Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

کراچی پورٹ ٹرسٹ کے مرکزی چینل کی ڈریجنگ، بڑے جہاز بھی اب لنگر انداز ہوسکیں گے

وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انور چوہدری کی جانب سے کراچی پورٹ ٹرسٹ (کے پی ٹی) کے مرکزی چینل کی ڈریجنگ کو ملک کے بحری انفراسٹرکچر میں ایک اہم سنگِ میل قرار دیا گیا ہے۔ 
اس منصوبے کو نہ صرف بندرگاہی صلاحیت میں اضافے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے بلکہ اسے پاکستان کی علاقائی اور عالمی تجارت میں بڑھتے ہوئے کردار کے تناظر میں بھی خاص اہمیت دی جا رہی ہے۔
وقاقی وزیر کے مطابق یہ پیش رفت کراچی پورٹ ٹرسٹ اور کے جی ٹی ایل کے درمیان ایک باقاعدہ معاہدے کے بعد ممکن ہوئی، جس کا مقصد بندرگاہ کے نیویگیشنل نظام کو بہتر بنانا اور بین الاقوامی شپنگ کی بڑھتی ہوئی ضروریات کو پورا کرنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ اقدام حکومت کی اس پالیسی کا عکاس ہے جس کے تحت ملک کی بندرگاہوں کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جا رہا ہے۔
منصوبے کی اہمیت اور متوقع فوائد
وفاقی وزیر محمد جنید انور چوہدری کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کی تکمیل تین ماہ کے اندر متوقع ہے، جس کے بعد کراچی پورٹ بڑے بحری جہازوں کو سنبھالنے کے قابل ہو جائے گا۔ منصوبے کے تحت بندرگاہ میں 350 میٹر لمبائی اور ایک لاکھ گراس رجسٹرڈ ٹنیج (جی آر ٹی )تک کے جہازوں کی آمد ممکن ہو سکے گی۔
ماہرین کے مطابق اس پیش رفت سے کئی اہم فوائد حاصل ہوں گے۔  بڑے بحری جہازوں کی آمد سے بندرگاہ پر کارگو ہینڈلنگ کی مجموعی صلاحیت میں نمایاں اضافہ ہوگا کیونکہ ایک ہی وقت میں زیادہ مقدار میں سامان کی ترسیل ممکن ہو سکے گی۔ اس کے نتیجے میں بندرگاہ پر رش میں کمی آئے گی اور جہازوں کو لنگر انداز ہونے یا اپنی باری کا انتظار کرنے میں کم وقت درکار ہوگا۔ 
مزید برآں، جہازوں کے قیام کے دورانیے، جسے ٹرن اراؤنڈ ٹائم کہا جاتا ہے، میں بھی واضح کمی واقع ہوگی، جس سے آپریشنز مزید مؤثر اور تیز رفتار ہو جائیں گے۔ ان تمام عوامل کے باعث شپنگ لاگت میں کمی آئے گی، جس کا براہِ راست فائدہ درآمدکنندگان اور برآمدکنندگان کو ہوگا، جبکہ مجموعی طور پر تجارتی سرگرمیوں میں تیزی اور معاشی بہتری کو فروغ ملے گا۔
وفاقی وزیر کی جانب سے فراہم کی گئی معلومات کے مطابق ڈریجنگ کے عمل کے دوران اپر اور لوئر ہاربر چینلز کی گہرائی 14 میٹر تک بڑھائی جا رہی ہے تاکہ جہازوں کی محفوظ آمد و رفت کو یقینی بنایا جا سکے۔ اسی طرح بندرگاہ کے 14 برتھز کو 15.5 میٹر گہرائی تک لے جایا جائے گا، جس سے بڑے کارگو جہازوں کو لنگر انداز ہونے میں سہولت ملے گی۔

کراچی پورٹ کی موجودہ حیثیت
کراچی پورٹ پاکستان کی سب سے بڑی اور مصروف ترین بندرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جو ملک کی تقریباً 60 فیصد سے زائد سمندری تجارت کو سنبھالتی ہے۔ یہ بندرگاہ بحیرہ عرب کے کنارے واقع ہے اور اپنی جغرافیائی اہمیت کے باعث جنوبی ایشیا، مشرق وسطیٰ اور وسطی ایشیا کے درمیان تجارتی رابطے کا ایک اہم مرکز سمجھی جاتی ہے۔
کراچی پورٹ ٹرسٹ کے زیرِ انتظام چلنے والی اس بندرگاہ میں متعدد ٹرمینلز، کنٹینر یارڈز اور جدید کارگو ہینڈلنگ سہولیات موجود ہیں۔ بندرگاہ پر سالانہ لاکھوں ٹن کارگو ہینڈل کیا جاتا ہے، جس میں کنٹینرز، بلک کارگو، آئل اور دیگر اشیاء شامل ہیں۔
کراچی پورٹ کے آپریشنز ایک منظم اور مربوط نظام کے تحت انجام دیے جاتے ہیں جہاں مختلف شعبے باہمی تعاون سے کام کرتے ہیں۔ جہازوں کی آمد و رفت کو کنٹرول کرنے کے لیے جدید ویسل ٹریفک مینجمنٹ سسٹم (وی ٹی ایم ایس) استعمال کیا جاتا ہے جو بندرگاہ کے اندر اور اطراف میں بحری نقل و حرکت کو محفوظ اور مؤثر بناتا ہے۔ اسی طرح کارگو ہینڈلنگ کے لیے مختلف اقسام کے ٹرمینلز قائم ہیں جن میں کنٹینر، بلک کارگو اور آئل ٹرمینلز شامل ہیں، جہاں جدید کرینز اور مشینری کے ذریعے تیز رفتار لوڈنگ اور ان لوڈنگ کی جاتی ہے۔ بندرگاہ سے ملک کے اندر سامان کی ترسیل کے لیے سڑکوں اور ریلوے پر مشتمل ایک وسیع لاجسٹکس اور سپلائی چین نیٹ ورک موجود ہے جو درآمدات اور برآمدات کو تیز اور مؤثر بناتا ہے۔
گزشتہ چند برسوں میں عالمی شپنگ انڈسٹری میں بڑی تبدیلیاں سامنے آئی ہیں، جہاں بڑے سائز کے جہازوں کا استعمال بڑھ گیا ہے کیونکہ یہ زیادہ کارگو لے جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور فی یونٹ لاگت کو کم کرتے ہیں، تاہم ایسے جہازوں کے لیے گہرے پانی کی ضرورت ہوتی ہے۔ کراچی پورٹ کے موجودہ چینلز کی محدود گہرائی کے باعث بڑے جہازوں کی آمد میں مشکلات پیش آ رہی تھیں، جس کے نتیجے میں بعض جہاز مکمل لوڈ کے ساتھ داخل نہیں ہو پاتے تھے، بعض کو متبادل بندرگاہوں کا رخ کرنا پڑتا تھا اور اس عمل سے وقت اور لاگت دونوں میں اضافہ ہو جاتا تھا، اسی تناظر میں ڈریجنگ کا منصوبہ نہایت اہمیت اختیار کر گیا ہے۔
بحری امور کے ماہر سینئر صحافی راجہ محمد کامران کے مطابق یہ منصوبہ نہ صرف بندرگاہ کی کارکردگی میں نمایاں بہتری لائے گا بلکہ پاکستان کی معیشت پر بھی مثبت اثرات مرتب کرے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ بڑے جہازوں کی آمد سے تجارتی حجم میں اضافہ ہوگا، برآمدات کو فروغ ملے گا اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا ہوں گے، جبکہ مجموعی طور پر یہ پیش رفت پاکستان کو علاقائی تجارت میں ایک مضبوط مقام دلانے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔

ماہرین نے اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ اس منصوبے کے ساتھ ساتھ بندرگاہی نظام کی ڈیجیٹلائزیشن اور کسٹمز اصلاحات بھی ضروری ہیں تاکہ مکمل فائدہ حاصل کیا جا سکے۔ 
وفاقی وزیر نے اپنے بیان میں اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت ملک کے دیگر بندرگاہی منصوبوں پر بھی کام کر رہی ہے تاکہ پاکستان کو ایک علاقائی ٹریڈ ہب بنایا جا سکے۔
کراچی پورٹ ٹرسٹ کے مرکزی چینل کی ڈریجنگ ایک ایسا اقدام ہے جو بظاہر تکنیکی نوعیت کا دکھائی دیتا ہے، مگر اس کے اثرات نہایت وسیع ہیں۔ یہ منصوبہ نہ صرف بندرگاہ کی کارکردگی کو بہتر بنائے گا بلکہ پاکستان کی معیشت، تجارت اور علاقائی اہمیت کو بھی مضبوط کرے گا۔
اگر یہ منصوبہ مقررہ وقت میں مکمل ہو جاتا ہے تو توقع کی جا رہی ہے کہ کراچی پورٹ نہ صرف بڑے جہازوں کے لیے ایک پرکشش مرکز بنے گا بلکہ عالمی شپنگ نیٹ ورک میں پاکستان کی پوزیشن مزید مستحکم ہو جائے گی۔
 

شیئر: