ہر گھنٹے میں آتشزدگی کے 6 واقعات

کیا آپ کو معلوم ہے کہ سعودی عرب میں ہر گھنٹے کے دوران آتشزدگی کے 6 واقعات ہوتے ہیں اور ان میں سے 43 فیصد واقعات رہائشی اپارٹمنٹس میں ہوتے ہیں؟
کیا آپ جانتے ہیں کہ زیادہ تر گھروں میں آگ اس وقت لگتی ہے جب گھر والے سو رہے ہوتے ہیں اور ان میں 80 فیصد ہلاکتیں بچوں کی ہوتی ہیں؟

زیادہ تر گھروں میں آگ اس وقت لگتی ہے جب گھر والے سو رہے ہوتے ہیں (فوٹو: عکاظ)

اور یقینا جو بات بہت سے لوگ نہیں جانتے وہ یہ ہے کہ آتشزدگی کے واقعات میں 90 فیصد ہلاکتیں جلنے کی وجہ سے نہیں بلکہ دم گھٹنے کی وجہ سے ہوتی ہیں۔
  • اعداد و شمار
یہ وہ اعداد و شمار ہیں جو سعودی عرب میں آگ بجھانے والے ادارے یعنی محکمہ شہری دفاع نے اپنی ویب سائٹ پر جاری کیے ہیں۔ 
محکمہ شہری دفاع کی طرف سے جاری ہونے والی اعداد و شمار میں کہا گیا ہے کہ گذشتہ سال مکہ ریجن میں آتشزدگی کے سب سے زیادہ واقعات ہوئے۔

آتشزدگی کے واقعات میں 90 فیصد ہلاکتیں جلنے کی وجہ سے نہیں بلکہ دم گھٹنے کی وجہ سے ہوتی ہیں۔ (فوٹو: سبق)

صرف مکہ ریجن میں ایک سال کے دوران آتشزدگی کے 16 ہزار 171 واقعات پیش آئے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مکہ میں روزانہ 44 مقامات پر آگ لگتی ہے۔
محکمہ شہری دفاع کے اعداد و شمار کے مطابق مشرقی ریجن دوسرے نمبر پر ہے جہاں سب سے زیادہ آگ لگنے کے واقعات ریکارڈ کیے گئے ہیں جبکہ تیسرے نمبر پر ریاض، پھر مدینہ، پھر قصیم اور دیگر ریجن آتے ہیں۔
محکمے کا کہنا ہے کہ گذشتہ سال سعودی عرب میں آتشزدگی کے 40 ہزار دو سو واقعات ہوئے جن میں سے 65 فیصد واقعات رہائشی اپارٹمنٹس میں پیش آئے۔
  • اسباب کیا ہیں؟
محکمہ شہری دفاع نے کہا ہے کہ رہائشی اپارٹمنٹس میں لگنے والی آگ کے اسباب کا جائزہ لیا گیا تو معلوم ہوا کہ خطرناک اشیاء سے بچوں کے کھیلنے کی وجہ سب سے زیادہ ہے۔
والدین گھر میں بچوں کی صحیح طور پر نگرانی نہیں کرتے جس کی وجہ سے بچوں کو خطرناک اشیاء سے کھیلنے کا موقعہ ملتا ہے۔ بچے والدین کی غفلت کا فائدہ اٹھا کر کبھی چولہے کو کھول دیتے ہیں یا گیس سلنڈر یا بجلی کی تاروں یا کنکشن کو چھیڑتے ہیں۔
گھریلو خاتون کبھی چولہا چلتا چھوڑ کر بھول جاتی ہے یا کوئی سیال مادہ جیسے پانی یا چائے وغیرہ چولہے پر رکھ کر بھول جاتی ہے۔ ابلنے کے بعد وہ گر جاتا ہے تو آگ بجھ جاتی ہے۔ جدید قسم کے چولہوں میں سیفٹی سسٹم ہے مگر بیشتر گھروں میں اس کا اہتمام نہیں کیا جاتا۔ اس سے گیس لیک ہوتا ہے اور پھر دم گھنٹے کی وجہ سے ہلاکتیں ہوتی ہیں یا پھر اچانک ماچس جلانے سے دھماکہ ہوتا ہے۔
محکمہ شہری دفاع نے کہا ہے کہ گھروں میں آگ لگنے کے دیگر اسباب میں بجلی کی تاروں پر اوور لوڈ بھی ہے۔ بجلی کی ہر ایکسٹینشن کیبل اچھی نہیں ہوتی۔ ایک کیبل پر زیادہ لوڈ ڈالنے سے بھی آگ لگ سکتی ہے۔ 

بجلی کی تاروں اور ایکسٹنشن کیبلوں کو اوور لوڈ کرنے سے بھی آگ لگ سکتی ہے (فوٹو: عاجل)

اکثر لوگوں کی عادت ہے کہ وہ سونے سے پہلے موبائل چارجنگ پر لگا کر سو جاتے ہیں تاکہ صبح جب بیدار ہوں تو موبائل چارچ ہوچکا ہو۔ جدید طرز کے بعض موبائلوں میں یہ خاصیت ہے کہ چارچ ہونے پر بجلی سے کنکشن خود بخود ختم ہوجاتا ہے مگر کبھی کبھار یہ سسٹم خراب ہوجا تاہے اور اکثر موبائلوں میں یہ سسٹم نہیں ہے، اس سے موبائل پھٹنے کا بھی امکان ہوتا ہے۔
  • بچاؤ کا طریقہ کار
محکمہ شہری دفاع نے کہا ہے کہ گھر کے افراد کو چاہئے کہ وہ سونے سے پہلے چولہا بجھانے کی یقین دہانی کریں، گیس سلنڈر کو بند کریں،غیر ضروری لائٹیں بجھا دیں اور بجلی کی تاروں اور بٹنوں کا جائزہ لیتے رہا کریں۔ 
شہری دفاع نے کہا ہے کہ معمولی احتیاط اور سستے آلات کی مدد سے بڑے حادثات سے بچا جا سکتا ہے۔ ہر گھر میں آگ بجھانے والا سلنڈر ہونا چاہیے اور اس کے استعمال کا طریقہ ہر شخص کو آنا چاہیے۔
عام دکانوں میں دستیاب ڈیٹکٹر گھروں میں ضرور نصب کریں۔ دھوئیں اور گیس کے لیکج کے آلات بظاہر بہت معمولی ہیں مگر جان بچانے کے کام آتے ہیں۔ 
اسی طرح ہر گھر میں آگ پر قابو پانے والا کمبل ضرور ہونا چاہیے۔ یہ حادثات کی صورت میں بہت کار آمد ہوتا ہے۔
  • خود کو اپ ڈیٹ رکھیں، واٹس ایپ گروپ جوائن کریں

شیئر: