قیدی جوڑے کی دھوم دھام سے شادی

جیل انتظامیہ کی جانب سے دعوت کا بھی اہتمام کیا گیا تھا، فوٹو: اخبار 24
کہتے ہیں کہ جوڑے آسمانوں پر بنتے ہیں اور ہر کام کا ایک وقت مقرر ہے۔ اس مثال پر عمل کرتے ہوئے مکہ ریجن کی جیل میں ایک قیدی جوڑے کو رشتہ ازدواج میں منسلک کر دیا گیا۔
شادی کی تقریب جدہ جیل کی اندر ہی منعقد کی گئی۔ تقریب میں جیل وارڈن، اہلکار اور قیدیوں کے علاوہ دلہا اور دلہن کے اہل خانہ نے بھی شرکت کی۔ جیل انتظامیہ کی جانب سے شادی کے بعد جوڑے کو جیل میں ہی سجائے جانے والے ایک گھر میں منتقل کر دیا گیا۔

تقریب کا انعقاد اصلاحی سینٹر کے تحت کیا گیا، فوٹو: اخبار 24   

عربی نیوز ویب سبق کے مطابق جدہ کی جیل میں اصلاحی پروگرام کے تحت قیدی خاتون اور اس کے منگیتر کو رشتہ ازدواج میں منسلک کیا گیا۔
جیل وارڈن بریگیڈیئر ماجد الدویش کا کہنا تھا کہ انتظامیہ کی جانب سے اصلاحی منصوبے کے تحت قیدیوں کو معاشرے کا مفید شہری بنانے کے لیے مختلف پروگرام کیے جاتے ہیں۔
اصلاحی پروگراموں میں قیدیوں کو مروجہ تعلیم و تربیت کے علاوہ فنی تعلیم بھی دی جاتی ہے تاکہ وہ آئندہ زندگی بہتر طور پر گزار سکیں۔ اصلاحی پروگراموں میں قیدیوں کے اخلاق و کردار کو سنوارنے کے حوالے سے بھی کافی محنت کی جاتی ہے۔
جیل وارڈن کا کہنا تھا کہ مذکورہ جوڑے کی منگنی تین ماہ قبل جیل میں ہی کی گئی تھی۔ دو روز قبل ان کا نکاح پڑھایا گیا، بعد ازاں انہیں رشتہ ازدواج میں منسلک کر دیا گیا۔ 
وارڈن کا کہنا تھا کہ ’ہماری کوشش ہوتی ہے کہ قیدیوں کی اصلاح کی جائے تاکہ انہیں اپنا مستقبل سنوارنے کا موقع مل سکے۔‘ 

جیل میں جوڑے کے لیے تحائف کا بھی بندوبست کیا گیا تھا، فوٹو: اخبار 24    

مقامی اخبار کے مطابق جدہ کی جیل کے زنانہ اصلاحی سینٹر میں شادی کی تقریب شاندار طریقے سے منعقد کی گئی جس میں تمام قیدی خواتین نے شرکت کی جبکہ دوسری جانب مردانہ حصہ میں بھی تقریب کا الگ انعقاد کیا گیا۔
قیدی خواتین نے بیرکوں کو سجایا اور جوڑے کے لیے تحائف بھی جمع کیے۔ قیدیوں نے شادی کی تقریب میں بھرپور شرکت کی۔ جیل انتظامیہ  کی جانب سے دعوت کا بھی اہتمام کیا گیا تھا جبکہ نئے جوڑے کے لیے جیل کے اصلاحی سینٹر میں ہی مکان کو بھی مقامی روایات کو مدنظر رکھتے ہوئے خصوصی طور پر سجایا گیا۔ 
واضح رہے کہ سعودی عرب کی جیلوں میں اصلاحی مراکز بھی قائم کیے  جاتے ہیں جن کا بنیادی مقصد قیدیوں کی اخلاقی تربیت کرنا اور انہیں معاشرے کا مفید شہری بننے کی ترغیب دینا ہے۔ 
اصلاحی مرکز میں خصوصی طور پر خلوت گھر بھی بنائے جاتے ہیں جہاں ہر چھ ماہ بعد قیدیوں کو ان کے اہل خانہ سے ملاقات کرانے کا بھی خصوصی بندوبست کیا جاتا ہے۔ قیدیوں کی درخواست پر انہیں مذکورہ خصوصی مکان میں 24 گھنٹے اپنے اہل خانہ کے ساتھ گزارنے کی بھی اجازت دی جاتی ہے۔ 
واٹس ایپ پر سعودی عرب کی خبروں کے لیے ”اردو نیوز“ گروپ جوائن کریں

شیئر: