وجود زن رنگ یا بھنگ؟

یہاں سردیاں جانے کا نام ہی نہیں لیتیں۔ چند دن پہلے دھوپ چمکنا شروع ہوئی تو ہمیں لگا کہ شاید موسم کھلنے والا ہے۔ ہر طرف بہار کا چرچا شروع ہو گیا تھا۔ یہ بہار فیض صاحب والی نہیں تھی کہ جس میں نئے سرے سے تمام حساب کھلنے لگیں۔ سچی مچی کی بہار تھی۔ دھوپ نرم بھی تھی اور چمکیلی بھی۔ سبز پتوں پر پڑتی تھی تو یوں لگتا تھا کہ جیسے کسی جادو سے گہرا سنا رنگ چمکیلا سبز ہو گیا ہے۔ چہروں پر وہ لالی  نظر آنے لگی تھی جو صرف بہار کا خاصہ ہے۔
خیر قصہ مختصر آج پھر بارش ہو گئی ہے۔ ٹھنڈ سے کلیجہ جکڑا جا رہا ہے۔ گرم جیکٹ پہن کر لکھ رہے ہیں تو کچھ لکھنے میں بھی دقت ہے۔ جیکٹ کا وزن بھی یوں ہی ہے جیسے ضمیر کا بوجھ۔ اتار پھینکو تو ٹھٹھر مرو۔ پہنے رکھو تو ڈھیروں بوجھ کاندھوں پر لادے رہو۔ سننے میں یہی آیا ہے کہ بس جاتے جاڑے کا آخری جھٹکا ہے۔ بالکل ویسے ہی جیسے نزع کے عالم میں ایک زوردار ہچکی آتی ہے۔ اور بس پھر سب قصہ پارینہ بن جاتا ہے۔
جیسے دنیا سے ایک انسان جاتا ہے تو دوسرا آتا ہے۔ موسموں کی بھی یہی ریت ہے۔ کچھ مستقل نہیں۔ بہار آئے گی۔ پھر گرمی آئے گی۔
ہمیں یہاں آنے سے پہلے سردیوں کا موسم بہت پسند تھا۔ لحاف میں گھس کر مونگ پھلی  کھانا، گرم چادر اوڑھ کر آگ سینکنا، سرد لمبی راتوں میں کتابیں چاٹنا۔۔۔ اس موسم میں ایک عجیب رومان لگتا تھا۔ یہاں گیم الٹی ہے۔ انہیں گرمیاں زیادہ پسند ہیں کہ گرمیوں میں کھلی فضا میں سائیکل چلاتے ہیں۔ دوڑتے ہیں۔ ساحل سمندر پر پورا پورا دن بتاتے ہیں۔ تیراکی کرتے ہیں۔ سمندر پر کشتیاں چلاتے ہیں۔ پانی سے متعلق ہر قسم کے کھیل کھیلتے ہیں۔

موسموں کی بھی یہی ریت ہے۔ کچھ مستقل نہیں۔ بہار آئے گی۔ پھر گرمی آئے گی۔

موسم بدلتے ہی کپڑے بھی بدل جاتے ہیں۔ ان کے سلسلے میں یوں کہیے کہ خاصے کم ہو جاتے ہیں۔ فطری لباس کو ہلکا سا ڈھکا جاتا ہے اور پانی میں دل بہلایا جاتا ہے۔ یہاں آنے سے پہلے جس ’فحاشی‘ کا سنا تھا وہ اپنے زوروں پر ہوتی ہے۔ ساحل سمندر پر جل پریاں ریت پر اپنے دودھ سے گورے رنگ کو سنہری کرنے میں سرگرداں ہوتی ہیں۔ عام لباس بھی نسبتاً چھوٹے ہو جاتے ہیں۔
اس حساب سے تو یہ ہونا چاہیے تھا کہ شرح جرائم بڑھ جاتی۔ ہر کوئی ان عورتوں کے ساتھ جنسی زیادتی کر کے ان کا گلا گھونٹ کر کسی نالے میں پھینک دیتا۔ چھوٹی بچیوں کو بھی ہوس کا نشانہ بنایا جاتا۔ کمسن لڑکوں کے ساتھ زبردستی کرنے کے بعد انہیں جان سے مار دیا جاتا۔ پڑوسی ٹافی کے بہانے بچیوں کو گھر سے لے جاتے اور ان کی لاش کو کہیں چھپا دیتے۔ سب کچھ کرتے اور الزام ان عورتوں کی بے لباسی پر لگاتے۔
لیکن یہ بات آپ بھی جانتے ہیں اور ہم بھی کہ ایسا نہیں ہوتا۔ یہاں کسی کو ان سے مطلب نہیں۔ مردوں کی زندگی عورت کے جسموں تک ہی محدود نہیں۔ ان کے لیے عورت کوئی ایسی غیر ماورائی مخلوق نہیں کہ جس پر نظر پڑتے ہی ان کا ایمان متزلزل ہونے لگے گا۔ اور یہ سزا کے طور پر جو سامنے نظر آیا اسے کھا جائیں گے۔ قتل کا پرچہ مقتول پر نہیں بلکہ قاتل پر کاٹا جاتا ہے۔ سزاوار ظالم ہے۔ مظلوم نہیں۔

ہم نے مغربی ممالک کی مثال سے یہ تو سمجھ لیا کہ مسائل کی جڑ عورت کا جسم نہیں۔

ہمارے ہاں جنسی زیادتی کے کیسوں کہ تعداد میں اتنا ہی اضافہ ہو رہا ہے کہ جیسے فیض صاحب کی بہار میں زخموں میں ہونے لگتا ہے۔ بچوں سے زیادتی کے کیس بھی نہ صرف اس تعداد میں شامل ہیں۔ چاہے وہ نو ماہ کی بچی ہو یا نو سال کا بچہ، کوئی محفوظ نہیں۔ سینکڑوں بچوں کو چائلڈ پورن کا حصہ بنا دیا جاتا ہے لیکن سب کے مسائل کا حل ایک ہی ہے۔ اور وہ ہے عورت کے جسم کا ہر عضو مردوں کی نظر سے دور رکھنا۔
جیسا کہ ہم نے مغربی ممالک کی مثال سے یہ تو سمجھ لیا ہے کہ ان مسائل کی جڑ عورت کا جسم نہیں بلکہ مرد کا ذہن ہے تو ہم اپنے ملک کے مردوں کو کیوں حیوانوں سے تشبیہ دینے پر تلے ہیں۔
خدا لگتی کہیں تو ہم عورتوں کے حقوق کے بہت علمبردار ہیں۔ لیکن اس کے ساتھ ہی ساتھ ہم ان مردوں کو بھی جانتے ہیں جنہوں نے عورت کی تکریم میں کبھی کوئی کسر نہ چھوڑی۔ اس کی ترقی کے لیے آواز اٹھائی۔ جنسی زیادتی کا الزام عورتوں پر لگانے کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے ہاں مردوں کا خود پر کوئی اختیار نہیں۔ وہ شہوانی خواہشات کے تابع ایک کمزور انسان ہیں جن کے ذہن میں عورت کے جسم کے علاوہ کوئی عقل اور شعور کی بات نہیں ٹکتی۔ 
آج ہم عورتوں کے حقوق کے لیے ہی نہیں بلکہ ان مردوں کے حقوق کے لیے بھی آواز اٹھاتے ہیں جنہیں چند حیوان صفت انسانوں کی وجہ سے اسی کیٹگری میں ڈال دیا گیا ہے۔ یہ جنگ صرف عورت کے ہی نہیں بلکہ مرد کے حقوق کی بھی ہے۔ 
جن مرد حضرات کو عورت کا وجود اپنی کمزوریوں اور جرائم کا سبب لگتا ہے ان سے گزارش ہے کہ ذہن کو ڈیٹول اور کالے صابن سے خوب رگڑ رگڑ کر دھوئیں۔ شاید کچھ افاقہ ہو۔ مسئلہ عورت کے جسم میں نہیں آپ کے دماغ میں ہے جس کی غلاظت کو گہری صفائی کی اشد ضرورت ہے۔

شیئر: