جیلوں میں 23 ہزار 650 زیادہ قیدی ہیں

بلوچستان واحد صوبہ ہے جہاں جیلوں میں قیدیوں کی تعداد گنجائش سے کم ہے۔ فوٹو: سوشل میڈیا
پاکستان بھر کی جیلوں میں گنجائش سے 23 ہزار 650 اضافی قیدی موجود ہیں تاہم بلوچستان واحد صوبہ ہے جہاں قیدیوں کی تعداد گنجائش سے کم ہے۔
یہ انکشاف وفاقی محتسب کی جیل اصلاحات سے متعلق قائم کمیٹی کی اس رپورٹ میں کیا گیا ہے جو سپریم کورٹ میں جمع کروائی جائے گی۔
اردو نیوز کو دستیاب اس رپورٹ میں پاکستان بھر کی جیلوں میں قیدیوں کی تعداد، ان کی فلاح و بہبود کے لیے صوبائی حکومتوں کے اقدامات اور کمیٹی کی اپنی تجاویز شامل ہیں۔

صوبہ سندھ کی 24 جیلوں میں 10 ہزار 38 کے بجائے 16 ہزار 739 قیدی رکھے گئے ہیں۔

جیلیں، قیدی اور گنجائش

رپورٹ کے مطابق پاکستان بھر میں کل 98 جیلیں ہیں جن میں 42 پنجاب، 24 سندھ، 21 خیبر پختون خوا اور 11 بلوچستان میں ہیں۔ ان جیلوں میں 56 ہزار 495 قیدیوں کو رکھنے کی گنجائش موجود ہے تاہم اس وقت ان جیلوں میں موجود قیدیوں کی تعداد 80 ہزار 145 ہے جو دستیاب گنجائش سے 23 ہزار 650 زائد ہے۔
صوبہ پنجاب کی 42 جیلوں میں 32 ہزار 477 قیدیوں کی گنجائش کے برعکس 45 ہزار 423 قیدی رکھے گئے ہیں۔ صوبہ سندھ کی 24 جیلوں میں 10 ہزار 38 کے بجائے 16 ہزار 739 قیدی رکھے گئے ہیں۔ خیبر پختونخوا کی 21 جیلوں میں قیدیوں کی گنجائش تو 8 ہزار 395 ہے تاہم ان میں تقریبا دوگنا یعنی 15 ہزار 969 قیدی ہیں۔
بلوچستان پاکستان کا واحد صوبہ ہے جہاں 11 جیلوں میں 2 ہزار 585 قیدیوں کی گنجائش ہیں تاہم جیلوں میں صرف 2 ہزار 14 قیدی ہیں۔
جیل میں قیدیوں کی مختلف کیٹگریز ہوتی ہیں جن میں جنس اور عمر کے لحاظ سے  مرد، عورتیں اور بچے شامل ہیں۔ جبکہ سزا یافتہ، زیر التوا مقدمات کے ملزمان اور سزائے موت کے قیدیوں کی الگ سے تین کیٹگریز ہیں۔

مرد، عورتیں اور بچے

وفاقی محتسب کی جیل اصلاحات کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق اس وقت ملک کی تمام جیلوں میں کل 77 ہزار 67 مرد، ایک ہزار 49 عورتیں جبکہ ایک ہزار 135 بچے قید ہیں۔

صوبہ سندھ کی 24 جیلوں میں 10 ہزار 38 کے بجائے 16 ہزار 739 قیدی رکھے گئے ہیں۔ فوٹو: محکمہ جیل پنجاب

پنجاب میں سب سے زیادہ 44 ہزار 78، سندھ میں 16 ہزار 402، کے پی میں 15 ہزار 450 جبکہ بلوچستان میں ایک ہزار 137 مرد قیدی موجود ہیں۔
اسی طرح پنجاب کی جیلوں میں 703، سندھ میں 190، کے پی کے میں 137 جبکہ بلوچستان میں 19 خواتین قیدی ہیں۔
پنجاب کی جیلوں میں قید بچوں کی تعداد 562 ہے جبکہ سندھ میں 147، خیبر پختونخوا میں 382 اور بلوچستان میں قید بچوں کی تعداد 44 ہے۔

سزا یافتہ، زیر التوا اور سزائے موت کے قیدی

جیلوں کا بنیادی مقصد تو ان افراد کو قید رکھنا ہوتا ہے جن پر جرائم ثابت ہو چکے ہوں تاہم پاکستان کے ضابطہ فوجداری میں ملزمان کو بھی حوالاتی کے طور پر جیل میں رکھا جاتا ہے اور ان کی بیرکس سزا یافتہ قیدیوں سے الگ رکھی جاتی ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق اس وقت ملک بھر کی جیلوں میں سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد 24 ہزار 280 ہے جن میں 16 ہزار 680 پنجاب کی جیلوں میں قید ہیں۔ سندھ میں 4 ہزار 177، خیبر پختونخوا میں 2 ہزار 700 اور بلوچستان کی جیلوں میں 723 سزا یافتہ قیدی موجود ہیں۔
مزید پڑھیں
 
اس کے برعکس ملک بھر کی جیلوں میں انصاف کے منتظر ملزمان کی تعداد دوگنا سے بھی زیادہ ہے۔ پورے ملک کی جیلوں میں قید ملزمان/ حوالاتیوں کی تعداد 51 ہزار 710 ہے۔ پنجاب کی جیلیں ان میں نصف یعنی 25 ہزار 493 ملزمان کی میزبان ہیں جبکہ 12 ہزار 562 ملزمان سندھ، 12 ہزار 504 کے پی اور ایک ہزار 151 ملزمان بلوچستان کی جیلوں میں اپنے مقدمات کے منطقی انجام تک پہنچنے کے منتظر ہیں۔
اس رپورٹ کے مطابق 30 جون 2019 تک ملک میں 4 ہزار 51 افراد کو سزائے موت سنائی جا چکی ہے اور وہ اس پر عمل درآمد کے منتظر ہیں۔ پنجاب کی جیلوں میں سزائے موت کے منتظر قیدیوں کی تعداد تین ہزار 250 ہے۔ سندھ میں 525، خیبر پختونخوا میں 215 اور بلوچستان کی جیلوں میں سزائے موت کے قیدیوں کی تعداد 61 ہے۔

جیل اصلاحات ، سفارشات

وفاقی محتسب نے سپریم کورٹ کی ہدایات کی روشنی میں 2015 میں ایک کمیٹی تشکیل دی جس نے جیل اصلاحات کے لیے کچھ سفارشات مرتب کیں۔
ان سفارشات میں تجویز کی گئی کہ جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی رکھنے کے بجائے ہر ضلع میں ایک جیل تعمیر کی جائے۔ ہر جیل میں مرد، عورتوں اور بچوں کے لیے الگ الگ بیرکس اور سونے کے لیے مناسب جگہ اور صاف ستھرے ٹائلٹس بھی بنائے جائیں۔

وفاقی محتسب نے سفارش کی ہے کہ نادرا کی مدد سے جیلوں میں بائیو میٹرک نظام نصب کیا جائے۔ فوٹو: ٹوئٹر

یہ بھی تجویز کی گئی کہ ہر ضلع میں جیلوں کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے ضلعی نگران کمیٹیاں تشکیل دی جائیں۔ ان کمیٹیوں کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے صوبائی سطح پر مرکزی کمیٹی بھی ہونی چاہیے۔
جیلوں میں قیدیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کو مد نظر رکھتے ہوئے پے رولز کی مدت میں توسیع متعارف کرائی جائے اور اس مقصد کے لیے جیل قوانین میں ترامیم کی جائیں۔
نادرا کی مدد سے جیلوں میں بائیو میٹرک نظام نصب کیا جائے۔ منشیات کے عادی قیدیوں اور ذہنی معذوری کے شکار فراد کو جیل میں رکھنے کے بجائے بحالی مراکز میں منتقل کیا جائے۔
کوئی بھی قیدی تعلیم کے حق سے محروم نہ رہے اس لیے جیل کی قریب ترین یونیورسٹی سمیت علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اور دیگر ادارے قیدیوں کے لیے تعلیمی سہولیات کی فراہمی سمیت ووکیشنل ٹریننگ پروگرامات کا آغاز کریں۔
سپریم کورٹ آف پاکستان نے 18 ستمبر 2018 کے فیصلے میں ان سفارشات کو شامل کرتے ہوئے وفاقی محتسب کو ہر چار ماہ بعد ان پر عمل درآمد کی رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کی۔
وفاقی محتسب نے اس فیصلے پر اب تک دو عمل در آمد رپورٹس جمع کروائی ہیں جبکہ تیسری رپورٹ تیار کی جا چکی ہے۔
مزید پڑھیں
 
صوبوں کی جانب سے عملدرآمد کے اقدامات کو ناکافی قرار دیتے ہوئے ایک مرتبہ پھر سفارش کی ہے کہ نگران کمیٹیوں کے کام کو تیز کرنے، ہنگامی دورے کرنے سمیت جیلوں میں سہولیات کی بہتری کے لیے اصلاحات پر عمل درآمد ہوتا ہوا نظر بھی آنا چاہیے۔
وفاقی محتسب نے اپنی رپورٹ میں مزید 15 سفارشات دی ہیں جن میں جیلوں میں توسیع، میڈیکل سہولیات کی فراہمی میں بہتری، بحالی مراکز کی تعمیر پر زور دیا گیا ہے۔
وفاقی محتسب نے کہا کہ صوبائی حکومتوں کو پابند بنایا جائے کہ وہ اصلاحات اور ان سے متعلق سفارشات پر عمل در آمد کی آزادانہ رپورٹ بروقت جمع کروائیں۔
واٹس ایپ پر پاکستان کی خبروں کے لیے ’اردو نیوز‘ گروپ میں شامل ہوں

شیئر: