Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

عراق کے مسلح گروہوں کا مشرقِ وسطیٰ کی جنگ میں کیا کردار ہے؟

مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے آغاز سے ہی ایران کے حمایت یافتہ عراقی گروہوں نے بارہا امریکی مفادات کو نشانہ بنایا ہے، چاہے وہ فوجی اڈے ہوں، سفارتی مشنز ہوں یا تیل کی تنصیبات۔
فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکہ شروع سے ہی ان مسلح تنظیموں کو دہشت گرد گروہ قرار دیتا رہا ہے جو مشرقِ وسطیٰ کے تنازع کے حوالے سے ابتدا سے  یہ دعویٰ کرتے رہے ہیں کہ یہ ایک طویل اور تھکا دینے والی جنگ میں تبدیل ہو جائے گا۔
یہ گروہ کون ہیں اور انہوں نے ان کارروائیوں میں کیوں حصہ  لیا؟
اہم گروہ
النجبا تحریک نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’مزاحمتی گروہوں میں ڈرونز اور راکٹوں کی تیاری اب گھروں میں کلیچہ بنانے کی روایت کی طرح عام ہو چکی ہے۔‘ یہ مٹھائی کی ایک گھریلو قسم ہے جو عموماً کھجور یا میوہ جات سے بھری ہوتی ہے۔
عراق میں امریکہ کی بلیک لسٹ میں شامل ایران کے حمایت یافتہ یہ گروہ ’اسلامی مزاحمت برائے عراق‘ کے نام سے ایک ڈھیلے ڈھالے اتحاد میں متحد ہیں، جو عراق اور پورے خطے میں ’دشمن‘ کے خلاف روزانہ ڈرون اور راکٹ حملے کرنے کا دعویٰ کر رہے ہے۔
یہ گروہ ایران کی قیادت میں قائم نام نہاد ’مزاحمتی تحریک‘ کا بھی حصہ ہیں، جن میں لبنان کی حزب اللہ، غزہ میں حماس اور یمن کے حوثی شامل ہیں۔
گزشتہ ماہ 28 فروری کو جب اسرائیل، امریکہ کے ایران پر حملوں کے بعد مشرقِ وسطیٰ کی جنگ بھڑک اٹھی تو ان گروہوں نے اسلامی جمہوریہ (ایران) کا دفاع کرنے کا عہد کیا۔
موجودہ منظرناے میں متحرک گروہ
کتائب حزب اللہ: یہ گروہ طویل عرصے سے عراق میں امریکی مفادات پر حملوں کی قیادت کرتا رہا ہے، اور گزشتہ کئی برسوں کے دوران امریکی حملوں میں اپنے اہم کمانڈرز کھو چکا ہے۔
یہ وقت کے ساتھ طاقت ور ہوا ہے اور سیاست میں بھی شامل ہو چکا ہے، اور اب پارلیمنٹ میں چھ نشستوں کے بلاک کی حمایت کرتا ہے۔
کتائب سید الشہدا: اس کی قیادت ابو علا الولائی کرتے ہیں، جو کوآرڈینیشن فریم ورک (حکمران شیعہ اتحاد) میں ایک نشست رکھتے ہیں، یہ گروپ عراقی پارلیمنٹ میں اکثریت رکھتا ہے۔
النجبا تحریک: یہ واحد مسلح گروہ ہے جس نے خود کو سیاست سے دور رکھا ہے۔
کچھ گروہ اب تک جنگ سے دور رہے ہیں، جیسے عصائب اہل الحق، جس نے اپنی تمام تر توجہ سیاست پر مرکوز کر لی ہے اور پارلیمنٹ میں اب 27 نشستوں کا بڑا بلاک رکھتا ہے۔
 ایک تھکا دینے والی جنگ
ایران کے حمایت یافتہ گروہوں نے عراق کے دارالحکومت میں امریکی سفارت خانے، بغداد ایئرپورٹ پر اس کی سفارتی و لاجسٹک تنصیبات، اور غیر ملکی کمپنیوں کے زیرِ انتظام تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔
خودمختار کردستان کا خطہ، جہاں امریکی فوجی موجود ہیں اور ایک بڑا امریکی قونصل خانہ بھی ہے، بھی ایک اہم ہدف رہا ہے۔
یہ واضح نہیں کہ ان گروہوں نے وسیع تر خطے میں کہاں کہاں حملے کیے، تاہم جنگ کے آغاز میں کویت نے اپنے علاقے پر حملوں کے باعث عراق کے سفیر کو طلب کیا تھا۔
برسلز میں قائم انٹرنیشنل کرائسس گروپ کی لاہب ہیگل کے مطابق، ’نام نہاد مزاحمتی گروہ اس لڑائی میں اس لیے شامل ہوئے کیونکہ یہ ایرانی حکومت کی بقا کی جنگ ہے۔‘
’یہ ایران کی آخری دفاعی لائن ہیں، اور سپریم لیڈر (علی) خامنہ ای کو قتل کیے جانے کا اشارہ اس بات کی علامت تھا کہ ان کی اپنی بقا بھی خطرے میں ہے۔‘
النجبا گروپ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے پاس چھوٹی ورکشاپس میں تیار کیے گئے ڈرونز اور راکٹوں کا بڑا ذخیرہ موجود ہے۔
ہیگل کے مطابق ایران نے ان گروہوں کو بھاری ہتھیار فراہم نہیں کیے، جیسا کہ لبنان کی حزب اللہ یا یمن کے حوثیوں کو فراہم کیے گئے۔
عراقی گروہوں کے پاس ڈرونز، راکٹ اور ’کم فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل‘ بھی موجود ہیں، جنہیں وہ ماضی میں استعمال بھی کر چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ’یہ ان کے لیے یقیناً ایک تھکا دینے والی جنگ ہے، جس کا مقصد امریکہ کو عراق سے نکالنا ہے۔‘
امریکہ کا ردِعمل
امریکہ برسوں سے ان گروہوں پر حملے کرتا آیا ہے، جن میں اس کے کئی کمانڈر مارے جا چکے ہیں۔
مشرقِ وسطیٰ میں حالیہ جنگ شروع ہونے کے  چند گھنٹوں کے بعد ہی امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے بغداد کے جنوب میں جرف الصخر میں کتائب حزب اللہ کے مضبوط گڑھ پر ان گروہوں کو بارہا نشانہ بنانے کے لیے حملوں کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا۔
امریکہ اور نہ ہی اسرائیل نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول کی، لیکن یہ حملے تقریباً روزانہ کا معمول بن چکے ہیں۔
حملوں میں الحشد الشعبی کے اڈوں کو بھی نشانہ بنایا گیا، جو ایک سابق نیم فوجی اتحاد ہے اور اب عراق کی باقاعدہ مسلح افواج میں شامل ہے، تاہم اس میں تہران کے حمایت یافتہ گروہوں کے بریگیڈز بھی شامل ہیں۔
اے ایف پی کے مطابق، جنگ کے آغاز سے اب تک حملوں میں کم از کم 43 ایران نواز جنگجو اور الحشد الشعبی کے ارکان مارے جا چکے ہیں۔
ان حملوں میں غیرمعمولی شدت اس وقت پیدا ہوئی جب یہ بغداد کے قلب تک پہنچ گئے۔
ہفتے کے روز ایک میزائل نے دارالحکومت میں ایک گھر کو نشانہ بنایا، جس میں کتائب حزب اللہ کے تین ارکان، جن میں ایک کمانڈر بھی شامل تھا، ہلاک ہو گئے۔
ایک مسلح گروہ کے ایک ذریعے کے مطابق اس حملے میں گروہ کے رہنما ابو حسین الحمیداوی بھی زخمی ہوئے، جنہیں بعد میں طبی امداد فراہم کی گئی۔
ان مزاحمتی گروہوں کے کئی اعلیٰ کمانڈرز خاص طور پر 2023 میں غزہ میں اسرائیل حماس جنگ کے بعد سے ٹارگٹڈ کاررائیوں میں مارے جا چکے ہیں۔
ایک عراقی سکیورٹی اہلکار نے اے ایف پی کو بتایا کہ ’اس جنگ میں مسلح گروہوں کے کمانڈروں اور ارکان کو ہدف بنا کر قتل کرنے کا سلسلہ اب غالباً عراق میں بھی شروع ہو چکا ہے۔‘

شیئر: