ایک لاکھ ریال جرمانہ پارسل کمپنی پر کیوں؟

 ڈاک سروس فراہم کرنے والی کمپنی اضافی چارجز وصول کرنے کی کوشش نہ کرے۔ فائل فوٹو
انفارمیشن ٹیکنالوجی اینڈ کمیونیکیشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ کوئی بھی ڈاک سروس پیش کرنے والی کمپنی کسی بھی صارف سے پیشگی معاہدے اور اس کی منظوری کے بغیر پارسل پر اضافی چارجز وصول نہیں کرسکتی۔ یہ غیر قانونی ہوگا۔ اس پر جرمانہ کیا جائے گا۔
عکاظ اخبار کے مطابق بعض پارسل کمپنیاں صارفین کی سادہ لوحی سے ناجائز فائدہ اٹھا رہی تھیں۔ پارسل بھیجنے والوں سے مقررہ چارجز کی وصولی کے علاوہ مختلف عنوانوں سے کئی اور فیسوں کا مطالبہ کرکے انہیں پریشان کررہی تھیں۔
انفارمیشن ٹیکنالوجی اینڈ کمیونیکیشن کمیشن نے ڈاک خدمات سے فائدہ اٹھانے والوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے ایک دستاویز جاری کی جس میں حقوق کے تحفظ کی ضمانتیں بیان کی گئی ہیں۔

 ڈاک خدمات فراہم کرنے والوں کی نگرانی کے لیے تفتیشی دورے کیے جارہے ہیں۔ فائل فوٹو

انفارمیشن ٹیکنالوجی اینڈ کمیونیکیشن کمیشن نے دستاویز پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے ڈاک خدمات فراہم کرنے والی کمپنیوں کو انتباہ دیا ہے کہ ان کی سرگرمیوں پر مسلسل نظر رکھی جارہی ہے۔
کمیونیکیشن کمیشن نے اعلامیہ جاری کرکے بتایا کہ ایک پارسل کمپنی پر مقررہ ضوابط کی خلاف ورزی پر ایک لاکھ جرمانہ کردیا گیا۔ کمپنی نے پارسل بھیجنے والے سے مختلف عنوانوں سے اضافی چارجزکا مطالبہ کیا تھا جبکہ پہلے سے نہ تو اس کا کوئی تذکرہ کیا گیا تھا اور نہ ہی اس سلسلے میں پارسل بھیجنے والے سے کسی قسم کا کوئی معاہدہ ہوا تھا۔
 بورڈ نے توجہ دلائی ہے کہ ڈاک خدمات فراہم کرنے والوں کی نگرانی کے لیے تفتیشی دورے کیے جارہے ہیں۔ صارفین کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنایا جایے گا۔
انفارمیشن ٹیکنالوجی اینڈ کمیونیکیشن کمیشن نے نومبر2019ءکو ایک اعلامیہ جاری کرکے ڈاک صارفین سے کہا تھا کہ اگر ڈاک سروس فراہم کرنے والی کمپنی کسی ایسے عنوان سے اضافی چارجز وصول کرنے کی کوشش کرے جس کا پہلے سے کوئی تذکرہ نہ ہوا ہو اور اس کی بابت کوئی معاہدہ نہ ہوا ہو تو ایسی صورت میں 19966 یا ویب سائٹ https://www.citc.gov.sa پر رابطہ کرکے مطلع کیا جائے۔ ایسی کمپنی کے خلاف قانونی کارروائی ہوگی۔
                      
خود کو اپ ڈیٹ رکھیں، واٹس ایپ گروپ جوائن کریں

شیئر: