اس کے علاوہ کینٹ، گلشن اقبال، گلشن جمال، دہلی کالونی اور گارڈن جیسے علاقوں میں بھی موسمی شدت دیکھی گئی۔ محکمہ موسمیات کے مطابق بعض مقامات پر ہواؤں کی رفتار 90 سے 97 کلومیٹر فی گھنٹہ تک ریکارڈ کی گئی، جو کہ کسی بھی بڑے شہری مرکز کے لیے خطرناک سمجھی جاتی ہے۔
تیز ہواؤں کے باعث شہر کے کئی علاقوں میں درخت اکھڑ گئے اور سائن بورڈز گر گئے، جس سے ٹریفک کی روانی متاثر ہوئی۔ کلفٹن کے علاقے میں ایک درخت گرنے سے دو افراد دب گئے جبکہ محمد علی سوسائٹی میں ایک بل بورڈ گرنے کی اطلاع بھی سامنے آئی۔
سب سے زیادہ ہلاکتیں بلدیہ کے علاقے مواچھ گوٹھ میں پیش آنے والے ایک واقعے میں ہوئیں جہاں ایک عمارت کی دیوار گرنے سے متعدد افراد ملبے تلے دب گئے۔
ڈپٹی کمشنر کیماڑی کا کہنا ہے کہ اس حادثے میں کم از کم 13 افراد ہلاک ہوئے جبکہ چند زخمیوں کو نکال کر قریبی ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔ امدادی ٹیمیں کئی گھنٹوں تک ملبہ ہٹانے میں مصروف رہیں۔
پولیس حکام کے مطابق متاثرہ عمارت رہائشی نہیں تھی اور ابتدائی اطلاعات کے مطابق وہاں موجود افراد بارش سے بچنے کے لیے پناہ لیے ہوئے تھے۔ ریسکیو حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں سے بعض نشے کے عادی افراد تھے۔
نارتھ ناظم آباد، نارتھ کراچی، سرجانی ٹاؤن، ایف بی ایریا، صدر اور کلفٹن میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش ہوئی (فوٹو: اے ایف پی)
واقعے کے بعد سندھ حکومت نے فوری ردعمل دیتے ہوئے متعلقہ اداروں کو ہنگامی اقدامات کی ہدایت کی۔ وزیر اعلیٰ سندھ نے واقعے کا نوٹس لیا جبکہ وزیر داخلہ اور میئر کراچی نے جائے وقوعہ کا دورہ کر کے امدادی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ حکام نے ریسکیو ٹیموں کو ہدایت کی کہ وہ ملبے تلے دبے افراد کو جلد از جلد نکالیں اور زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کریں۔
دیگر علاقوں میں بھی آندھی اور بارش کے باعث مختلف حادثات پیش آئے۔ قائد آباد میں ایک گھر کی دیوار گرنے سے ایک مرد اور خاتون ہلاک ہوئے جبکہ ایک شخص زخمی ہوا۔ ملیر کے علاقے میں آسمانی بجلی گرنے سے ایک شخص جان سے گیا۔ کورنگی کے مختلف علاقوں میں بھی حادثات رپورٹ ہوئے۔
بارش کے ساتھ ہی شہر کے مختلف علاقوں میں بجلی کی فراہمی بھی معطل ہو گئی، جس کے باعث شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ کئی علاقوں میں گھنٹوں تک بجلی بحال نہ ہو سکی، جبکہ ٹریفک کا نظام بھی متاثر رہا۔
محکمہ موسمیات کی جانب سے عید پر کراچی میں بارش کی پیش گوئی کی گئی ہے (فوٹو: اے ایف پی)
محکمہ موسمیات کے مطابق آئندہ دنوں میں مزید بارش کا امکان موجود ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ دن کے اوقات میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش ہو سکتی ہے، جبکہ بعض مقامات پر ژالہ باری بھی متوقع ہے۔ پیشگوئی کے مطابق عید کے پہلے دن ہلکی بارش ہو سکتی ہے جبکہ مارچ کے آخری ہفتے میں مغربی ہواؤں کا ایک اور سلسلہ کراچی سمیت سندھ کے دیگر علاقوں کو متاثر کر سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے موسمی حالات میں شہریوں کو احتیاط برتنے کی ضرورت ہے، خاص طور پر کمزور عمارتوں، درختوں اور بجلی کے کھمبوں کے قریب جانے سے گریز کرنا چاہیے۔ دوسری جانب یہ صورتحال شہری انتظامیہ کے لیے بھی ایک چیلنج کے طور پر دیکھی جا رہی ہے، جو بار بار اس نوعیت کے واقعات میں شہری ڈھانچے کی کمزوری کو ظاہر کرتی ہے۔
بلوچستان میں بھی بارش اور آندھی سے تباہی
کراچی سے متصل بلوچستان کے ضلع حب اور گرد و نواح میں بھی طوفانی بارشوں اور تیز ہواؤں کے باعث نقصانات ہوئے ہیں۔ ڈپٹی کمشنر حب اسماعیل ابراہیم کے مطابق مختلف حادثات میں دو افراد ہلاک اور کم از کم پندرہ زخمی ہوگئے ہیں۔ ان کے مطابق پتھر کالونی میں دیوار گرنے سے ایک بزرگ شہری جبکہ ساکران کے رمضان مری گوٹھ میں ایک بچی دیوار گرنے سے ہلاک ہوئی ۔
انہوں نے بتایا کہ مختلف علاقوں میں تیز ہواؤں سے بجلی کے کھمبے اور گھروں کی دیواریں گر گئیں جبکہ سولر پینلز کو بھی شدید نقصان پہنچا۔ وندر میں آندھی کے باعث پولٹری فارم میں آگ لگنے سے کم از کم چھ ہزار چوزے ہلاک ہوئے اور گڈانی میں شیڈ گرنے سے متعدد افراد زخمی ہوئے۔ ضلعی انتظامیہ کے مطابق امدادی سرگرمیاں اور نقصانات کا سروے جاری ہے۔
گوادر میں بھی تیز ہواؤں سے شمسی توانائی کے پینلز کو نقصانات پہنچنے کی اطلاعات ملی ہیں۔
ادھر ضلع کیچ کے علاقوں تربت اور دشت میں بارشوں کے دوران ندی نالوں میں طغیانی آگئی جس کے باعث سری کہن کے مقام پر ایک گاڑج پانی میں بہہ گئی مگر ریسکیو ٹیموں نے گاڑی میں سوار تمام افراد کو بحفاظت نکال لیا۔ دشت میں کئی گھروں اور جھونپڑیوں کو نقصان پہنچا اور بجلی کا انفراسٹرکچر متاثر ہوا، جس کی وجہ سے متعدد علاقوں میں بجلی معطل ہوگئی۔
محکمہ موسمیات کے مطابق صوبے کے کئی حصوں میں مغربی ہوائیں چل رہی ہیں۔ جمعرات کو خضدار، سوراب، پنجگور، کیچ، لسبیلہ، حب اور گوادر سمیت مختلف علاقوں میں وقفے وقفے سے بارش اور آندھی کے امکانات ہیں۔ بعض مقامات پر ژالہ باری بھی ہوسکتی ہے جبکہ پنجگور، کیچ، خضدار، لسبیلہ، حب اور گوادر میں ہلکے سے معتدل سیلابی صورتحال پیدا ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ جمعے کے روز صوبے کے بیشتر علاقوں میں موسم خشک رہے گا تاہم کیچ، گوادر اور پنجگور میں ہلکی بارش کا امکان ہے۔
گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران سب سے زیادہ بارش پنجگور میں 27 ملی میٹر، لسبیلہ میں 26.5 ملی میٹر، کوئٹہ اور تربت میں 13 ملی میٹر، پشین میں 10 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی۔