مکہ کو جدید شہر بنانے کے سات منصوبے

تمام منصوبے زائرین حرم کی سہولت کے لیے تیار کیے جارہے ہیں۔ فائل فوٹو
مکہ مکرمہ میں 7 بڑے منصوبےشروع کیے جا رہے ہیں اس سے مکہ مکرمہ کا منظر نامہ بدل جائے گا۔
 سبق ویب سائٹ کے مطابق ان منصوبوں میں النکاسہ محلے کو جدید خطوط پر استوار کرنے، فوڈ اسمارٹ سٹی کا قیام، میٹرو مکہ، مکہ بس سروس، درب المشاعر منصوبہ، کنگ عبدالعزیز روڈ اور بوابہ مکہ (مکہ گیٹ) شامل ہیں۔
سعودی حکام کے مطابق تمام منصوبے زائرین حرم کی سہولت اور راحت کے لیے تیار کیے جارہے ہیں۔

 میٹرو مکہ

مکہ مکرمہ میں ٹرانسپورٹ کا مسئلہ مشکل بنا ہوا ہے۔ میٹرو مکہ کی بدولت یہ مسئلہ بڑی حد تک حل ہوجائے گا۔ اس کے تحت متعدد اسٹیشن قائم ہوں گے۔ میٹرو کی لائن کے لیے کئی چوراہے اور کئی ٹرانسفر لائنیں بچھائی جائیں گی۔ میٹرو منصوبے کو بس سروس سے مربوط کیا جائے گا۔ اس مقصد کے لیے 60 کلو میٹر طویل سرکلر روڈ قائم ہوگی۔ اسٹیشنوں کی مجموعی تعداد 60 ہوگی۔

میٹرو مکہ کی بدولت ٹرانسپورٹ کا مسئلہ بڑی حد تک حل ہوجائے گا۔فائل فوٹو

 درب المشاعر

یہ بے حد اہم منصوبہ ہے۔ اس کی بدولت مسجد الحرام اور حج مقامات منیٰ، عرفات اور مزدلفہ کو ایک دوسرے سے جوڑ دیا جائے گا۔ پروگرام کے مطابق کثیر المقاصد کمپلیکس قائم کیا جائے گا جس سے 8 ذی الحجہ کو (حج کے پہلے دن) مکہ سے منیٰ جانے والے حج قافلوں کو منظم کرنے میں مدد ملے گی۔ 
پروگرام کے تحت ایک لاکھ مربع میٹر کے رقبے پر تجارتی مراکز ، ہوٹل، مستقل رہائش اور عارضی رہائش کا انتظام ہوگا۔ عمارت کی چھتوں کا رقبہ 8لاکھ مربع میٹر کے لگ بھگ ہوگا۔
مکہ بس سروس
مکہ بس سروس نیٹ ورک میں 400 بسیں چلائی جائیں گی۔ 12 سڑکیں مختص ہوں گی۔ ان کا مجموعی رقبہ 300 کلو میٹر ہوگا۔ یہ پبلک ٹرانسپورٹ، مکہ ٹرین منصوبے کا ایک حصہ ہوگا۔ اس کی بدولت مکہ مکرمہ کے باشندوں اور زائرین کی بیشتر ٹرانسپورٹ ضروریات پوری ہوں گی۔

 بوابہ مکہ (مکہ گیٹ)

 یہ مکہ مکرمہ میونسپلٹی کے ماتحت مقدس شہر کا ایک مضافاتی منصوبہ ہے۔ ایک کمپنی یہ منصوبہ نافذ کرے گی۔ یہ مکہ مکرمہ میں داخلے کا صدر دروازہ ہوگا۔
یہ منصوبہ 83 مربع کلو میٹر کے رقبے پر قائم کیا جائے گا۔ یہ سڑکوں سے آراستہ ہوگا۔ یہاں مختلف خدمات فراہم کرنے والے مخصوص علاقے ہوں گے۔
 یہ منصوبہ مکانات، یونیورسٹی، طیبہ سٹی، سرکاری دفاتر کے کمپلیکس، کینسر ریسرچ سینٹر، عجائب گھر اور 25 مربع کلومیٹر پر مشتمل پارک کی صورت میں نافذ ہوگا۔

کنگ عبدالعزیز روڈ کا افتتاح 2021 کے اختتام تک متوقع ہے۔۔ فوٹو سبق

 کنگ عبدالعزیز روڈ

ام القریٰ اسٹریٹ کے بالمقابل کنگ عبدالعزیز روڈ تعمیر کیا جارہا ہے یہ سعودی وژن 2030 سے ہم آہنگ ترقیاتی و سرمایہ کاری منصوبہ ہے۔ اسے ام القریٰ ڈیولپمنٹ کمپنی بنا رہی ہے جبکہ مکہ مکرمہ ڈیولپمنٹ اتھارٹی اس کی نگراں ہے۔
کنگ عبدالعزیز روڈ بنانے کے لیے کچی بستیوں پر مشتمل 6 محلوں کی 4 ہزار عمارتیں منہدم کی گئی ہیں۔ اس منصوبے کے بنیادی ڈھانچے کا 30 فیصد حصہ تیار ہوچکا ہے۔ اس کے تحت پل، انڈر پاس، میٹرو مکہ اسٹیشن، بسوں کی پارکنگ اور پیدل چلنے والوں کے لیے گزرگاہیں اور زیر زمین راستے تعمیر ہورہے ہیں۔
مکہ مکرمہ ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے مطابق یہ مقدس شہر کا قابل دید منصوبہ ثابت ہوگا۔ اس کے تحت رہائشی عمارتیں اور انٹرنیشنل ہوٹل بھی تعمیر کیے جائیں گے۔ 
یہ سرکاری اداروں ، ثقافتی تفریحی، سماجی او رتجارتی اداروں کا سنگم ہوگا۔ اس کے تحت گاڑیوں کی پارکنگ اور پیدل چلنے والوں کے لیے راہداری بھی بنائی جارہی ہے۔ اس کا ڈیزائن اس طرح کا بنایا گیا ہے کہ گاڑیوں کی آمد ورفت اور پیدل چلنے والوں کے درمیان کسی قسم کا کوئی ٹکراﺅ نہ ہو۔
کنگ عبدالعزیز روڈ کا افتتاح 2021 کے اختتام تک متوقع ہے۔ اس کی بدولت مکہ مکرمہ میں ہزاروں مکانات اور ہوٹلوں کے کمرے تیار ہوں گے۔ پہلے حصے کا افتتاح 2023 میں ہوگا۔

مکہ بس سروس نیٹ ورک میں 400بسیں چلائی جائیں گی۔ فائل فوٹو

مکہ فوڈ اسمارٹ سٹی

مکہ فوڈ اسمارٹ سٹی 35لاکھ مربع میٹر کے رقبے پر العکیشیہ کے علاقے میں قائم کیا جائے گا۔ اس کے تحت ریستوران، مالز، گودام ، شو رومز، اسٹیشن اور رہائشی مراکز ہوں گے۔

النکاسہ منصوبہ کیا ہے

مکہ مکرمہ میں کچی آبادی والے محلوں میں سے ایک النکاسہ بھی ہے۔ اسے جدید خطوط پر استوار کیا جارہا ہے۔ یہ محلہ سرکاری اور نجی اداروں کا مشترکہ منصوبہ ہے۔ وادی ابراہیم کمپنی یہ منصوبہ قائم کررہی ہے۔ 
یہ مکہ مکرمہ میں مسجد الحرام کے اطراف سرکلر روڈ 3کے دائرے میں واقع ہے۔ یہ ابراہیم الخلیل روڈ، سرکلر روڈ 3 اور التقوی سٹریٹ کے ذریعے مکہ کے محلوں سے جڑا ہوا ہے۔ 14مرحلوں میں مکمل ہوگا۔

شیئر: