وادیِ گوجال میں پامیری تڑکہ

2015 تک وادیِ ہنزہ کی ملکہ سلطانہ اور رشیدہ بیگم نے کئی کاروبار کر کے دیکھے لیکن کسی میں بھی قسمت نے ان کا ساتھ نہ دیا۔ پھر ایک دن ایسا کام شروع کرنے کا خیال آیا جس میں انہیں ملکہ حاصل تھی: روایتی پامیری پکوان اور ان کی ترکیب جو وقت گزرنے کے ساتھ مائیں اور بچے کھانا اور پکانا بھولتے جا رہے ہیں۔ 
سلطانہ اور ان کی بزنس پارٹنر رشیدہ نے ماڈرن طرز زندگی کے باعث ہنزہ کے روایتی پکوانوں کے ختم ہونے کا خطرہ محسوس کیا تو ایسے پکوانوں کی روایت کو زندہ رکھنے کے لیے تقریباً چار سال پہلے ایک ایسا ریستوران کھولا جہاں ہر ڈش کو مقامی ترکیب کا تڑکا لگایا جاتا ہے۔ 

’بوزلانچ ‘ کے نام سے اس ریستوران میں وہ سب کچھ کھانے کو ملتا ہے جو وادیِ گوجال کی اصل پہچان ہے۔  

سلطانہ سمجھتی ہیں کہ شمالی علاقہ جات کی نوجوان نسل کے جدید طرز زندگی کے باعث پامیری کھانوں کی روایت آہستہ آہستہ ختم ہونے لگی ہے، ’ہمارے گھروں میں ہمارے بعد جو بچےاور نوجوان ہیں ان میں روایتی کھانے پکانے کا رجحان ختم ہونے کو ہے۔ ہمارے بچے مقامی ڈشز بنا ہی نہیں سکتے کیونکہ ان کی کافی مصروف زندگی ہے۔
 





اپر ہنزہ کے گلمت قصبے میں ان باہمت خواتین کے ’بوزلانچ ‘ کے نام سے ریستوران میں وہ سب کچھ کھانے کو ملتا ہے جو وادیِ گوجال کی اصل پہچان اور قدیم روایت ہے۔  
ریستوران کا نام بھی قراقرم کے پہاڑوں پر اگنے والی جڑی ’بوزلانچ ‘ کے نام پر رکھا گیا ہے جس کی سبز چائے دور دور سے آنے والے سیاحوں کو تازہ دم کر دیتی ہے۔ 
’بوزلانچ صرف گوجال کے پہاڑوں پر ملتا ہے جسے ہم خود پہاڑوں پر جا کر چن کر لاتے ہیں،‘ سلطانہ نے اپنے چھوٹے سے صاف ستھرے کچن میں کام کرتے ہوئے بتایا۔ 

ان خواتین کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے روایتی پامیری کھانوں کو زندہ رکھا ہے۔

گلمت میں قراقرم ہائی وے سے بمشکل ایک کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ’بوزلانچ ‘ ریستوران اور اس کے کھانوں کی صرف ہنزہ میں ہی نہیں بلکہ دیگر علاقوں سے یہاں آنے والے سیاحوں میں بھی کافی دھوم ہے۔ ایسا ہو بھی کیوں نا جب گلمت سیر کو آنے والےسیاحوں کو گوجال کی خالص ڈشز صرف یہی سے ملتی ہیں۔  
ملکی و غیر ملکی سیاحوں کو اکثر مقامی ٹور گائیڈ روایتی کھانوں کے لیے’بوزلانچ ‘ ہی لےکر آتے ہیں۔ ’اگر کوئی سیاح ایک بار ’بوزلانچ ‘ سے کچھ کھا لے تو پھر مہنگے ہوٹلوں کے پر تکلف کھانوں کو چھوڑ کر مقامی پکوانوں کا ذائقہ چکھنے بار بار ہمارے ریستوران کا رخ کرتا ہے۔‘  
مولیدہ، غلمندی، گرل، چموس، سیمنکس اور بہت کچھ وادیِ گوجال کے خاص پکوان ہیں جو اب مقامی گھروں میں بھی کم ہی بنتے ہیں۔
اسی لیے ہنزہ کے مقامی لوگ بھی بقول سلطانہ، ’خاص طور پر مولیدہ کھانے کے لیے آتے ہیں جبکہ پنجاب ، سندھ کے لوگ اور غیر ملکی سیاح گرل اور غُلمندی کھانا زیادہ پسند کرتے ہیں۔‘

بوزلانچ مقامی افراد کے علاوہ سیاح بھی آتے ہیں۔

’بوزلانچ‘ اور اس میں تیار کیے جانے والے پکوان اس لیے بھی خاص ہیں کہ انہیں آرگینک یا غیر مصنوعی طریقوں سے پیدا شدہ اجناس سے تیار کیا جاتا ہے۔
’یہاں ہم کوئی بھی چیز ملاوٹ والی نہیں بناتے بلکہ ہر چیز آرگینک استعمال کرتے ہیں۔ ہم کوشش کرتے ہیں کہ تمام فوڈ اپنے فارم سے اٹھائے لیکن اگر کوئی چیز ہمارے پاس ختم ہو  تو گاؤں کے دوسرے گھروں سے اٹھاتے ہیں۔‘
’بوزلانچ ‘ ریستوران کے چلنے کے بعد ملکہ سلطانہ اور رشیدہ بیگم اب اپنے بچوں کو ایک اچھے سکول میں پڑھا رہی ہیں جو پہلے ان کے لیے مشکل ہو گیا تھا۔ 
’میرے اور میری بزنس پارٹنر کے شوہر بے روز گار تھے تو ظاہر ہے کہ ہم نے اپنے بچوں کو پڑھانا تھا۔ ہماری اپنی بھی ضروریات تھیں۔‘
ملکہ سلطانہ کو ’بوزلانچ ‘ میں مقامی پکوانوں کی روایت کو زندہ رکھنے پر فخر ہے۔’ابھی چوتھا سال ہے، اللہ کا شکر ہے کہ یہ ریستوران اچھا چل رہا ہے۔‘
واٹس ایپ پر پاکستان کی خبروں کے لیے ’اردو نیوز‘ گروپ میں شامل ہوں

شیئر: