Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’ایرانی تیل‘ نے کمشنر کی جان لے لی

حادثہ کوئٹہ سے تقریباً 190 کلومیٹر دور قلات کے علاقے بینچہ کے مقام پر پیش آیا۔ فائل فوٹو اے ایف پی
بلوچستان کے ضلع قلات میں ایک سڑک حادثے میں کمشنر مکران ڈویژن سمیت چار افراد ہلاک ہوئے جبکہ ایک شخص زخمی ہوگیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ کمشنر کی گاڑی ایرانی سمگل شدہ تیل لے جانے والی گاڑی کے ساتھ ٹکرائی جس کے بعد دونوں گاڑیوں میں آگ لگ گئی۔
قلات لیویز کے مطابق حادثہ جمعرات کی شام کو کوئٹہ سے تقریباً 190 کلومیٹر دور قلات کے علاقے بینچہ کے مقام پر قومی شاہراہ پر پیش آیا۔ کمشنر مکران ڈویژن کیپٹن ریٹائرڈ طارق زہری سرف گاڑی میں کوئٹہ سے تربت جارہے تھے۔ ان کی گاڑی سامنے سے آنے والی پروبکس گاڑی سے جا ٹکرا ئی۔ پروبکس گاڑی پنجگور سے ایرانی سمگل شدہ پٹرول لے کر کوئٹہ جارہی تھی۔ حادثے کے بعد پروبکس گاڑی میں موجود پٹرول میں آگ بھڑک اٹھی۔
مقامی لیویز کے مطابق آگ کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ گاڑی میں سوار افراد کو سنبھلنے کا موقع ہی نہیں مل سکا اور وہ بری طرح جھلس گئے۔ دونوں گاڑیاں بھی جل کر تباہ ہوگئیں۔ 
کمشنر قلات ڈویژن حافظ طاہر نے تصدیق کی کہ حادثے میں کمشنر مکران کیپٹن ریٹائرڈ محمد طارق زہری کی ڈرائیور اور گن مین کے ساتھ موقع پر ہی موت واقع ہوگئی۔ ایرانی تیل لے جانے والی گاڑی کا ڈرائیور پشین کا رہائشی نور الدین اچکزئی بھی ہلاک ہوگیا جبکہ ان کا ساتھی محمد عالم شدید زخمی ہوئے۔ انہیں تشویشناک حالت میں کوئٹہ منتقل کردیا گیا۔

مقامی لیویز کے مطابق آگ کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ گاڑی میں سوار افراد کو سنبھلنے کا موقع ہی نہیں مل سکا۔ فوٹو: سوشل میڈیا

کمشنر قلات ڈویژن کے مطابق دونوں گاڑیوں میں سوار افراد کی لاشیں بری طرح جھلسنے کے باعث ناقابل شناخت تھیں۔ حادثے کے کئی گھنٹے بعد لاشوں کی شناخت کی گئی۔
محکمہ داخلہ بلوچستان کے ایک اہلکار کے مطابق کمشنر مکران ڈویژن طارق زہری دو دن قبل محکمہ داخلہ بلوچستان میں ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس میں شرکت کے لیے تربت سے کوئٹہ آئے تھے۔ وہ اجلاس میں شرکت کے بعد جمعرات کو واپس سکواڈ کے بغیر صرف ڈرائیور اور ایک محافظ کے ہمراہ سرف گاڑی میں تربت کے لیے روانہ ہوئے۔ جمعرات کی شام کے بعد ان سے رابطہ نہیں ہورہا تھا۔ کئی گھنٹوں تک رابطہ نہ ہونے پر پولیس اور لیویز حرکت میں آئی اور موبائل لوکیٹر سے معلوم کیا گیا تو کمشنر مکران ڈویژن کی آخری لوکیشن حادثے کی جگہ آرہی تھی۔ اس کے بعد اس بات کی تصدیق ہوئی کہ طارق زہری حادثے کا شکار ہوئے ہیں۔

تیل سے بھری یہ گاڑیاں بلوچستان کی سڑکوں پر کئی بڑے حادثات کا سبب بن چکی ہیں۔ فوٹو: سوشل میڈیا

واضح رہے کہ ایران سے ملحقہ بلوچستان کے سرحدی علاقوں پنجگور، کیچ، گوادر، واشک اور چاغی سے ہر روز ہزاروں کی تعداد میں پک اپ اور چھوٹی گاڑیوں میں ایرانی ڈیزل اور پٹرول سے بھرے کین کوئٹہ اور ملک کے دوسرے حصوں تک کھلے عام سمگلنگ کیے جاتے ہیں۔ تیل سے بھری یہ گاڑیاں بلوچستان کی سڑکوں پر کئی بڑے حادثات کا سبب بن چکی ہیں۔ رواں سال جنوری میں بس اور ٹرک کی ٹکر سے 27 افراد ہلاک جبکہ مارچ 2014ء میں بھی لسبیلہ میں مسافر بس اور تیل سے بھرے ٹینکر میں تصادم سے 40 سے زائد افراد کی موت ہوئی۔
کیپٹن ریٹائرڈ طارق زہری کا تعلق قلات سے تھا۔ وہ وزیراعلیٰ بلوچستان کے پرنسپل سیکریٹری سمیت کئی اعلیٰ عہدوں پر فائز رہے۔ انہیں نماز جنازہ کے بعد ریئس تک کے آبائی قبرستان میں سپرد خاک کردیا گیا۔ 
وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے کمشنر مکران ڈویژن اور ان کے ساتھیوں کی ہلاکت پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کیپٹن ریٹائرڈ طارق زہری قابل، محنتی اور ایماندار افسر تھے، ان کی موت سے بلوچستان ایک اچھے افسر سے محروم ہو گیا۔ 
واٹس ایپ پر پاکستان کی خبروں کے لیے ’اردو نیوز‘ گروپ میں شامل ہوں

شیئر: