مغربی ہواؤں کا طاقتور سسٹم پاکستان میں داخل، بلوچستان میں ایک فٹ تک برفباری کا امکان
مغربی ہواؤں کا طاقتور سسٹم پاکستان میں داخل، بلوچستان میں ایک فٹ تک برفباری کا امکان
بدھ 21 جنوری 2026 19:00
زین الدین احمد، اردو نیوز، کوئٹہ
پاکستان میں مغربی ہواؤں کا طاقتور موسمیاتی نظام داخل ہو گیا ہے جس کے نتیجے میں بلوچستان، خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، کشمیر اور پنجاب کے بالائی علاقوں میں شدید سردی، تیز ہواؤں، بارش اور برفباری کا ایک نیا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔
محکمہ موسمیات اور متعلقہ اداروں کا کہنا ہے کہ بعض علاقوں میں شدید موسمی صورتحال معمولات زندگی متاثر کر سکتی ہے جس کے پیش نظر شہریوں، مسافروں اور سیاحوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
کوئٹہ سمیت بلوچستان کے بالائی علاقوں میں 2 سے 12انچ برفباری، 30 سے 35 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے اور درجہ حرارت منفی 9 تک گرنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔
محکمہ موسمیات بلوچستان کے ڈپٹی ڈائریکٹر محمد افضل نے اردو نیوز کو بتایا کہ مغربی ہواؤں کا ایک طاقتور سسٹم چاغی اور واشک کے راستے بلوچستان میں داخل ہو چکا ہے جس کے نتیجے میں صوبے کے شمالی اور بالائی اضلاع میں موسم شدت اختیار کر گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ایرانی سرحد کے قریب واقع اضلاع چاغی، واشک، خاران اور گرد و نواح میں سسٹم داخل ہوتے ہی تیز اور گرد آلود ہوائیں چلنا شروع ہوگئی ہیں جو آئندہ 24 گھنٹوں تک جاری رہ سکتی ہیں۔ اسی سسٹم کے تحت بلوچستان کے تقریباً 80 فیصد علاقوں میں بارش جبکہ بالائی علاقوں میں برفباری کا امکان ہے۔
ان کے مطابق زیارت میں برفباری کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے اور تین سے چار انچ تک برف پڑ چکی ہے۔ بدھ کی رات کو کوئٹہ، قلعہ سیف اللہ، قلعہ عبداللہ، پشین، مستونگ اور چمن سمیت دیگر بالائی علاقوں میں بارش اور برفباری شروع ہو جائے گی۔ یہ سلسلہ رات گئے شدت اختیار کر سکتا ہے اور جمعرات کی دوپہر کے بعد اس کی شدت میں کمی آئے گی۔
انہوں نے بتایا کہ برفباری کی لپیٹ میں خاص کر افغانستان کی سرحد سے ملحقہ توبہ اچکزئی، توبہ کاکڑی، لوئی بندکے علاوہ کان مہترزئی، مسلم باغ، خانوزئی، گلستان، چمن کوژک ٹاپ کے علاقے آ سکتے ہیں۔ کوئٹہ کے شمالی اور شمال مغربی نواحی علاقوں ہنہ اوڑک، کچلا ک اور پہاڑی سلسلوں پر بھی برفباری ہوسکتی ہے جس کی وجہ سے سڑکوں پر ٹریفک کی روانی متاثر ہوسکتی ہے۔
محکمہ موسمیات کے ڈپٹی ڈائریکٹر نے بتایاکہ آئندہ 48 گھنٹوں کے دوران صوبے کے بیشتر علاقوں میں 25 سے 35 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے تیز ہوائیں چلیں گی۔ ان ہواؤں کے باعث برفباری سے متاثرہ علاقوں میں درجہ حرارت پانچ سے سات ڈگری سینٹی گریڈ مزید گر سکتا ہے۔ جبکہ صوبے کے دیگر علاقوں میں بھی درجہ حرارت میں تین سے چار ڈگری کی کمی متوقع ہے۔
زیارت میں برفباری کا سلسلہ جاری ہے اور چار انچ تک برف پڑ چکی ہے۔ فائل فوٹو: اے پی پی
ان کے مطابق کوئٹہ میں اس وقت کم سے کم درجہ حرارت منفی دوسے تین ڈگری سینٹی گریڈ کے درمیان ہے تاہم تیز ہواؤں کے باعث آئندہ 24 گھنٹوں میں دررجہ حرارت مزید کئی درجے گر سکتا ہے اور سردی منفی نو ڈگری تک محسوس ہو سکتی ہے۔
قدرتی آفات سے نمٹنے کے صوبائی دارے پی ڈی ایم اے بلوچستان کے ڈائریکٹر جنرل جہانزیب خان غوریزئی نے بتایا کہ اگلے 24 گھنٹوں میں چمن، قلعہ عبداللہ، زیارت، قلعہ سیف اللہ اور پشین میں تقریباً 9 تا 12 انچ جبکہ کوئٹہ، مستونگ، نوشکی، قلات اور ژوب میں تقریباً 2 تا 5 انچ برف پڑنے کا امکان ہے۔
انہوں نے بتایا کہ واشک، تربت، آواران اور ملحقہ علاقوں میں درمیانی سے شدید بارش اور کوئٹہ، مستونگ، نوشکی، قلات، خضدار، کیچ، سبی، لورالائی، دکی، موسیٰ خیل، ڈیرہ بگٹی، ہرنائی، قلعہ سیف اللہ، پشین، چمن، قلعہ عبداللہ، ژوب اور ملحقہ علاقوں میں ہلکی سے درمیانی بارش متوقع ہے۔پی ڈی ایم اے کے صوبائی سربراہ کے مطابق کوئٹہ، ژوب، رخشان اور قلات ڈویژن میں تیز اور تند ہوائیں چل سکتی ہیں۔
حکام نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ بل بورڈز، اونچی اور خستہ حال عمارتوں کے قریب نہ جائیں اور غیر ضروری سفر سے گریز کریں۔ سفر ناگزیر ہونے کی صورت میں انتہائی احتیاط اختیار کی جائے۔ گرم کپڑے اور ضروری اشیاء اپنے ساتھ رکھیں۔
حکام کے مطابق صوبے کے شمالی پہاڑی سلسلوں سے ملحقہ علاقوں توبہ اچکزئی، توبہ کاکڑی، کان مہترزئی، مسلم باغ اور اطراف میں آج رات سے صبح تک برفباری کا شدید سپیل متوقع ہے جس کی وجہ سے ان علاقوں کا باقی صوبے سے زمینی رابطہ منقطع ہوسکتا ہے۔ متاثرہ علاقوں کے رہائشیوں کو پیشگی اقدامات اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
این ڈی ایم اے نے پہاڑی علاقوں میں بارش اور برفباری کا الرٹ جاری کیا ہے۔ فائل فوٹو: اے پی پی
نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے حکام کے مطابق کوئٹہ سے چمن جانے والی شاہراہ اور کچلاک سے مسلم باغ تک نیشنل ہائی وے پر برفباری کی وجہ سے ٹریفک متاثر ہو سکتی ہے اور بعض مقامات پر عارضی بندش یا پھسلن کا خدشہ ہے۔ برف پگھلانے کے لیے نمک اور سڑک سے برف ہٹانے کے لیے بھاری مشنری پہنچادی گئی ہیں۔
کمشنر کوئٹہ ڈویژن شاہ زیب کاکڑ نے بھی شدید سردی اور سخت موسمی حالات کی پیشنگوئی کے پیش نظر عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ غیرضروری طور پر گھروں سے نہ نکلیں اور ضروری ہو تو گرم کپڑوں اور پورا بندوبست کرکے باہر نکلیں۔ اپنے بچوں، بزرگوں ،کمزور طبقے اور بے گھر افراد کا خیال رکھیں۔ گیس کے ہیٹر استعمال کرتے ہوئے احتیاط کریں۔
دوسری جانب خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان اور کشمیر میں بھی موسلادھار بارش اور برفباری کی پیشنگوئی کی گئی ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق جمعرات اور جمعہ کو چترال، دیر، کالام، ناران، کاغان، سوات، کوہستان، گلگت، ہنزہ، اسکردو، مظفرآباد اور وادی نیلم میں درمیانی سے شدید بارش اور برفباری متوقع ہے جس سے سڑکوں کی بندش، لینڈ سلائیڈنگ اور ندی نالوں میں طغیانی کے خدشات ہیں۔
حکام کے مطابق پنجاب کے بالائی علاقے مری اور گلیات میں بھی شدید سردی اور برفباری کے باعث سیاحتی سرگرمیوں پر اثر پڑ سکتا ہے۔
قدرتی آفات سے نمٹنے کے وفاقی ادارے این ڈی ایم اے نے شمالی اور پہاڑی علاقوں میں 21 تا 24 جنوری کے دوران بارش اور برفباری کا الرٹ جاری کیا ہے۔
پی ڈی ایم اے پنجاب نے مری، گلیات اور گرد و نواح میں شدید بارش و برفباری کی پیشنگوئی کی ہے جو 23 جنوری تک جاری رہ سکتی ہے۔