Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

جموں اور کشمیر کی علیحدگی، ’بی جے پی جناح کے دو قومی نظریے کو فروغ دے رہی ہے‘

عمر عبداللہ نے محبوبہ مفتی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا (فائل فوٹو: اے ایف پی)
انڈیا کے زیرانتظام کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے جموں اور کشمیر کو الگ کرنے کے مطالبات پر ردعمل میں کہا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) پاکستان کے بانی محمد علی جناح کے دو قومی نظریے کو فروغ دینے کی کوشش کر رہی ہے۔
ٹائمز آف انڈیا کے مطابق جموں میں نیشنل ورکرز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا ہے کہ ’ بی جے پی کے قانون ساز ایک الگ ریاست جموں کا مطالبہ کیوں رہے ہیں؟ ان کے ذہن میں جموں  کے عوام کے فائدے کے لیے کچھ نہیں ہے۔‘
عمر عبداللہ نے اپوزیشن لیڈر سنیل شرما پر الزام لگایا کہ وہ وزیراعلیٰ بننے کی اپنی ذاتی خواہش کو آگے بڑھا رہے ہیں۔
’اس مقصد کے لیے وہ جموں اور کشمیر میں بعض لوگوں کو استعمال کر رہے ہیں اور وہ محمد علی جناح کے دو قومی نظریے کو فروغ دے رہے ہیں کہ ہندو اور مسلمان ایک ساتھ نہیں رہ سکتے۔‘
ان کے مطابق ’کھل کر بات کرو، آپ الگ ہندو جموں کیوں نہیں کہتے؟‘
انہوں نے بی جے پی کے رہنما پر مزید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’سنیل شرما کا مطالبہ ان کو ڈھائی اضلاع کا وزیراعلیٰ بننے تک محدود کر دے گا کیونکہ مسلم اکثریتی علاقے پیر پنجال، راجوری اور پونچھ کے اضلاع کے علاوہ ڈوڈہ، کشتواڑ اور رامبن پر مشتمل وادی چناب جموں کی علیحدگی کی حمایت نہیں کریں گے۔‘
انہوں نے طنزاً جموں کے دو بازاروں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’اگر آپ جموں اور کشمیر کو مذہب کی بنیاد پر تقسیم کرنا چاہتے ہیں تو پھر آپ کنک منڈی اور گھوناتھ بازار کے وزیراعلیٰ بن جائیں گے۔‘
عمر عبداللہ نے پی ڈی پی کی قائد محبوبہ مفتی کو ’بے جی پی کی پرانی اتحادی‘ قرار دیا۔
ان کے مطابق ’اب انہوں نے راجوری پونچھ اور چناب ویلی کی الگ الگ ڈویژنز کی بات شروع کر دی ہے لیکن یاد رکھیں جب تک نیشنل کانفرنس کا جھنڈا جموں و کشمیر میں لہراتا رہے گا یہ سازش کامیاب نہیں ہو سکے گی۔‘

 


اپوزیشن لیڈر سنیل شرما کا کہنا ہے کہ انہوں نے علیحدگی کی بات کبھی نہیں کی (فائل فوٹو: رائزنگ کشمیر)

محبوبہ مفتی نے پیر کے روز جموں سے الگ ڈویژن بنانے کا مطالبہ کیا تھا تاکہ گورننس کے انتظامات دور دراز پہاڑی علاقوں تک پہنچ سکیں۔
دوسری جانب عمر عبداللہ کی تقریر کے جواب میں ردعمل دیتے ہوئے سنیل شرما نے کہا کہ نہ انہوں نے اور نہ ہی کبھی بی جے پی نے کبھی جموں و کشمیر کی مزید تقسیم کے حوالے سے کوئی بیان دیا ہے۔
انہوں نے اس دعوے کو بھی مسترد کیا کہ وہ وزیراعلیٰ بننے کی خواہش رکھتے ہیں۔
ان کے مطابق وہ ایک غریب گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں اور ان کا واحد مقصد انسانیت اور قوم کی خدمت کرنا ہے۔
انہوں نے عبداللہ خاندان کو اس کے برعکس قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے تعلق رکھنے والے وزیراعلیٰ بننا چاہتے ہیں۔
انہوں بھی طنز اختیار کرتے ہوئے کہا کہ ’وہ لوگ جب سکیینگ بھی کھیلتے ہیں تو اس وقت بھی پروٹوکول جاری رکھتے ہیں تاکہ جب وہ کھیلیں تو اس وقت کوئی اور نہ ہو۔‘

شیئر: