پومپیو کی محمد بن سلمان سے ملاقات

حملے نے تیل کی عالمی رسد کو خطرے میں ڈال دیا ہے (فوٹو: العربیہ)
امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے جدہ کے قصر السلام میں سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات کی ہے۔ دونوں رہنماؤں نے سعودی آرامکو کی تیل تنصیبات پر حملے کے خلاف جوابی کارروائی کی حکمت عملی پر تبادلہ خیال کیا ہے۔
سعودی نیوز ایجنسی کے مطابق امریکی وزیر خارجہ سعودی عرب کے دورے پر بدھ کو جدہ پہنچے ہیں ۔
امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے کہا ہے کہ آرامکو کی تیل تنصیبات پر حملہ جنگی عمل ہے۔ حملے نے تیل کی عالمی رسد کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ 
العربیہ کے مطابق امریکی وزیر خارجہ نے سعودی عرب آتے ہوئے طیارے میں موجود صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اپنا سابقہ دعویٰ دہرایا ہے کہ آرامکو تیل تنصیبات پر حملہ یمن کے حوثیوں نے نہیں بلکہ ایران نے کیا ہے۔

آرامکو تیل تنصیبات پر حملہ حوثیوں نے نہیں بلکہ ایران نے کیا ہے (فوٹو: العربیہ)

پومپیو نے کہا ہے کہ حوثی حملے کے دعوے دار ہیں مگر ان کا دعویٰ درست نہیں۔ حملے میں ایران کا ہاتھ نظر آرہا ہے۔ 
پومپیو نے یہ بھی کہا ہے کہ عراق سے حملے کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔ حملے میں جو ہتھیار استعمال ہوئے ہیں وہ حوثیوں کے پاس ہو ہی نہیں سکتے۔
انہوں نے کہا ہے کہ ہمیں معلوم ہے کہ ایرانیوں کے پاس کچھ ایسے سسٹمز ہیں جنہیں انہوں نے ابھی تک ایران سے باہر کسی اور جگہ نہیں پہنچایا۔
امریکی وزیر نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’یہاں آنے کا مقصد یہ ہے کہ اپنے دوستوں کے ساتھ کام کروں۔ ہم یورپی شرکاء کے ساتھ بھی کام کریں گے۔ 
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہم ایرانیوں کو سبق سکھانے والاپروگرام تیار کرنے کے لیے اتحاد قائم کررہے ہیں۔
واٹس ایپ پر سعودی عرب کی خبروں کے لیے ”اردو نیوز“ گروپ جوائن کریں

شیئر: