تبدیلی اسی چیز کا نام ہے!

تو کیا واقعی ریلو کٹے آرہے ہیں؟ (فوٹو اے ایف پی)
مجھے لگتا ہے اپنی ماں کے بعد اگر مجھے کسی سے محبت ہوئی ہے تو وہ کرکٹ ہے، یہ محبت ہی ہے کہ جب جب پاکستان برا ترین کھیلا ، آخری بال تک ان کو برباد ہوتے دیکھا۔
میری زندگی کا سب سے بڑا کرکٹ غم 96 کا ورلڈ کپ ہے، جس میں پاکستان بھارت کے شہر بنگلور میں بھارت کے خلاف میچ ہارا تھا۔
اس کے بعد مجھے لگتا تھا کہ کوئی اور غم مجھے گھائل نہیں کر سکے گا  لیکن ایک غم آیا جس نے صرف مجھے یا پاکستانیوں کو ہی نہیں بلکہ ساری دنیا کو ہلا دیا۔ سال 2009 میں سری لنکا کی ٹیم پاکستان کھیلنے آئی ہوئی تھی۔
دوسرے ٹیسٹ میچ کا تیسرا دن تھا اور سری لنکا کی ٹیم قذافی سٹیدیم کی طرف رواں دواں تھی اور پھر وہ ہوا جو کسی نے سوچا نہ تھا۔
مسلح شدت پسندوں نے سری لنکا کے قافلے پر حملہ کر دیا جس میں سری لنکا کے چھ کھلاڑی زخمی ہوئے۔

پاکستانی شائقین عرصہ دراز سے ہوم کرکٹ سے محروم ہیں

یہ یاد ایسی ہے جو جتنا زور لگا لوں ذہن سے نکلتی نہیں۔ دنیا بھر میں پاکستان کو کرکٹ کھیلنے کے لیے خطرناک قرار دے دیا گیا اور 2009 کے بعد پاکستان میں کرکٹ ٹورنامنٹس کا قحط شروع ہوا، جس کو پی ایس ایل نے تھوڑا بہت ختم کیا۔
 کرکٹ کے جانے کے بعد میں تو یتیم ہی محسوس کرنے لگی۔ قذافی سٹیڈیم کے باہر سے گزرتے ہوئے  ’اللہ بخشے‘ ہی منہ سے نکلتا تھا۔
 جب پی ایس ایل کا پہلا میچ تھا تو مجھے یاد ہے میں سٹیڈیم کا دورہ کرنے گئی تھی اپنی ملازمت کی وجہ سے، خوشی بھی تھی لیکن دماغ میں بم دھماکوں کی آوازیں بھی چل رہی تھیں۔ تماشائی بھی تھوڑے سہمے ہوئے تھے لیکن میچ ہوا اور کامیابی سے ہوا۔
اس وقت کے نہ ہو سکے وزیرِاعظم عمران خان نے اپنے ہی ملک کا تمسخر اڑایا اور کہا کہ یہ ’ریلو کٹے لا کر کیا کارنامہ کر لیا۔‘
 لیں جی اب کے وزیرِ اعظم عمران خان صاحب ! اب تو واقعی ریلو کٹے آ رہے ہیں آپ کے دور میں ہی آ رہے ہیں۔
جی ہاں سری لنکا کی ٹیم اس حادثے کے بعد پہلی بار ایک مکمل سیریز کھیلنے پاکستان آ رہی ہے۔ ٹیم کو ریلو کٹے اس لیے کہا جا رہا ہے کہ دس سینیئر کھلاڑیوں نے تو آنے سے ہی انکار کر دیا ہے۔

سال 2009 میں سری لنکا کی کرکٹ ٹیم پر حملہ ہوا تھا (فوٹو اے ایف پی)

ایک تو مجھے پہلے ہی سری لنکا  ٹیم کے کھلاڑیوں کے نام یاد نہیں ہوتے تھے۔ اب تو ساتھ  کرک انفو کھول کر ان کا پروفائل دیکھنا پڑے گا میچ کے ساتھ۔
خیر میری قوم کرکٹ کی بھوکی ہے۔ ہم نے اس کو بھی غنیمت جانا ہے کہ کوئی آیا تو سہی، 3 او ڈی آئی اور تین ٹی ٹوئنٹی پر مشتمل یہ سیریز 27 ستمبر سے شروع ہوگی۔
سری لنکا جس طرح کی ٹیم بھیج رہی ہے، خیال تو یہی آتا ہے کہ ہماری بھی آدھی ٹیم ریسٹ ہی کر لے لیکن ہم ورلڈ کپ  میں جس طرح سے ہارے یا ہارنے کی کوشش کرتے رہے، اس کے بعد بہتر یہی ہے کہ پوری ٹیم ہی کھیلے۔
جب سری لنکا کے کھلاڑیوں نے اس سیریز کے لیے پاکستان آنے سے منع کیا تو پاکستانی قوم کافی خفا ہوئی۔ کچھ نے بے زاری ظاہر کی اور کچھ نے سری لنکا کی ٹیم کو ڈرپوک کہا۔ میری اپنے ہم وطنوں سے گزارش ہے کہ دیکھیں پاکستانی قوم وہ قوم ہے جو کسی جگہ دھماکہ ہونے پر وہاں سے ہٹتی نہیں بلکہ تجسس کے عالم میں دھماکے والی جگہ میں مزید گھس جاتی ہے۔
ایک مثال واہگہ بارڈر پر دھماکے کی ہے جس میں ہلاکتیں ہوئیں۔ اگلے دن اس سے ڈبل لوگ وہاں پہنچے ہوئے تھے۔ پاکستان زندہ باد کے نعرے لگانے۔ میری قوم قوم نہیں، مجاہد ہے۔ ہم مرنے کے بعد سوچتے ہیں کہ اوہ، اے کی ہویا۔ اسی تے واقعی مر گئے۔ ہر قوم میں یہ  ’خاصیت‘ نہیں پائی جاتی، تو خدارا سری لنکا کی ٹیم کو ڈرپوک کہنے سے گریز کریں۔

جو لوگ اس سری لنکا کی ٹیم کو ریلو کٹے کہتے ہیں، غلط بات ہے (فوٹو اے ایف پی)

میرے لیے یہ سیریز کچھ زیاد اہمیت رکھتی ہے کیونکہ میرے دل کے قائد مصباح الحق اس بار سلیکٹر اور کوچ  کا رول بھی ادا کریں گے۔ مصباح جی نے آتے ہی لڑکوں کے برگر تے نالے پیزے بند کر دیے ہیں۔
سرفراز احمد نے ٹیم میں کچھ کرنے کے لیے 9 کلو وزن بھی کم کر لیا ہے۔ باقی لڑکوں نے شادیاں بھی کر لی ہیں۔ حسن علی کو بیوی تو مل گئی ہے۔ دیکھیے اس سیریز میں ان کو کوئی پیس ملتی ہے کہ نہیں۔
ہمارا سکواڈ آج کی تاریخ تک تو فائنل نہیں ہوا لیکن متوقع ناموں میں عمر اکمل کا نام شامل ہے۔ اگر وہ واقعی سکواڈ میں شامل ہو گیا تو میں انگور کھانے بند کر دوں گی۔
دوسری طرف بڑی خوشخبری یہ ہے کہ شعیب ملک اور محمد حفیظ کا نام کہیں دور دور تک نہیں ہے۔ اب دیکھیں مصباح اور وقار یونس بوائز میں سے کیا جادو جگاتے ہیں۔
اور جو لوگ اس سری لنکا کی ٹیم کو ریلو کٹے کہتے ہیں، غلط بات ہے۔ یاد رکھیں کہ اب عمران خان وزیرِ اعظم بن چکے ہیں۔ اب سری لنکا کے ریلو کٹے بھی دنیا کے بہترین کھلاڑی قرار پائیں گے کیونکہ تبدیلی اسی چیز کا نام ہے!

شیئر: