Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ایرانی حملوں کے خلاف دفاع کا حق رکھتے ہیں، مذاکرات پر زور: جی سی سی، یورپی یونین اعلامیہ

خلیجی ممالک پر ایران کے بلا جواز حملوں کی شدید مذمت کی گئی ( فوٹو: اخبار 24)
خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) اور یورپی یونین کے وزرائے خارجہ نے جمعرات کو مشرق وسطی میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور جی سی سی ملکوں کے خلاف ایران کے ناقابل معافی حملوں پر غور کے لیے اجلاس کا انعقاد کیا۔
جی سی سی کی جانب سے بحرین کے وزیر خارجہ اور کونسل کے موجودہ وزارتی اجلاس کے سربراہ ڈاکٹر عبداللطیف بن راشد الزیانی نے صدارت کی۔
رکن ممالک کے وزرائے خارجہ اور خلیج تعاون کونسل کے سیکرٹری جنرل جاسم البدیوی، یورپی یونین کی خارجہ امور اور سلامتی پالیسی کی اعلی نمائندہ اور یورپی کمیشن کی نائب صدر کایا کالاس، یورپی یونین کی کمشنر برائے بحیرہ روم و خلیج ڈوبراوکا سوکا اور یورپی  وزرائے خارجہ بھی اجلاس میں شریک ہوئے۔
اجلاس میں بلاجوازایرانی حملوں کی شدید مذمت کی گئی جو علاقائی اور بین الاقوامی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔ ایران پر زور دیا کہ وہ فوری اور غیرمشروط طور پر حملےبند کرے۔ یورپی یونین نے جی سی سی ملکوں کے ساتھ یکجہتی کا اعادہ کیا۔
سعودی خبررساں ایجنسی (ایس پی اے) کے مطابق  غیرمعمولی غیرمعمولی اجلاس کے بعد جاری مشترکہ بیان میں خلیج تعاون کونسل اور یورپی یونین کے مابین سٹریٹیجک شراکت داری کی اہمیت پر زور دیا  گیا جو 1988 کے تعاون معاہدے پر مبنی ہے جسے اکتوبر 2024 میں برسلز میں اجلاس میں مزید مضبوط کیا گیا تھا۔
وزرائے خارجہ نے خلیجی ممالک پرایران کے بلا جواز حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ کارروائیاں علاقائی اور عالمی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔ 
بیان میں علاقائی استحکام کے لیے عزم کا اعادہ کیا گیا۔ شہریوں کے تحفظ، بین الاقوامی قانون وعالمی انسانی قانون ککے مکمل احترام اور اقوام متحدہ کے چارٹرکے اصولوں کی پاسداری پر زوردیا گیا۔
اجلاس میں ایران کے جوہری پروگرام اوربیلسٹک میزائل پروگرام پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا اور ایران پر زور دیا کہ وہ اس پروگرام کو محدود کرے۔ خطے اور یورپ میں عدم استحکام پیدا کرنے والی سرگرمیوں سے باز رہے اور اپنے ہی عوام کے خلاف تشدد کا سلسلہ بند کرے۔
اجلاس نے خلیجی ملکوں پر حالیہ ایرانی حملوں سے ہونے والے شدید نقصان کا جائزہ بھی لیا،جس  میں سول انفراسٹرکچر، تیل تنصیبات، سروسز سینٹرز اور رہائشی علاقوں کو نشانہ بنایا گیا جس کے باعث بڑے پیمانے پر مالی نقصان ہوا اور شہریو ں کی جان ومال کو خطرات لاحق ہوئے۔
 مشترکہ بیان میں حملوں سے قبل یورپی یونین اور خلیجی ممالک کی جانب سے کی جانے والی سفارتی کوششوں کو بھی سراہا گیا۔ اس عزم کو اجاگر کیا گیا کہ خلیجی ممالک اپنی سرزمین کو ایران کے خلاف حملوں کے لیے استعمال ہونے نہیں دیں گے۔
وزرائے خارجہ نے بحران کے حل کے لیے مکالمے اور سفارتکاری کو بنیادی حل قرار دیتے ہوئے سلطنت عمان کے تعمیری کردار کی  تعریف کی اور خطے میں امن و استحکام کی بحالی کی کی ضرورت کو اجاگر کیا۔
اقوام متحدہ کے منشور کے آرٹیکل 51 کے تحت خلیجی ممالک کے اس بنیادی حق کو بھی یاد دلایا گیا کہ وہ ایرانی مسلح حملوں کے مقابلے میں انفرادی اور اجتماعی طور پر اپنا دفاع، سلامتی، استحکام اور شہریوں کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کرنے کا حق رکھتے ہیں۔
وزرا نے اس بات پر اتفاق کیا کہ مشترکہ سفارتی کوششوں کے ذریعے ایسا مستقل حل تلاش کیا جائے جس سے ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکا جاسکے۔ ایرانی بیلسٹک میزائلوں، ڈرونز اور دیگر خطرناک ٹیکنالوجی کی تیاری اور پھیلاو کو محدود کیا جاسکے، علاوہ ازیں ایرانی عوام کو اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرنے دیا جائے۔
اجلاس میں علاقائی فضائی حدود، سمندری راستوں اور جہاز رانی کی آزادی کے تحفظ کی اہمیت پر بھی زوردیا گیا، جن میں ابنائے ہرمز اور باب المندب شامل ہیں۔  توانائی  کی عالمی مارکیٹوں کے استحکام  کی اہمیتِ سپلائی چین کے تحفظ کی ضرورت کو اجاگر کیا گیا۔
بیان میں اس بات پرزوردیا گیا کہ خلیج کا امن اور استحکام عالمی معیشت کے استحکام کے لیے بنیادی حیثیت کا حامل ہے۔ خلیج کی سلامتی یورپ و دنیا کی سلامتی سے گہرا تعلق رکھتی ہے۔
اجلاس میں  یورپی یونین کی بحری دفاعی کارروائیوں ’اسپیڈس‘ اور آپریشن ’اٹلانٹا‘ کی اہمیت کو بھی تسلیم کیا جو اہم سمندری راستوں کے تحفظ اور سپلائی چین میں کو بحال رکھنے میں اہم کردار ادا کررہی ہیں، ان کارروائیوں کے لیے تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیا گیا۔

 

شیئر: