’ڈیل ہو رہی ہے‘، صدر ٹرمپ گرین لینڈ کے معاملے پر ٹیرف کی دھمکیوں سے پیچھے ہٹ گئے
’ڈیل ہو رہی ہے‘، صدر ٹرمپ گرین لینڈ کے معاملے پر ٹیرف کی دھمکیوں سے پیچھے ہٹ گئے
جمعرات 22 جنوری 2026 6:43
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ٹیرف کی ان دھمکیوں سے اچانک پیچھے ہٹ گئے ہیں جو انہوں نے گرین لینڈ پر قبضے کے ضمن میں دی تھیں۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق بدھ کو انہوں نے سوئیٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں صحافیوں سے گفتگو میں گرین لینڈ کے لیے طاقت کے استعمال کے امکان کو بھی مسترد کیا اور کہا کہ ڈینش سرزمین کے تنازع کو ختم کرنے کے لیے ایک معاہدہ ہو رہا ہے۔
اس سے قبل کئی روز تک امریکی صدر گرین لینڈ پر قبضے سے اتفاق نہ کرنے والے یورپی یونین کے آٹھ ممالک کے خلاف سخت بیان دیتے رہے ہیں اور بھاری ٹیرف عائد کرنے کی دھمکیاں بھی دیں۔
جس کے بعد عالمی منڈیوں میں شدید اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا تھا اور امریکہ و یورپ کے درمیان شدید تجارتی جنگ چھڑنے کے خدشات پیدا ہوئے تھے۔
تاہم نیٹو کے سیکریٹری جنرل مارک روٹے سے سوئٹزرلینڈ کے الپائن ریزورٹ میں ملاقات کے بعد مغربی آرکٹک کے اتحادی ممالک تزویراتی اہمیت اور 57 ہزار کی آبادی رکھنے والے گرین لینڈ کے حوالے سے ایک نیا معاہدہ کر سکتے ہیں جس سے ان کی ’گولڈن ڈوم‘ میزائل ڈیفنس سسٹم اور اہم معدنیات تک رسائی کی خواہش پوری ہو گی اور اس سے روس اور چین کی راہ بھی روکی جا سکے گی۔
انہوں نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ ایک ایسی ڈیل ہے جس پر ہر کوئی خوش ہے، یہ ایک طویل مدتی معاہدہ ہے جس میں ہر ایک کی بہتر پوزیشن ہو گی، خصوصاً ان معاملات کے ضمن میں جو سکیورٹی اور معدنیات سے متعلق ہیں۔‘
ان کے مطابق ’یہ ایک ایسا معاہدہ ہے جو ہمیشہ کے لیے ہے۔‘
صدر ٹرمپ کے بیانات کے بعد گرین لینڈ کے عوام نے احتجاج بھی کیا (فوٹو: اے ایف پی)
اس سے قبل اسی روز ہی صدر ٹرمپ ایک گھنٹے سے زیادہ وقت تک ڈانٹ ڈپٹ کرتے اور دھمکیاں دیتے نظر آئے جن کا مقصد نیٹو ممالک پر مزید دباؤ ڈالنا تھا۔
یورپ کے سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کے لہجے میں اچانک آنے والی تبدیلی تنازع کا حل نہیں ہوا بلکہ اتحادیوں کے درمیان پیدا ہونے والے اختلافات کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔
یہ امر غیر واضح ہے کہ معاہدہ کیا ہے اور کس قسم کا معاہدہ صدر ٹرمپ کے لیے اس ملک کی ’ملکیت‘ کی خواہش کو پورا کر سکتا ہے جس کے باسی کہتے ہیں کہ ان کا ملک برائے فروخت نہیں ہے۔
نیٹو کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ’ڈنمارک، گرین لینڈ اور امریکہ کے درمیان مذاکرات آگے بڑھیں گے اور ان کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ روس اور چین کبھی بھی عسکری یا اقتصادی لحاظ سے گرین لینڈ میں قدم نہ جما پائیں۔‘
روسی صدر ولادیمیر پوتن کا کہنا ہے کہ ’گرین لینڈ میں جو کچھ ہو، اس سے ہم پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔‘ (فوٹو: اے ایف پی)
تاہم ان مذاکرات کے حوالے سے کسی تاریخ کا اعلان کیا گیا ہے اور نہ ہی مقام سے متعلق کوئی اطلاع سامنے آئی ہے۔
دوسری جانب صدر ٹرمپ کہتے ہیں کہ انہوں نے نائب صدر جے ڈی وینس، وزیر خارجہ مارکو روبیو اور ایلچی سٹیو وٹکوف کو مذاکرات میں حصہ لینے کا کام سونپا ہے۔
علاوہ ازیں روس کی ایک نیوز ایجنسی کے مطابق صدر ولادیمیر پوتن نے ملک کی نیشنل سکیورٹی کونسل کے اجلاس میں کہا کہ ’گرین لینڈ میں جو کچھ بھی ہو اس سے ہمارے اوپر کوئی فرق نہیں پڑتا۔‘
علاوہ ازیں صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ ’امریکہ اور نیٹو نے گرین لینڈ بلکہ پورے آرکٹک ریجن کے حوالے سے معاہدے کا لائحہ عمل بنا لیا ہے، جس کے بعد وہ محصولات عائد نہیں کیے جائیں گے جو یکم فروری سے نافذ ہونا تھے۔‘