سعودی عرب میں آزاد کاروبار کے ضوابط کیا ہیں؟

وزیر محنت نے آزاد کاروبار گیٹ کے دوسرے مرحلے کا افتتاح کر دیا فوٹو: سوشل میڈیا
سعودی عرب نے آزاد کاروبار کے ضوابط جاری کردیے ہیں۔ 123 سے زیادہ پیشوں میں سعودی شہریوں کو آزاد کاروبار کی اجازت دی گئی ہے۔
سبق ویب سائٹ کے مطابق وزیر محنت و سماجی بہبود احمد بن سلیمان الراجحی نے ملک میں آزاد کاروبار کے ضوابط کی منظوری دی ہے۔ انہوں نے آزاد کاروبار گیٹ کے دوسرے مرحلے کا افتتاح کر دیا۔
آزاد کاروبار پروگرام کا مقصد سعودی شہریوں کو روزگار کے نئے مواقع فراہم کرنا اور باصلاحیت نوجوانوں کو غیر روایتی انداز میں کاروبار کی سہولتیں مہیا کرنا ہیں۔

آزاد کاروبار پروگرام کا مقصد سعودی شہریوں کو روزگار کے نئے مواقع فراہم کرنا ہے فوٹو: سوشل میڈیا

آزاد کاروبار کی پالیسی سعودی نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے دروازے کھولے گی۔ اس سے ان کے اندر خود اعتمادی اور خودچمختاری پیدا ہوگی۔ 123 سے زیادہ پیشے اس حوالے سے مختص کیے گئے ہیں۔ جو سعودی بھی ان پیشوں میں سے کسی ایک میں آزادانہ کاروبار کرنا چاہے گا اسے اس کا اجازت نامہ جاری کیا جائے گا۔
وزارت محنت و سماجی بہبود کے ترجمان خالد ابا الخیل نے سعودی خبررساں ادارے ایس پی اے کو بتایا کہ ’ آزاد کاروبار کرنے والوں کے لیے ای گیٹ کے اجرا سے انہیں بڑی سہولتیں ہوں گی۔ یہ مطلوبہ معلومات درج کرنے پر خودکار نظام کے تحت اجازت نامہ حاصل کرسکیں گے‘۔
’ جس سعودی شہری کے پاس کسی بھی پیشے کے حوالے سے آزادانہ کاروبار کا اجازت نامہ ہو گا وہ اس کی بدولت کسی بھی کمرشل بینک میں اپنا اکاﺅنٹ کھلوا کر خصوصی رعایت حاصل کرسکے گا‘۔ 
کمرشل بینک آزاد کاروبار کا اجازت نامہ رکھنے والے سعودی شہری کو مالیاتی سہولتیں فراہم کرے گا۔ کمپنیوں سے مراعات حاصل کرسکے گا۔ مختلف قسم کا لین دین قانون کے دائرے میں لا سکے گا۔

سعودی شہری کے پاس آزادانہ کاروبار کا اجازت نامہ ہو گا فوٹو: سوشل میڈیا

کسی بھی پیشے میں آزادانہ کاروبار کے خواہش مندوں کے حوالے سے شرائط کا تذکرہ کرتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ’ امیدوار ای گیٹ کے ذریعے اندراج کرائے گا اور اجازت نامہ حاصل کرے گا۔ اس کے بعد اسے مطلوبہ دستاویزات پیش کرنا ہوں گی‘۔
’ ایسی دستاویزات طلب کی جائیں گی جس سے یہ ثابت ہوسکے کہ وہ مطلوبہ کاروبار کی اہلیت رکھتا ہے۔ اہلیت کے حوالے سے دو چیزیں مطلوب ہوں گی ایک تو علمی لیاقت، دوسری تربیتی کورس اور سرٹیفکیٹ پیش کرنا ہوگا۔ اگر کوئی تجربہ نہیں ہو گا تو اسے تربیتی کورس کرنا ہو گا اور اس کی سہولت مہیا کی جائے گی‘۔
واٹس ایپ پر سعودی عرب کی خبروں کے لیے ”اردو نیوز“ گروپ جوائن کریں

شیئر: