Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

العلا کی ریت میں چھپے قافلوں کے قدیم تجارتی راستے

ان قدیم راستوں میں مشہور طریق البخُور بھی شامل ہے (فوٹو: ایس پی اے)
ماضی میں العلا کی تجارتی اور ثقافتی قوت کا سہارا اونٹوں کے کاررواں ہُوا کرتے تھے جو نقل و حمل کا بنیادی ذریعہ بھی تھے۔
یہ کاررواں قدیم تجارتی راستوں کے نیٹ ورک کے قیام میں مدد فراہم کرنے کا باعث بنتے تھے جن میں مشہور طریق البخُور شامل ہے۔
یہ راستہ، عرب کے جنوب سے لیوینٹ (مشرقی بحیرۂ روم کےعلاقے جن میں آج شام، لبنان، اردن، فلسطین اور ترکیہ کے کچھ جنوبی حصے شامل ہیں) اور مصر تک پھیلا ہوا تھا۔
اونٹوں کے ذریعے کاروان پر خوشبودار گوند، مسالاجات، قیمتی نگینوں اور دیگر اشیا کو لاد کر ان کی باربرداری کا کام لیا جاتا تھا۔

اس طرح تجارت فروغ پانے سے، العلا رفتہ رفتہ تاجروں، زائرین اور مسافروں کے ایک مرکز کی حیثیت اختیار کر گیا اور ہزراوں سال تک تجارت اور زندگی سے بھرپور ثقافت کے ایک اوئیسس میں تبدیل ہوگیا۔
آج العلا پھر ایک اعلٰی درجے کی عالمی منزل بن کر ابھر رہا ہے جس کی جڑیں اس کے گہرے ثقافتی ورثے میں ہیں۔
العلا سیاحت، ثقافت اور معاشی ترقی میں اپنے اثر کو بھی کو تیزی سے وسعت دے رہا ہے۔

 

شیئر: