سعودی، پاکستان دفاعی معاہدہ ’برادرانہ تعلقات اور سٹریٹجک ہم آہنگی‘ پر مبنی ہے: پاکستان کے اقوام متحدہ میں سفیر
سعودی، پاکستان دفاعی معاہدہ ’برادرانہ تعلقات اور سٹریٹجک ہم آہنگی‘ پر مبنی ہے: پاکستان کے اقوام متحدہ میں سفیر
اتوار 8 فروری 2026 6:11
سعودی عرب کے ساتھ تعلقات میں مضبوطی ایسے وقت میں آ رہی ہے جب پاکستان کو شدت پسند حملوں کی نئی لہر کا سامنا ہے۔ (فوٹو: عرب نیوز)
اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب، عاصم افتخار احمد، نے سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی سٹریٹجک شراکت داری کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ حال ہی میں طے پانے والا دفاعی تعاون کا معاہدہ تاریخی ہے اور ایسے وقت میں علاقائی سلامتی کے لیے مرکزی حیثیت رکھتا ہے جب شدت پسند تشدد میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹرز، نیویارک میں عرب نیوز کو دیے گئے ایک تفصیلی انٹرویو میں پاکستانی مندوب نے کہا کہ 'یہ معاہدہ نہایت اہم ہے، تاہم اسے سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان دہائیوں پر محیط تعاون اور مضبوط اسٹریٹجک اتحاد کے تسلسل اور استحکام کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔'
انہوں نے کہا کہ یہ شراکت داری 'برادرانہ تعلقات اور علاقائی و عالمی امور پر سٹریٹجک ہم آہنگی پر مبنی ہے، جسے اب ٹھوس شکل دے دی گئی ہے۔
پاکستان اور سعودی عرب نے گزشتہ برس 17 ستمبر کو سٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدے پر دستخط کیے، جس کے تحت ایک ملک کے خلاف جارحیت کو دونوں کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا۔ اس معاہدے کا مقصد مشترکہ دفاعی صلاحیت میں اضافہ اور دہائیوں سے جاری عسکری و سلامتی تعاون کو باضابطہ شکل دینا ہے۔
یہ معاہدہ وزیراعظم شہباز شریف کے دورۂ ریاض کے دوران طے پایا، جہاں انہوں نے قصر الیمامہ میں ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات کی۔
عاصم افتخار احمد کے مطابق اس دفاعی معاہدے کے فوراً بعد اقتصادی تعاون کا فریم ورک بھی تشکیل دیا گیا، جو جامع شراکت داری کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب پاکستان کا ایک بڑا اقتصادی شراکت دار ہے، اور سرمایہ کاری، تجارت اور ترقیاتی تعاون میں اضافے کی جانب اشارہ کیا۔
انہوں نے دونوں ممالک کے عوام کے درمیان گہرے عوامی اور روحانی تعلق کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ اسلام کے مقدس ترین مقامات کی تولیت کے باعث سعودی عرب کو پاکستانی عوام میں خصوصی احترام حاصل ہے۔
'یہ صرف حکومتوں کے درمیان تعلقات نہیں ہیں۔ پاکستانی عوام سعودی عرب کے لیے گہرا احترام رکھتے ہیں۔'
ریاض کے ساتھ تعلقات میں مضبوطی ایسے وقت میں آ رہی ہے جب پاکستان کو شدت پسند حملوں کی نئی لہر کا سامنا ہے، جن کا مقصد ملک کے استحکام اور ترقی کو نقصان پہنچانا ہے۔
عاصم افتخار احمد کے مطابق اس دفاعی معاہدے کے فوراً بعد اقتصادی تعاون کا فریم ورک بھی تشکیل دیا گیا۔ (فوٹو: ایس پی اے)
انہوں نے کہا یہ دہشت گردانہ واقعات پاکستان کے امن و استحکام کو کمزور کرنے کی مسلسل کوشش ہیں، اور واضح کیا کہ ان کا مقصد پاکستان کی معاشی بحالی اور عالمی سطح پر ابھرتے ہوئے کردار کو سبوتاژ کرنا ہے۔
‘لیکن ہم ان کا مؤثر طریقے سے مقابلہ کریں گے۔’
انہوں نے کہا کہ خاص طور پر پاکستان کی مغربی سرحد کے ساتھ ہونے والے حملوں کو پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف طویل المدتی کامیابیوں کے تناظر میں دیکھنا چاہیے۔
‘گزشتہ برسوں میں پاکستان نے دہشت گرد اور شدت پسند عناصر کے خلاف نہایت کامیابی سے کارروائیاں کی ہیں۔'
پاکستانی سفیر نے تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کو دو بڑے گروہ قرار دیا جو 'دہشت گردانہ سرگرمیوں کے ذریعے عدم استحکام اور انتشار پیدا کرنا چاہتے ہیں۔'
انہوں نے کہا کہ اگست 2021 میں افغانستان میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد سکیورٹی کی صورتحال میں تبدیلی آئی۔
'حال ہی میں جو تبدیلی آئی ہے وہ یہ ہے کہ کابل میں طالبان حکام کے اقتدار سنبھالنے کے بعد ان گروہوں کو بدقسمتی سے کارروائی، دوبارہ منظم ہونے، تربیت اور بھرتی کے لیے زیادہ گنجائش مل گئی ہے۔ یہ اسی جگہ کو پاکستان کے خلاف سرحد پار حملوں کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔'
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان نے اس مسئلے کو دوطرفہ اور کثیرالجہتی فورمز، بشمول اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل، میں اٹھایا ہے، اور اقوام متحدہ کی نگرانی رپورٹس کا حوالہ دیا ہے جو 'ٹی ٹی پی کی بڑی موجودگی اور افغانستان میں میسر سازگار ماحول کی واضح نشاندہی کرتی ہیں۔'
پاکستان کا ردِعمل، ان کے مطابق، مضبوط اور مسلسل رہا ہے۔
پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان معاہدے پر دستخط ریاض میں ہوا تھا۔ (فوٹو: ایس پی اے)
'ہمارے پاس اس خطرے سے نمٹنے کی صلاحیت موجود ہے۔ ہم ان میں سے کئی عناصر کو پہلے ہی بے اثر کر چکے ہیں۔'
'ہم انہیں جڑ سے اکھاڑ پھینکیں گے۔ ہمیں معلوم ہے کہ انہیں کون سپورٹ کر رہا ہے۔'
انہوں نے افغانستان سے امریکی اور دیگر مغربی افواج کے انخلا کے بعد وہاں چھوڑے گئے جدید ہتھیاروں کی بڑی مقدار کی طرف بھی توجہ دلائی۔
'بین الاقوامی افواج کی جانب سے چھوڑا گیا اربوں ڈالر مالیت کا عسکری سازوسامان طالبان کے ہاتھ لگا اور بالآخر ان دہشت گرد گروہوں تک پہنچا۔'
عاصم افتخار احمد نے کہا کہ حالیہ برسوں میں کی جانے والی اصلاحات کے باعث پاکستان کی معیشت میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ 'معاشی اصلاحات کا ایک جامع عمل کیا گیا ہے، جس میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے پروگرام سے منسلک اقدامات اور دوطرفہ شراکت داروں کے ساتھ تعاون شامل ہے۔'
عاصم افتخار احمد نے کہا کہ حالیہ برسوں میں کی جانے والی اصلاحات کے باعث پاکستان کی معیشت میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ (فوٹو: اے ایف پی)
ان کے مطابق، معاشی اشاریے درست سمت کی نشاندہی کر رہے ہیں جبکہ حکومت سرمایہ کاری کے ماحول کو بہتر بنانے کے لیے سرگرم عمل ہے۔
'یہ صرف ایک یا دو ممالک نہیں جو دلچسپی لے رہے ہیں۔
چین چین، پاکستان اقتصادی راہداری کے ذریعے گہرے طور پر منسلک ہے، سعودی عرب بڑے سرمایہ کاری کے مواقع کا جائزہ لے رہا ہے، اور ہم متحدہ عرب امارات، قطر، ترکی اور امریکہ کے ساتھ اقتصادی تعلقات کو وسعت دے رہے ہیں۔'
انہوں نے حالیہ دہشت گرد حملوں کے وقت کو براہ راست ان معاشی کامیابیوں سے جوڑا۔
'اسی لیے ہم ان واقعات کو پاکستان کی معاشی ترقی، اقوام متحدہ میں بڑھتے ہوئے کردار، اور بھارت کے ساتھ حالیہ تنازع کے بعد حاصل ہونے والی بہتر عالمی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی دانستہ کوشش سمجھتے ہیں۔'