Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سٹیٹ بینک کی خاموشی، عوام کی بے چینی: نئے نوٹ کہاں ہیں؟

اس سال بھی عید کے قریب شہری نئے نوٹ حاصل کرنے کے لیے غیرمعمولی دلچسپی ظاہر کر رہے ہیں۔ (فوٹو: اے ایف پی)
پاکستان میں عیدالفطر اور عیدالاضحیٰ کے مواقع پر نئے کرنسی نوٹ لینے اور دینے کی ایک خاص روایت پائی جاتی ہے۔
ہر سال عید سے کچھ روز پہلے شہری بڑی تعداد میں نئے نوٹ حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ وہ عید کے موقع پر بچوں اور عزیز و اقارب کو عیدی دے سکیں۔ اس روایت کی وجہ سے عید کے دنوں میں نئے نوٹوں کی مانگ غیر معمولی طور پر بڑھ جاتی ہے۔
پاکستانی معاشرے میں عیدی دینا محبت، خوشی اور خاندانی تعلقات کو مضبوط بنانے کی علامت سمجھا جاتا ہے اور بچے خاص طور پر عید کے دن نئے نوٹ ملنے کا بے صبری سے انتظار کرتے ہیں۔ شہری اسی وجہ سے عیدی دینے کے لیے  نئے اور کڑک نوٹ حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
ماضی میں عید کے موقع پر نئے نوٹوں کی فراہمی کے لیے سٹیٹ بینک آف پاکستان باقاعدہ پالیسی کا اعلان کرتا تھا۔ اس پالیسی کے تحت کمرشل بینکوں کی مختلف برانچوں کو نئے نوٹ فراہم کیے جاتے تھے تاکہ شہری آسانی سے نئے نوٹ حاصل کر سکیں۔ کئی بینک عید سے چند ہفتے قبل خصوصی کاؤنٹر بھی قائم کر دیتے تھے جہاں سے شہری مخصوص مقدار میں نئے نوٹ حاصل کر سکتے تھے۔
تاہم گزشتہ چند برسوں میں نئے نوٹوں کی فراہمی کے طریقۂ کار میں تبدیلی دیکھی گئی ہے۔ بعض مواقع پر سٹیٹ بینک نے سکیورٹی وجوہات اور نوٹوں کی غیر قانونی خرید و فروخت کو روکنے کے لیے عوام کو براہِ راست نئے نوٹ دینے کا سلسلہ محدود کر دیا تھا۔ اس کے باوجود عید کے دن قریب آتے ہی بینکوں کے باہر لوگوں کی بڑی تعداد نئے نوٹ حاصل کرنے کے لیے سرگرداں نظر آتی ہے۔
اس سال بھی عید کے قریب شہری نئے نوٹ حاصل کرنے کے لیے غیرمعمولی دلچسپی ظاہر کر رہے ہیں۔ تاہم سٹیٹ بینک آف پاکستان نے اب تک عید کے لیے نئے نوٹوں کی فراہمی سے متعلق کوئی باضابطہ پالیسی یا اعلان جاری نہیں کیا۔ اس صورتِ حال کے باعث عوام میں کچھ بے یقینی پائی جا رہی ہے اور لوگ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ آیا اس بار بھی بینکوں کے ذریعے نئے نوٹ دستیاب ہوں گے یا نہیں؟

عید کے موقع پر نئے نوٹوں کو عیدی کے طور پر دینے کی روایت پاکستانی معاشرے کا ایک اہم حصہ بن چکی ہے۔ (فوٹو: اے ایف پی)

دوسری جانب بازاروں میں بعض افراد غیر سرکاری طور پر نئے نوٹ فروخت کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں، اور وہ کچھ اضافی رقم کے عوض چھوٹی مالیت کے نئے نوٹ فروخت کر رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ عمل غیر قانونی ہے اور اس سے عوام کو مالی نقصان بھی ہو سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر سٹیٹ بینک واضح پالیسی جاری کرے تو عوام کو سہولت مل سکتی ہے اور نئے نوٹوں کی غیر قانونی خرید و فروخت کو بھی روکا جا سکتا ہے۔ علاوہ ازیں، بینکوں میں انتظامات بہتر بنانے سے شہریوں کو طویل قطاروں اور مشکلات سے بھی بچایا جا سکتا ہے۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو عید کے موقع پر نئے نوٹوں کو عیدی کے طور پر دینے کی روایت پاکستانی معاشرے کا ایک اہم حصہ بن چکی ہے۔ لوگ اسے خوشی بانٹنے اور بچوں کی عید کو مزید یادگار بنانے کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ اسی وجہ سے ہر سال عید سے پہلے نئے نوٹوں کے حوالے سے عوامی دلچسپی بڑھ جاتی ہے اور لوگ اس روایت کو جاری رکھنے کی اپنی سی بھرپور کوشش کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

شیئر: