بلدیہ کے اہلکار کو  رشوت لینا  مہنگا  پڑگیا

ملزم سے وہ نوٹ بھی برآمد کر لیے جن کے سیریل نمبر محفوظ تھے.فائل فوٹو ۔ اخبار 24
جازان کمشنری میں بلدیہ کے اہلکار کو 5 سو ریال رشوت طلب کرنا مہنگا پڑ گیا۔ جرم ثابت ہونے پر عدالت نے ایک برس قید اور  جرمانے کی سزا کا حکم سنا دیا۔
مقامی شہری نے اہلکار کے خلاف محکمہ انسداد رشوت ستانی میں شکایت درج کرائی تھی جس پر خفیہ اہلکاروں نے ملزم کی نگرانی کی اور انہیں رنگے ہاتھوں گرفتار کر لیا۔

  بلدیہ کے اہلکار کے رویے سے تنگ شہری نے محکمہ انسداد رشوت ستانی سے رجوع کیا ۔  فائل فوٹو:الریاض اخبار

سبق نیوز نے اپنے ذرائع کے حوالے سے خبر دی ہے کہ جازان کمشنری کی بلدیہ میں ایک شہری کا بلدیہ میں معاملہ رکا ہوا تھا۔ شہری نے متعدد بار متعلقہ اہلکار سے رابطہ کیا تاکہ معاملے کو حل کیا جائے مگر اہلکار کی جانب سے کسی قسم کی کارروائی نہ کی گئی ۔
بلدیہ کے اہلکار نے معاملے کو بلا وجہ طول دیا۔ شہری کی جانب سے متعدد بار رابطہ کرنے پر اہلکار نے اس سے 500 ریال رشوت کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ’رقم ادا کرو تاکہ معاملے پر کارروائی کی جائے۔‘
شہری کا کہنا تھا کہ اس کا معاملہ قانونی طور پر مکمل تھا تمام کاغذی کارروائی مکمل کی گئی تھی اس میں کسی قسم کا نقص نہیں تھا۔ اہلکار کی جانب سے رشوت کے مطالبے پر شہری نے محکمہ انسداد رشوت ستانی سے رابطہ کر کے تمام حالات سے انہیں مطلع کر دیا۔
محکمہ انسداد رشوت ستانی کی ٹیم نے  منظم اور جامع  انداز میں کارروائی کرتے ہوئے عین اس وقت اہلکار کو گرفتا رکر لیا جب اس نے رشوت کی رقم شہری سے وصول کر رہا تھا۔
محکمہ کے اہلکاروں نے ملزم سے وہ نوٹ بھی برآمد کر لیے جن کے سیریل نمبر پہلے سے محکمہ کے پاس محفوظ تھے۔ رشوت خور اہلکار کے خلاف مقدمہ درج کرکے اسے عدالت کے حوالے کر دیا گیا۔
عدالت نے جرم ثابت ہونے پر ملزم کو ایک برس قید، جرمانے اور نوکری سے برخاست کرنے کے احکامات صادر کر دیئے۔
واضح رہے محکمہ انسداد رشوت ستانی کے قانون کی شق نمبر 13 میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ رشوت لینے والے کو فوری طور پر اسکے عہدے سے برخاست کرکے اسے عدالت کے حوالے کیاجائے۔ قانون میں اس حوالے سے مزید وضاحت کی گئی ہے کہ جس پر رشوت لینے کا  الزام ثابت ہو جائے اسے آئندہ کے لیے کسی عہدے پر فائز نہ کیاجائے گا۔

شیئر: