پشاور: پنج تیرتھ مندر کھولنے کا اعلان

پنج تیرتھ مندر کھلنے سے پشاور کے 1200 ہندو خاندان عبادت کر سکیں گے۔ فوٹو: اے ایف پی
انڈیا اور پاکستان کے درمیان کرتارپور راہداری کھلنے کے بعد  دنیا بھر میں سکھ برادری کا دیرینہ خواب پورا ہوا۔ اب پاکستانی حکام کے مطابق ملک کی ہندو برادری کا بھی خواب شرمندہ تعبیر ہونے کے امکانات روشن ہو چکے ہیں۔
پاکستان میں محکمہ متروکہ وقف املاک بورڈ نے پشاور کا پنج تیرتھ مندر کھولنے کے لیے اقدامات شروع کر دیے ہیں۔
پنچ تیرتھ مندر پشاور شہر کے  ہشتنگری میں واقع ہے۔ اس سال کے آغاز میں ان مندروں کو قومی ورثہ قرار دیا گیا تھا اور مندر کی زمین متروکہ وقف املاک بورڈ کے حوالے کی گئی تھی۔

حکام کے مطابق پنج تیرتھ موجودہ دور حکومت میں کھلنے والا دوسرا مندر ہو گا۔ فوٹو: سوشل میڈیا

 اس تاریخی مندر کی زمین پر اب چاچا یونس فیملی پارک ہے۔
اس حوالے سے متروکہ وقف املاک بورڈ کے ڈپٹی سیکرٹری سید فراز عباس نے اردو نیوز کو بتایا کہ ’وزیراعظم عمران خان کے احکامات کے مطابق ملک بھر میں تاریخی مندروں اور گردواروں کی تزئین و آرائش کا کام شروع کیا جا رہا ہے۔ پشاور کا پنج تیرتھ مندر کھولنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں جو جلد ہی مذہبی رسومات کی ادائیگی کے لیے کھول دیا جائے گا۔‘

سید فراز عباس کے مطابق ’پنج تیرتھ مندر کو کھولنے کے لیے قانونی کارروائی مکمل ہو چکی ہے اور اس حوالے سے ڈیڑھ سے دو ماہ میں کام شروع کر دیا جائے گا۔‘

کیا 400 مندر کھولے جا رہے ہیں؟

پاکستان میں کرتارپور راہداری کھلنے کے بعد مقامی اور بین الاقوامی ذرائع ابلاغ میں یہ خبریں بھی سامنے آئیں کہ ملک کے 400 مندروں کو مذہبی رسومات کی ادائیگی کے لیے کھولا جا رہا ہے۔
اس حوالے سے سید فراز عباس نے کہا کہ ’400 مندر کھولنے میں کوئی حقیقت نہیں، ہم جائزہ لے رہے ہیں کہ کون کون سے مندر اور گردوارے مذہبی رسومات کی ادائیگی کے لیے کھولے جا سکتے ہیں۔‘
 مستقبل قریب میں تو پشاور کا پنج تریتھ مندر کھولا جائے گا اور یہ پچھلے ڈیڑھ سال میں دوسرا مندر ہو گا جبکہ اس کے علاوہ دو گردوارے بھی کھولے جا چکے ہیں۔‘
 

پاکستان کے صوبہ خیبرپختونخوا میں ہندو برادری کے لیے کام کرنے والے ہارون سربدیال کہتے ہیں کہ ’اب پاکستان کے ہندو بغیر ویزے کے یاترا کر پائیں گے۔ ہمارے مذہبی عقیدے کے مطابق مرنے کے بعد آٹھ سوال پوچھے جائیں گے جن میں ایک اس یاترا کا بھی ہے۔‘

ہندو رہنماؤں کے مطابق بند مندر کھولنے سے مذہبی رواداری کو فروغ ملے گا۔ فوٹو: اے ایف پی

ہارون سربدیال کے مطابق ’پاکستان میں 400 سے زائد مندر اور گردوارے ہیں جو کہ اب بند ہو چکے ہیں اگر ان کو کھولا جائے تو مذہبی ہم آہنگی کے ساتھ سیاحت کو بھی فروغ ملے گا۔‘
سید فراز عباس کہتے ہیں کہ ’متروکہ وقف املاک بورڈ کی زیر نگرانی پاکستان میں اس وقت کل 22 گردوارے اور 15 کے قریب مندر ہیں جہاں مذہبی رسومات ادا کی جاتی ہیں۔‘
ان کے مطابق ’پاکستان میں موجود ہر مندر اور گردوارہ تو نہیں کھولا جا سکتا، اس کے لیے کچھ ضروری باتوں کا جائزہ لینے کے بعد ہی مندر یا گردوارے  کو مذہبی رسومات کے لیے کھولنے کے اقدامات کیے جائیں گے۔‘
انہوں نے بتایا کہ ’ہر مندر یا گردوارہ کھولنا ممکن نہیں، ہم جائزہ لے رہے ہیں کہ کن عبادت گاہوں کا تاریخی پس منظر ہے اور اس علاقے میں کیا ایسے لوگ موجود ہیں جو وہاں جا کر عبادت کر سکتے ہیں؟ ان عوامل کا جائزہ لینے کے بعد ہم عبادت گاہیں کھولنے کے حوالے سے اقدامات کریں گے۔‘

 

انہوں نے مزید بتایا کہ ’سیالکوٹ کے تاریخی شوالہ تیجا سنگھ مندر کے بعد پشاور کا پنج تیرتھ دوسرا مندر ہو گا جو اس دور حکومت میں مذہبی رسومات کے لیے کھولا جائے گا ۔ اس کے علاوہ گذشتہ ڈیڑھ سال میں دو گردوارے بھی کھولے گئے ہیں۔‘

پنج تیرتھ مندر کی اہمیت کیا ہے؟

چیف ہیڈ ہندو کمیونٹی خیبر پختونخوا ہارون سربدیال کے مطابق ’پنج تیرتھ مندر کی فن تعمیر راجا رنجیت سنگھ کے دور کی بتائی جاتی ہے۔ یہ مندر قیام پاکستان کے بعد بند ہو چکا تھا بلکہ اس کے اطراف تو قبضہ تک کر لیا گیا تھا، یہ ایک پورا کمپلیکس ہے جہاں پر پانچ مندر موجود ہیں۔‘
پنج تیرتھ کی مذہبی اہمیت کے حوالے سے ہارون سربدیال کہتے ہیں کہ ’اب پشاور کی ہندو کمیونٹی تو دن میں کئی بار یاترا کر سکے گی اور پورے ملک کے ہندو اب بغیر ویزے کے یاترا کر سکیں گے جس کے لیے ہمیں پہلے انڈیا جانا پڑتا تھا، اس سے بڑھ کر ہمیں اور کیا چاہیے۔‘

حکام کا کہنا ہے کہ اس سے قبل شوالہ تیجا ٹیمپل سیالکوٹ کو عبادت کے لیے کھولا گیا تھا۔ فوٹو: سوشل میڈیا

انہوں نے مزید کہا کہ ’ہندو برادری کا یہ دیرینہ مطالبہ تھا کہ پنج تیرتھ کو مذہبی رسومات کی ادائیگی کے لیے کھولا جائے جو کہ اب پورا ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔‘
 

ہارون سربدیال کے مطابق ’پنج تیرتھ مندر کھلنے سے پشاور کے 12 سو سے زائد خاندان جبکہ خیبر پختونخوا کے 55 ہزار ہندو اپنی عبادات کر سکیں گے اور ملک کے 80 لاکھ ہندو یہاں کی یاترا بھی کر سکیں گے۔‘ 

شیئر: