک باوقار پیشے کی علامت سمجھا جاتا ہے، جس کا تجارتی یا ہوٹل انڈسٹری میں استعمال انہیں اپنے پیشے کی توہین محسوس ہوتا ہے۔
ان اعتراضات کے بعد ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن گوجرانوالہ نے شہر بھر کے ہوٹلوں، ریستورانوں، شادی ہالوں اور دیگر تقریبات کا انعقاد کرنے والے اداروں کو ایک تحریری نوٹس جاری کیا ہے، جس میں عملے کے یونیفارم سے متعلق واضح ہدایات دی گئی ہیں۔
بار ایسوسی ایشن کے نوٹس میں کہا گیا ہے کہ ’وکلا کا مخصوص لباس، یعنی سیاہ کوٹ، سفید شرٹ اور سیاہ پتلون، ایک معروف قانونی پیشہ ورانہ یونیفارم ہے جو صرف وکلا کے لیے مختص ہے۔‘
نوٹس کے مطابق بعض ہوٹلوں اور ریستورانوں کی جانب سے اپنے ویٹرز یا دیگر عملے کے لیے اس نوعیت یا اس سے ملتی جلتی وردی کا استعمال نہ صرف گمراہ کن ہے بلکہ توہین آمیز اور غیر قانونی عمل کے زمرے میں بھی آ سکتا ہے۔ اسی لیے تمام متعلقہ اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے عملے کا یونیفارم تبدیل کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ ان کا یونیفارم کسی بھی صورت وکلا کے لباس سے مشابہ نہ ہو۔
نوٹس میں ہوٹلوں اور شادی ہالوں کو 10 دن کی مہلت دی گئی ہے تاکہ وہ اس ہدایت پر عملدرآمد مکمل کر سکیں۔
نوٹس کے مطابق وکلا کا مخصوص لباس، یعنی سیاہ کوٹ، سفید شرٹ اور سیاہ پتلون، ایک معروف قانونی پیشہ ورانہ یونیفارم ہے جو صرف وکلا کے لیے مختص ہے: فائل فوٹو اے ایف پی
علاوہ ازیں، یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ مقررہ مدت کے اندر ہدایات پر عمل نہ ہونے کی صورت میں ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن متعلقہ انتظامیہ کے خلاف قانونی کارروائی کا حق محفوظ رکھتی ہے، جو بغیر کسی مزید نوٹس کے عمل میں لائی جا سکتی ہے۔ یہ نوٹس عام آگاہی اور سختی سے عملدرآمد کے لیے جاری کیا گیا ہے۔
یہ نوٹس بار کے سیکریٹری چوہدری حق نواز ہنجرا ایڈووکیٹ کے دستخط کے ساتھ جاری ہوا ہے۔ شہر میں اس پیش رفت کے بعد ہوٹل اور ریستوران مالکان میں مشاورت کا عمل شروع ہو گیا ہے، جبکہ شہری سطح پر اس معاملے کو پیشہ ورانہ شناخت، سماجی تاثر اور کاروباری رجحانات کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔
اردو نیوز نے اس نوٹس کے حوالے سے گوجرانوالہ میں کچھ ہوٹل مالکان سے مؤقف جاننے کی کوشش کی تاہم انہوں نے اس حوالے سے اپنی لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بیشتر ہوٹلوں اور ریستورانوں میں مروجہ یونیفارم کوئی حالیہ پیش رفت نہیں ہے بلکہ سالہا سال سے ہر ہوٹل یا ریستوران اپنا یونیفارم استعمال کر رہا ہے۔ تاہم کبھی کسی نے اس نیت کے ساتھ کوئی یونیفارم استعمال نہیں کیا کہ اس سے کسی دوسرے پیشے کی توہین یا تضحیک ہو۔
تام ہوٹل مالکان کا کہنا ہے کہ ’وہ اس معاملے کو ہوٹل ایسوسی ایشن آف پاکستان کی سطح پر زیر بحث لائیں گے اور اس حوالے سے اپنا لائحہ عمل واضح کریں گے۔‘
ہوٹل مالکان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ’جو یونیفارم ویٹرز یا دیگر عملہ استعمال کرتا ہے اس میں عموماً سیاہ سوٹ کے ساتھ نیلی ٹائی لگائی جاتی ہے جبکہ وکلا کالی ٹائی لگاتے ہیں۔‘