انڈیا میں قومی ترانہ بجانے پر تنازع کیوں؟

مودی کے آنے کے بعد فلم شروع کرنے سے پہلے سنیما ہالز میں قومی ترانہ بجایا جانا لازمی قرار دیا گیا تھا، فوٹو: اے ایف پی
انڈیا میں حالیہ دنوں کشمیر میں یورپی یونین کے اراکین پارلیمان کی آمد اور ریاستی اسمبلی کے بعد حکومت سازی اہم خبریں رہیں، لیکن چند ایسی خبریں بھی تھیں جو شاید آپ کی نظروں سے نہ گزری ہوں۔
یہاں ایسی ہی چند خبریں پیش کی جا رہی ہیں۔

قومی ترانے پر نیا تنازع

انڈیا میں ایک بار پھر سنیما ہالز میں قومی ترانہ بجانا تنازعے کا باعث بنا ہوا ہے۔ مودی حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد فلم شروع کرنے سے پہلے سنیما ہالز میں قومی ترانہ بجایا جانا لازمی قرار دیا گیا تھا۔ اس وقت بھی اس کی مختلف حلقوں کی جانب سے مخالفت ہوئی تھی لیکن یہ معاملہ سرد پڑ گیا تھا۔
گذشتہ دنوں ایک نام نہاد ٹی وی ریئلٹی شو سٹار میں ایک شخص نے انڈیا کی جنوبی ریاست کیرالہ میں قومی ترانے کے دوران ایک عورت کو نہ کھڑا ہونے پر نشانہ بنایا، اور بے شمار لوگ وطن پرستی کے نام پراس شخص کی تعریف کر رہے ہیں۔
سوشل میڈیا پر گذشتہ دنوں 'نیشنل اینتھم' ٹرینڈ کرتا رہا، اور اس پر لوگوں کی رائے منقسم نظر آئی۔ صحافی جیوتی یادو نے اس سے متعلق ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا کہ ’خاتون مخصوص ایام میں تھی اس لیے وہ قومی ترانہ بجائے جانے پر کھڑی نہ ہو سکیں۔‘ 
ان کی اس پوسٹ کو تین ہزار سے زیادہ بار لائک اور 800 بار ری ٹویٹ کیا گیا ہے۔
بہت سارے لوگوں نے ان کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے جبکہ بعض افراد نے کہا کہ فلم سے پہلے قومی ترانہ بجایا ہی نہیں جانا چاہیے۔ وطن پرستی کی دلیل کھڑا ہونا یا نہ کھڑا ہونا نہیں ہے۔

قالین کھانا منع ہے!

بالی وڈ اداکارہ شبانہ اعظمی نے جنوبی انڈیا کی ریاست تامل ناڈو کے دارالحکومت چینی کے انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر لگے ایک سائن بورڈ کی تصویر کیا شیئر کی کہ لوگوں کو تفریح کا سامان ہاتھ آ گیا۔
شبانہ اعظمی نے ایئرپورٹس اتھارٹی آف انڈیا کی جانب سے جاری کردہ ایک پرانے سائن بورڈ کی تصویر انسٹا گرام پر پیش کی جو کہ ہندی میں ایک مفہوم دیتی ہے تو انگریزی میں بالکل مختلف۔
 
 
 
 

 
 
 
 
 
 
 
 
 

Really ?!!!

A post shared by Shabana Azmi (@azmishabana18) on

ہندی میں لکھا ہے کہ 'فرش پر کھانا سخت منع ہے' جبکہ انگریزی میں فرش کو 'کارپٹ' بنا دیا گیا ہے اور اس کا مطلب یہ ہے کہ 'قالین کھانا سخت منع ہے۔'
اس پوسٹ کو ہزاروں بار لائک کیا جا چکا ہے۔ کسی نے لکھا کہ کیا واقعی! کسی نے لکھا کہ اب تک قالین کھانے کی کوشش نہیں کی کہ اس کا ذائقہ کیسا ہے، تو کسی نے لکھا کہ الفاظ کھانے (ایٹنگ ورڈز) کی ایک دوسری جہت کھل گئی۔

دیوالی: انسان کیا مچھلیاں بھی نہیں بچیں

انڈیا میں یہ ہفتہ تہواروں کا تھا۔ ہندوؤں کے تہوار دیوالی پر ہر سال کی طرح بڑے پیمانے پر آتش بازی ہوئی اور پٹاخے چھوڑے گئے۔ بڑھتی ہوئی فضائی آلودگی میں ہر سطح پر کمی لانے کی اپیل کی گئی تھی لیکن مذہبی جوش بھلا کب کم ہوتا ہے۔
چنانچہ پہلے سے ہی ملک کی خراب آب و ہوا میں مزید آلودگی پھیل گئی۔ لوگوں کے لیے سانس لینے میں بھی دشواری پیدا ہو گئی۔ دارالحکومت دہلی میں آئی سی یو کے مریضوں کی تعداد میں 20 فیصد اضافہ ہو گيا ہے۔ مشرقی ساحلی ریاست اڑیسہ میں پانچ افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے۔

حکام کے مطابق رانچی میں ہزاروں مچھلیاں آکسیجن کی کمی سے مریں، فوٹو: ٹوئٹر

ایسے میں مشرقی ریاست جھاڑکھنڈ کے رانچی سے آنے والی خبر انتہائی تشویش کا باعث تھی۔ پیر کو سرکاری حکام نے بتایا کہ وہاں آکسیجن کی کمی سے ہزاروں کی تعداد میں مچھلیاں مر گئی ہیں۔
پیر کو رانچی کے چادری علاقے کے لائن ٹینک تالاب میں مری ہوئی مچھلیاں پائی گئيں۔ ماحولیات کے ماہرین کا کہنا ہے کہ درگا پوجا میں دیوی کو نذر آب کرنے اور دیوالی کے پٹاخے ان مچھلیوں کی موت کی وجہ بنے۔

کتنا قرب بالکل قریب ہے؟

گذشتہ دنوں انڈیا میں ایک ویڈیو وائرل ہوئی ہے جس میں ایک شیر کو دیکھا جا سکتا ہے کہ وہ کس طرح جیپ کو دیکھ کر اپنی راہ بدل دیتا ہے۔
محکمہ جنگل کے ایک افسر نے شیر کی ویڈیو وائرل کرتے ہوئے لکھا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ یہ سمجھ لیا جائے کہ قرب اور نزدیک ہونا ایک نہیں ہے۔ اس شاہی جانور کی جگہ کے لیے ہمیں حساس ہونا چاہیے۔'
اس ویڈیو کو قریباً 10 ہزار بار دیکھا جا چکا ہے اور لوگوں نے سیاحوں کے شیر کے لیے مختص علاقے میں گھسنے پر ناراضی کا اظہار کیا ہے۔ ایک صارف نے لکھا کہ 'ہم اس کے قریب تر ہونا چاہتے ہیں اس لیے ہم ایسا کرتے ہیں۔ یہ کسی کے لیے ولولہ انگيز یا فخر کا باعث ہو سکتا ہے لیکن اس جانور کے لیے وہ اس کی خلوت کا معاملہ ہے جس میں ہم در اندازی کرتے ہیں۔'

شیئر: