Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

اسلام آباد میں درختوں کی کٹائی پر شہری ناخوش، ’شہر اب پہلے جیسا نہیں رہا‘

گلوبل فاریسٹ واچ کے مطابق 2001 اور 2024 کے درمیان دارالحکومت  کا 14 ہیکٹرز پر مشتمل حصہ درختوں سے محروم ہوا (فوٹو: اے ایف پی)
پاکستان کا دارالحکومت اسلام آباد کبھی اپنی سرسبزی کے لیے جانا جاتا تھا مگر اب درختوں کی جگہ سیمنٹ کے ستون لے رہے ہیں جس پر شہری ناخوش لگ رہے ہیں اور بات قانونی چارہ جوئی تک بھی پہنچ چکی ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق 60 کی دہائی میں ملک کا دارالحکومت بننے والے اسلام آباد کو ایک سرسبز و شاداب شہر کے طور پر بسانے کی مںصوبہ بندی کی گئی تھی۔
جس میں کھلے راستے، سڑکیں، پارکس اور درختوں سے ڈھکے سیکٹر شامل تھے۔
یہاں کے بہت سے رہائشیوں کو خشہ ہے کہ کنکریٹ کے بڑھتے استعمال سے ماضی کا وہ ویژن مسلسل ختم ہو رہا ہے۔
محمد نوید نامی ایک شہری ’بڑے پیمانے پر درختوں کی کٹائی‘ پر متعلقہ حکام کو عدالت لے جا چکے ہیں اور ان پر ’بہت سے قدیم درخت کاٹنے اور زمین کو بنجر‘ کرنے الزامات عائد کیے۔
ورلڈ وائڈ فنڈ فار نیچر (ڈبلیو ڈبلیو ایف) کی جانب سے درختوں کی کٹائی کا ذمہ دار بڑھتے انفراسٹرکچر کو قرار دیا ہے۔
گلوبل فاریسٹ واچ کے مطابق 2001 اور 2024 کے درمیان دارالحکومت  کا 14 ہیکٹرز پر مشتمل حصہ درختوں سے محروم ہوا جو کہ 20 فٹ بال پچز کے برابر ہے، تاہم اعداد و شمار میں اس دوران لگنے والے نئے درختوں کی تعداد کا ذکر موجود نہیں ہے۔
ایک مقامی تاجر کامران عباسی جو سنہ 80 سے اسلام آباد میں مقیم ہیں، نے اے ایف پی کو بتایا کہ ’ہر جگہ کٹائی ہو رہی اور شہر اب پہلے جیسا نہیں رہا۔‘

حکام کا کہنا ہے کہ پولن الرجی کا باعث بننے والے درختوں کو کاٹا جا رہا ہے (فوٹو: اے ایف پی)

ان کے مطابق ’درخت زندگی کی علامت ہیں اور ایک پل بنانے کے لیے ہزاروں درخت کاٹے جاتے ہیں۔‘
اس دوران شہر کی آب و ہوا کا معیار بھی مسلسل خرابی طرف گامزن ہے۔
ڈائریکٹر ڈبلیو ڈبلیو ایف کے پاکستان فاریسٹ پروگرام کے ڈائریکٹر محمد ابراہیم نے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’جنگلات قدرتی فلٹر کے طور پر کام کرتے ہیں، پانی اور ہوا کو صاف کرتے ہیں اور مجموعی طور پر آلودگی ے اثر کو کم کرتے ہیں۔‘
شہروں کی آب و ہوا پر نظر رکھنے والے ادارے آئی کیو ایئر کا کہنا ہے کہ پچھلا ماہ اسلام آباد کی ہوا کے معیار کے حساب اچھا نہیں تھا اور دو کے علاوہ باقی تمام دنوں کو ’غیرصحت مند‘ یا ’انتہائی غیر صحت مند‘ قرار دیا تھا۔
دوسری جانب سرکاری حکام درخت ہٹانے کی ایک وجہ پولن الرجی کو بھی قرار دیتے ہیں جو خصوصاً بہار کے موسم میں کافی شدید ہو جاتی  ہے۔
کیپٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کے ایک اہلکار عبدالرزاق کا کہنا ہے کہ ’بنیادی وجہ پولن الرجی ہی ہے۔‘
انہوں نے خبر رساں ادارے کو بتایا کہ ’لوگ سینے میں انفیکشن، دمے اور شدید الرجی کا شکار ہیں اور میں خود بھی ان میں شامل ہوں۔‘
ڈبلیو ڈبلیو ایف کی ایک حالیہ رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ حکومت 29 ہزار ایسے درخت ہٹانے کا ارادہ رکھتی ہے جو پولن کا باعث بنتے ہیں۔
تاہم ناقدین کہتے ہیں کہ پولن الرجی کو وسیع پیمانے پر درختوں کے بہانے کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ پولن کا حل دھڑا دھڑ درختوں کی کٹائی نہیں ہے بلکہ اس کے محتاط اور شفاف مںصوبہ بندی کی ضرورت ہے جائے اور ایسے درخت لگائے جائیں جو پولن کا باعث نہ بنیں۔

شیئر: